Home » کالم » اورمضامین/کالم » اب بلدیاتی اداروں کو مکمل با اختیار اور فعال بنایا جائے
chinab-kenary

اب بلدیاتی اداروں کو مکمل با اختیار اور فعال بنایا جائے

یہ افسوسناک حقیقت کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ ہماری جمہوری پارٹیوں اور منتخب حکومتوں نے ہی ہمیشہ جمہوری نرسریوں کو برباد کیا اور افسوس کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جمہوریت کی بنیادی اکائیوں کو اگر استحکام ملا ہے تو آمریت کے ہی سیاہ ادوار میں چاہے مقاصد جو بھی تھے ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کا نظام دیا تو ضیاء الحق نے ضلع کونسلوں اوریونین کونسلوں کی شکل میں منتخب بلدیاتی اداروں کا جھال پھیلا دیا جبکہ پرویز مشرف نے ضلعی حکومتوں کے پلان کو نافذ کرتے ہوئے ان ابتدائی نرسریوں کو ایک نئی شان بخشی ۔ پنجاب میں بلدیاتی ادارے 7 برس قبل 2009ء میں اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ختم ہوگئے تھے جس کے بعد بلدیاتی الیکشن کا انعقاد مسلسل کسی نہ کسی وجہ سے ٹالا جاتا رہا ۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پر بھی بوجہ عمل نہ ہوسکا ۔2013ء میں سپریم کورٹ کے حکم پر بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا اور اس برس وہاں چیئرمینوں وغیرہ کا انتخاب کرکے ان اداروں کو مکمل کردیا گیا جہاں اب یہ ادارے پوری طرح س کام کررہے ہیں ۔ صوبہ خیبرپختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مئی 2015ء میں جبکہ سندھ اور پنجاب میں اکتوبر 2015ء میں ہوا ۔ یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں امن و امان کے خلاف صورتحال کو جواز بنا کر پورے آئینی دورانیہ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو سرد خانے کی نذر کیے رکھا۔ بلدیاتی انتخابات اگست 2009ء میں ہو جانا چاہئیں تھے ۔ موجودہ دور میں تین بار بلدیاتی انتخابات کا بادی النظر میں غیر معینہ مدت کیلئے التوا ناقابل فہم رہا ۔ حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی اہمیت سپریم کورٹ نے اجاگر کی اور اسی نے عوام کی منتخب کردہ حکومتوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے میں کسی تامل اور تاخیر سے کام نہیں لیا ۔ بلدیاتی نظام کے تحت ہی لوگ نچلی سطح سے اوپر آکر ملک کی خدمت کرتے ہیں ۔ اس کی روشن مثال ترکی کے صدر جب طیب اردوان ہیں جو استنبول کی میئر شپ سے ترقی کرتے ہوئے ترکی کے وزیراعظم اور بعدازاں صدر کے عہدوں تک پہنچے ۔ بلدیاتی ادارے مہذب ور ترقی یافتہ جمہوری معاشروں اور مملکتوں میں جمہوریت کی نرسری کی حیثیت رکھتے ہیں۔پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ(ن) سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ سال 2016-17 کے صوبائی بجٹ میں بلدیاتی اداروں کیلئے جو فنڈز مختص کیے گئے وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں ۔ شاید پنجاب حکومت اپنی پارٹی کے بلدیاتی سربراہوں کو حقیقی مالیاتی اختیارات دینے کو بھی تیار نہیں ۔ اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ بلدیاتی اداروں کے پہلے چھ ماہ انتہائی کسمپرسی میں گزریں گے تو بے جا نہ ہوگا ۔ محصول کمیٹیوں کی انکم کا بڑا ذریعہ محصول چونگی ہوا کرتا تھا، صوبائی حکومت نے وہ ٹیکس بھی ختم کردیا جس کی وجہ سے ٹی ایم ایز مکمل طورپر صوبائی حکومتوں سے ملنے والے فنڈز کے رحم و کرم پر ہیں۔ ضلع کونسلوں کو البتہ منڈی مویشیاں جیسے چند اہم شعبوں سے کروڑوں روپے حاصل ہوجاتے ہیں لیکن ترقیاتی کاموں کیلئے اور ان منصوبوں کی تکمیل کیلئے تو ہر ضلع کو اربوں روپے درکار ہیں۔ گلی محلے کی سطح کے ترقیاتی کام بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی لیکن ارکان اسمبلی کو نوازنے کے چکر میں اب یہ گرانٹ بھی ایم پی ایز اور ایم این ایز کے ذریعے خرچ کی جاتی ہے۔ شہروں اور دیہاتوں کی مختص ترقیاتی فنڈز پر اولین استحقاق منتخب بلدیاتی نمائندوں کا ہی ہوتا ہے ۔ جہاں تک ارکان پارلیمان کے مروجہ ترقیاتی فنڈز کا تعلق ہے تو اس روایت کو غیر جماعتی بنیادوں پر قائم ہونے والی پارلیمنٹ میں ارکان کی وفاداریوں کو برقرار رکھنے کیلئے سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو نے سیاسی رشوت کے طورپر استعمال کیا۔ بدقسمتی سے اس منفی روایت کو بعد میں قائم ہونے والی منتخب جمہوری حکومتوں نے بھی جاری رکھا حالانکہ تعمیراتی و ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان کا کام ہے نہ کہ ارکان پارلیمان کا۔ ارکان پارلیمان کا اصل کام آئین سازی و قانون سازی ہے۔ جمہوریت کو توانا اور مضبوط بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اب صوبائی اور وفاقی حکومتیں مقامی حکومتوں کو با اختیار بھی بنائیں۔ بلدیاتی اداروں میں منتخب نمائندوں کوبا اختیار کرنے کے بعد صوبائی حکومتیں چھوٹے معاملات کی نگرانی اور ان میں بہتری لانے کی ذمہ داری سے آزاد ہوجائیں گی اور یہ ذمہ داری بلدیاتی نمائندے سرانجام دیں گے ۔ صوبائی حکومتیں بڑے منصوبوں اور صوبے کیلئے پالیسی سازی اور انفراسٹرکچر میں بہتری لانے کی ذمہ داری انجام دینے پر توجہ دے سکیں گی۔ بلدیاتی اداروں کے آخری مرحلے کی تکمیل کے بعد اب ناگزیر ہوچکا ہے کہ محکمہ خزانہ پنجاب ضلعی حکومتوں کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی اور منتقلی کے حوالے سے بھی بلاتاخیر منصوبہ بندی کرے تاکہ بلدیاتی ادارے مضبوط اور با اختیار حیثیت میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔ اتنی بڑی کاوش کرنے کے بعد اگر یہ ادارے اختیارات سے محروم رہے اور وسائل بھی بلدیاتی نمائندوں کودینے کی بجائے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ہی دئیے جاتے رہے تو ظاہر ہے کہ عوام کو اپنے بلدیاتی نمائندے چننے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ اب جبک بلدیاتی ادارے وجود میں آچکے ہیں تو ضرورت ہے کہ بلدیاتی اداروں کو مالیاتی طورپر کمزور کرنے کے واسطے اب تک جتنے بھی متنازع اقدامات کیے گئے ہیں انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈ 2016ء کے تحت بلدیاتی حکومتوں کو دئیے جانے والے وسائل میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اب بلدیاتی حکومتوں کو 391 ارب روپے ملیں گے جبکہ گزشتہ برس ان اداروں کو 274 ارب روپے دئیے گئے تھے ۔ اس طرح گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں مالی سال ملنے والے فنڈز میں 44 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور فنڈز کے استعمال کے حوالے سے باقاعدہ آڈٹ کا نظام بھی وضع کرلیا گیا ہے۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative