تازہ ترین
Home » کالم » ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

یہی کوئی چند روز پہلے کس قیامت کی گرمی تھی خلق خشک زبان باہر آ رہی تھی اور پھر پری مون سون میں ہی بارشیں کچھ اس طرح جم کر برسیں بلکہ برس رہی ہیں کہ ہر طرف جل تھل ہے بلکہ ہر طرف پانی ہی پانی ہے ۔ ماہرین موسمیات نے وارننگ جاری کر رکھی ہے کہ 2025تک وطن عزیز میں سوکھا پر جائے گا وجہ محض یہ کہ ہمارے گزشتہ بلکہ گزشتہ سے پیوستہ سبھی حکمرانوں پانی جمع کرنے پر توجہ ہی نہیں دی ۔ایوب خان کے ڈیموں پر ہی گزارا چل رہا ہے اور پاکستان کا کھا کر پاکستان سے دشمنی کرنے والوں نے کالا باغ جیسا زبر دست ڈیم غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر صوبائیت کا مسئلہ بنا ررکھا ہے لیکن اس میں اُن مخالفین کے ساتھ ساتھ ہمارے حکمرانوں کا بھی اتنا ہی قصور ہے جو محض اپنی حکومتیں بچانے بلکہ اپنا عرصہ اقتدار لمبا کر نے کے لئے اس ڈیم پر کمپورومائز کرتے تھے ورنہ یہ حکمران کوئی اتنے کمزور تو نہیں تھے کہ یوں گھٹنے ٹیک دیتے جو راتوں رات اسمبلیوں میں اپنی تنخواہوں مراعات اور صادق و امین والی 62/63اور سب سے بڑھ کر یہ ختم نبوت جیسے قانون میں ترمیم کرنے میں بھی گناہ عظیم لینے تک پہنچ سکتے تھے ۔ وطن عزیز کی خاطر کالا باغ بھی بنانے پر قادر تھے مگر ان سبھی نے اسے نہ بنا کر ملک و قوم کے ساتھ جرم عظیم کیا ہے اور یوں ہم ہرسال کڑوڑں کیو سک میٹھا پانی اپنی زرخیز زمینوں کے منہ سے چھین کر سمندر کی نذر کر تے رہے جو اب بھی کر رہے ہیں جبکہ اس عرصہ میں دنیا بھر میں چھیالیس ہزار جبکہ چین میں دس ہزار اور بھارت میں سینکڑوں ڈیم بنا کر ان ممالک نے اپنی ذراعت ، معیشت اور توانائی کو محفوظ بنا لیا ہے اور ہم ایک ڈیم کی تعمیر پر تقسیم ہیں خوشی کی بات یہ ہے کہ اب کی بار سپریم کورٹ نے ڈیم بنانے کا عندیہ دے دیا ہے اور خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ عام آدمی میں شعور اور آگاہی آگئی ہے اور 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں دفاعی فنڈ کے لئے ٹیڈی پیسہ ٹینک والا جذبہ کالا باغ ڈیم کے لئے اُ بھر چکا ہے بس اب اگر ضرورت ہے تو محض اتنی کہ اعلان کیا جائے اور فنڈ جمع کرنے کا حکم دیا جائے یہ قوم بڑی بہادر اور شجاع قوم ہے جو اپنی آنے والی نسلوں اور اپنے وطن کو بچانے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے بات چند روز پہلے پڑ نے والی قیامت خیز گرمی سے شروع ہو کر پری مون سون بارشوں سے موسم میں قبل از وقت تبدیلی پر پہنچی تھی یہ تبدیلی محض موسم تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ ملکی سیا ست میں بھی کچھ اسی طرح کی تبدیلی کے آثار ہیں ۔ ہم پر پے در پے حکومتیں کر نے والی جماعتیں اور حکمران آج کل برائے راست عوام کی زد میں اور کچھ عدالتوں، نیب اور دیگر احتسابی اداروں کے ٹارگٹ پر ہیں لوٹی ہو ئی دولت اور مال اُ گلوائے جانے کے امکانات روشن ہو رہے ہیں اور وہ جو خود کو قانون سے ماورا سمجھتے تھے قانون کے شکنجے میں آرہے ہیں جبکہ آئندہ انتخابات کی گہما گہمی بھی چل رہی ہے ۔ ارب پتی اُمید وار غریبوں کی بستیوں اور گھروں میں اپنی قیمتی گاڑیوں سمیت پہنچ کر اُنھیں نئی اُمیدیں سنہرے خواب اور خواہشات دے رہے ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ اس مرتبہ اگر عوام نے صحیح نمائندوں کو چن کر اسمبلیوں میں بھیجا تو گزشتہ کئی دہائیوں سے چلنے والی اپنی نوعیت کی واحد جمہوریت میں تبدیلی بھی آئے گی اور احتساب کا عمل بھی اپنی اصل شکل میں لاگو ہو گا ۔ رشوت، سفارش، اقربا پروری ،لوٹ مارکو بھی لگام ملے گی اور ریاستی وسائل کے ثمرات بھی عوام تک پہنچے گے۔ اس کالم کی وساطت سے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ان سیا ست دانوں کی جائیدادوں کو اُن کی بتائی ہوئی قیمتوں پر بلکہ کچھ منافع دے کر خرید کر ان میں اولڈ ایج ہوم،یتیم خانے اور فلاحی ادارے بنا کر ملک کو فلاحی ریا ست بنانے کے لئے پہلا قدم اُٹھا یا جائے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اکیلا سپریم کورٹ کیا کیاکرے پے در پے ہم پر راج کر نے والے راجوں مہا راجوں نے ملک و قوم اور سرکاری اداروں کو کچھ اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ جہاں معا ملات کو درست کر نے میں بھی دہائیاں لگے گی ۔ آخر میں ایک لطیفہ سن لیں ۔ نگرانوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے واپڈا نے بجلی کے فی یونٹ قیمت بڑھا دی ہے اور گیس کمپنی نے بھی گیس قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان اضافوں پر سب سے زیادہ احتجاج مسلم لیگ نو ن اور پیپلز پارٹی کر رہی ہے جو کہ خود ان اضا فوں کا سبب ہیں اگر وہ اپنے ادوار میں بہتر منصوبہ بندیاں کر تے لُوٹ ماراور عیاشیوں سے پر ہیز کر تے تو آج نگرانوں کو یہ سب کچھ نہ کرنا پرتا لیکن قیمتوں میں اضافوں سے ہو گا کیا مہنگا ئی کا طوفا ن آئے گا ڈالر اور اوپر جائے گا بے روز گاری مہنگائی اور جرائم کی شرح بڑھے گی خود کشیوں اور خود سوزیوں میں کچھ اضافہ ہو گا باقی آپ خود سمجھدار ہیں اندازہ لگا لیں کہ اور کیا کچھ ہو سکتا ہے البتہ ایک شعر پیش خدمت ہے ۔
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے
آگے دیکھئے ہو تا ہے کیا

 

 

About Admin

Google Analytics Alternative