Home » کالم » اداریہ » آبی قلت کے خاتمے کاعدالتی عزم
adaria

آبی قلت کے خاتمے کاعدالتی عزم

adaria

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم بنانے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئےکہا ہے کہ اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور اپنا کردار ادا کرے گی اس وقت پاکستان میں بحث کالا باغ ڈیم کی نہیں کررہے ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پانی کی قلت کیسے ختم ہوگی معلوم ہے آئندہ وقتوں میں پانی کی اہمیت کیا ہوگی لیکن چار بھائی جس پر متفق نہیں تو پھر متبادل کیا ہے پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کرلیا ہے ہم ایک ٹیم بنا دیتے ہیں جس میں اعتزاز احسن اوردیگر ماہرین کی خدمات لیں گے ، عید کے بعد سپریم کورٹ کا لاء اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ سیمینار کرائے گا، ماہرین تجاویز دیں بیٹھ کر ایس او پیز بنائیں گے بتایا جائے ملک میں ڈیمز کس طرح بنائے جائیں ، سفارشات دی جائیں ، ہم پارلیمنٹ سے سفارش کریں گے عدالت عظمیٰ کے ریمارکس اس امر کے آئینہ دار ہیں کہ سپریم کورٹ پانی کی قلت کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرے گی، پانی زندگی کا اہم جزو ہے اس کے بغیر حیات ناممکن ہے لیکن صد افسوس کہ زمام اقتدار پر مختلف ادوار میں براجمان اشرافیہ نے ڈیمز بنانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کا نتیجہ آج قلت آب کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ، حکومتیں عوام کو نعروں اور وعدوں پر ٹرخاتی رہیں اور معاملہ سنگینی کی طرف چل نکلا پانی کے معاملے کو جلد ازجلد حل کرنے کیلئے ڈیمز کی تعمیر نہ صرف وقت کی ضرورت بلکہ تقاضا ہے اس مسئلہ کے ادراک کیلئے سپریم کورٹ نے جو راستہ چنا ہے وہ دوررس نتائج کا حامل قرار پائے گا اور اس کے مثبت ثمرات نکلیں گے ، سابق حکومت نے کالا باغ ڈیم پر بے اعتنائی برتی اور مسئلہ لاینحل رہا اب عدالت عظمیٰ نے پانی کے بحران سے نکالنے کیلئے اقدامات کرنے کا جس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ داد بیداد اور قابل ستائش ہے، پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے ہونگے ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے جو پاکستان کے آبی مسائل کا باعث بن رہا ہے ۔ 1960 میں عالمی بینک نے پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کا جو معاہدہ کرایا اس کی پاسداری ہوتی تو پاکستان کیلئے قلت پیدا نہ ہوتی لیکن بھارتی آبی جارحیت نے ہمارے مسائل بڑھا دئیے ہیں بھارت نے راوی ، ستلج اور بیاس کے پانی پر قبضہ کررکھا ہے اور انڈس واٹر معاہدے سے بھی خطرات ہوچکے ہیں جب سیلاب آتا ہے تو بھارت پانی چھوڑ سکتا ہے بھارت کے ڈیمز میں تکنیکی طورپر پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے اس صورتحال سے نمٹنے اور مستقبل کے قحط سے بچنے کیلئے معاً ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہوگی اور ڈیمز کی تعمیر کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ آبی مسئلہ جنم نہ لے اور قلت آب پر قابو پایا جاسکے حکمران طبقے کے قول و فعل میں تضاد نے اس طرح کے مسائل پیدا کیے ہیں سپریم کورٹ نے آبی قلت کے خاتمے کا تہیہ کرکے عوام الناس کے دل جیت لئے ہیں جو کام حکومت کے تھے وہ سپریم کورٹ کو کرنا پڑ رہے ہیں ایک طرف عدالت عظمیٰ فوری انصاف کی فراہمی کیلئے کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہے تو دوسری طرف عوامی مسائل کے ادراک کیلئے مثالی رول ادا کررہی ہے سپریم کورٹ کا کردار تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا ، قلت آب پر قابو پانے اور اس کے مستقبل خاتمے کیلئے ڈیمز بنانا ازحد ضروری ہیں اس مسئلے سے پہلو تہی اور کور چشمی ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ چیف جسٹس نے نئے ڈیم تعمیر کرنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ وقت کی نزاکت کے مطابق ہے ،ڈیموں کی تعمیر سے ہی پانی کی قلت پر قابو پایاجاسکتا ہے، مستقبل میں آبی مسائل سے نبردآزما ہونے کیلئے ڈیم انہتائی ضروری ہیں، بھارتی آبی جارحیت کا مقابلہ بھی اسی طرح کیا جاسکتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ڈیم تعمیر ہوں اس وقت پانی کی شدید قلت ہے اور شہری پانی کی بوند بوند کو ترستے دکھائی دے رہے ہیں۔ آبی قلت کے خاتمے کیلئے نئے ڈیموں کی ضرورت ہے۔

چیئرمین روز نیوز ایس کے نیازی کو خراج تحسین
امام کعبہ شیخ صالح ابو طاہر نے راولپنڈی کی سماجی شخصیات سردار فرحان سلیم اور سید اسد گیلانی کی طرف سے دی گئی افطار پارٹی کے موقع پر کہا ہے کہ روز نیوز کا پانچ وقت اذان نشر کرنا اور اپنا اخلاق بنا کر اس پر کاربند رہنا قابل تحسین ہے،اپنی نشریات کے ذریعے اسلامی اقدار کو اجاگر کرنا روز نیوز کا احسن اقدام ہے ، امام کعبہ نے مسلم امہ کی ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعا کرائی ، وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر بھی افطار پارٹی میں شریک ہوئے اور چیئرمین روز نیوز سردار خان نیازی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔ سینیٹر دلاورخان سپیکر آزاد کشمیر شاہ غلام قادر اور دربار عالیہ بلاوڑہ شریف کے سجادہ نشین پیر حق خطیب حسین علی بادشاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانچ وقت اذان نشر کرنے کا اعزاز صرف روز نیوز کو حاصل رہا پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز نیوز کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ یہ جہاں ضابطہ اخلاق پر کار بند وہاں صحافت کے اعلیٰ معیار کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کررہاز ہے یہی وجہ ہے کہ سردار خان نیازی کے ہر طرف چرچے ہیں اسلامی اقدار کو جاگر کرنے میں روز نیوز کوشاں ہے دیگر چینلز کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرح کا ضابطہ اخلاق مرتب کریں تاکہ اچھی روایات جنم لے سکیں۔
فلسطینیوں پراسرائیلی فوج کی بربریت
عالمی یوم القدس پر اسرائیلی فوج نے سفاکی اور بربریت کا کھیل کھیلتے ہوئے غزہ کی سرحد پر جمع مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کرکے 4 فلسطینی نوجوانوں کو شہید اور 600 سے زائد کو زخمی کردیا ، حق واپسی تحریک کے تحت 30 مارچ سے شروع ہونے والے ہفتہ وار گرینڈ مارچ کا سلسلہ گزشتہ روز بھی برقرار رہا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی مظاہرین میں نوجوانوں کی کثیر تعداد کے باہم خواتین اور کم عمر بچے بھی شامل تھے مظاہرین نے غزہ کی سرحد پر ٹائروں کو نذر آتش کیا اور اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کیا جس پر صیہونی فوج نے ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں شہادتیں واقع ہوئیں ۔ اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد125 سے تجاوز کرچکی ہے اور ہزاروں زخمی ہیں اس بربریت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، عالمی برادری اس ظلم کا نوٹس لے ،فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی دہشت گردی دنیا کے منصفوں کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے، مسلمان جہاں بھی ہیں زیر عتاب ہیں۔ آخر کیوں ان عوامل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، نا اتفاقی نے مسلمانوں کو کمزور کررکھا ہے جب تک مسلم ممالک کا اتحاد نہیں ہوگا وہ یوں ہی سفاکی وبربریت کا شکار رہیں گے ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت بھی جاری ہے ، بوسنیا کے مسلما ن بھی ظلم و تشدد کے نشانے پر ہیں ، اقوام متحدہ کا تماشائی بنے رہنا لمحہ فکریہ ہے، امن و سلامتی کے ضامن حقائق سے کیوں منہ موڑ رہے ہیں اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کا نوٹس لیا جائے ، مسلمان ملکوں کو اب نفرتوں کو ختم کرکے ایک ہونا ہوگا تب جاکر سفاکی و بربریت سے چھٹکارہ پائیں گے۔

About Admin

Google Analytics Alternative