Home » کالم » اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں !

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں !

مہدی حسن 1927 ء میں راجستھان کے ایک گاءوں لْونا میں پیدا ہوئے ۔ ان کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی ۔ موسیقی گھرانے سے تعلق ہونے کے ناطے موسیقی کی تربیت تو گھٹی میں پڑی تھی جب آٹھ سال کے تھے تب سے اپنے والد اور چچا سے موسیقی کی تربیت لے رہے تھے ۔ انہیں دیکھ کر مہدی حسن کو بھی تحریک مِلی اور اْنہوں نے صرف آٹھ سال کی عمر میں راجہ کے دربار میں فن کا نمونہ 40 منٹ تک پیش کیا ۔ مہدی حسن کے والد عظیم خاں پاکستان بننے سے ایک سال قبل پنجاب آئے اور مہدی حسن کو اپنی بہن کے گھر (چیچہ وطنی) چھوڑ گئے ۔ اگلے ہی سال پاکستان معرض وجود میں آیا تو خاندان کے باقی افراد بھی پاکستان میں آگئے ۔ چیچہ وطنی میں انہوں نے سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا ،اچھے مکینک بنے ،پھر ٹریکٹر کی مرمت کا کام شروع کر دیا لیکن اس دوران موسیقی کا ریاض جاری رکھا ۔ ان کے بھائی غلام قادر کی سفارش پر ریڈیو پاکستان کراچی پر گانے کا موقع ملا ،ان کا ایڈیشن ہوا تو متعلقہ افسران پانچ گھنٹے تک ان سے غزلیں ،گیت سنتے رہے ۔ انہوں نے آڈیشن لینے والوں کو اس الجھن میں ڈال دیا کہ ان کا شمار کس کیٹیگری میں کیا جائے ۔ آخر 35 روپے کے کنٹریکٹ پر کیٹیگری اے میں ان کی بکنگ ہو گئی ۔ غالبایہ 1952 ء کا سال تھا ۔ ریڈیو کے لیے گاتے ہوئے مہدی حسن نے کئی سال گزارے ۔ اردو ادب کے آسمان پر آفتاب کا درجہ رکھنے سینکڑوں غزلیں مہدی حسن نے اِس کمال سے ،اس محنت سے گائیں کہ پھر کِسی اور گلوگار میں ہمت پیدا نہ ہوئی کہ اْنہیں گانے کا سوچ بھی سکے ۔ پچیس ہزار سے زیادہ فلمی غیر فلمی گیت اور غزلیں گا نے والے مہدی حسن ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ان کا شمار عوام کے پسندیدہ ترین فلمی گلوکاروں میں ہوتا تھا ۔ آج بھی ان کے چاہنے والے ،موسیقی کو سمجھنے والے ،لاکھوں ہیں ۔ ریڈیو اور نجی محافل میں گاتے گاتے وہ فلمی گلوگاری کی طرف آئے ۔ لاہور میں پروڈیوسر ڈائریکٹر رفیق انور کے بھانجے کی شادی کے موقع پر مہدی حسن نے چند فلمی گیت گائے تو رفیق انور نے مہدی حسن کو اپنی فلم ’’شکار‘‘ کے لیے سائن کیا ۔ یہ فلم کراچی میں بن رہی تھی ۔ اِس میں مہدی حسن نے دو غزلیں گائیں ۔ ’’میرے خیال و خواب کی دنیا لئے ہوئے ‘‘ مہدی حسن کا پہلا ریکارڈیڈ فلمی گانا ہے ۔ اِسی فلم میں اْنہوں نے ’’نظر مِلتے ہی دِل کی بات کا چرچا نہ ہو جائے ‘‘ بھی گایا ۔ ’’شکار‘‘ 1956 ء میں ریلیز ہوئی ۔ مگر اِس سے قبل ’’کنواری بیوہ‘‘ ریلیز ہوئی جس میں مہدی حسن نے تین گیت (’’تم ملے ، زندگی مسکرانے لگی‘‘، ’’کوئی صورت نہیں اے دل‘‘ اور ’’آنکھوں میں چلے آوَ‘‘) گائے تھے ۔ اسی سال یعنی 1956ء میں مہدی حسن نے ’’مس 56‘‘ میں دو گیت ’’یہ چاندنی یہ سائے ‘‘ اور ’’محبت کرلے جی بھرلے ‘‘ گائے تھے ۔ ان کے ابتدائی نغمات میں نذیر بیگم کے ساتھ گایا ہوا ’’یہ چاندنی، یہ سائے ‘‘بھی کافی پسند کیا گیا ۔ لیکن ہدایات کار خلیل قیوم کی فلم ’’فرنگی ‘‘ (جو 18 دسمبر 1964ء کو ریلز ہوئی) فیض احمد فیض کا لکھا گیت جس کے بول تھے ’’گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے ‘‘اور فلم’’سسرال‘‘کے گیت جس کے بول تھے ’’جس نے میرے دل کو درد دیا‘;34; یہ گانے ریڈیو پاکستان سے نشر ہو ئے تو کراچی سے لے کر خیبر تک لوگوں نے دل تھام لئے تھے ۔ ان گیتوں نے مہدی حسن کو مشہور کیا ،مقبول بنایا مہدی حسن کو گلی گلی مشہورکردیا ۔ ان گیتوں کے بعد مہدی حسن کے لئے کامیابی کے دروازے کھلتے چلے گئے ۔ فلم ’’گھونگھٹ’’مجھ کو آواز دے کہاں ہے ‘‘ ’’جان جاں تو جو کہے گاءوں میں گیت تیرے ‘‘’’یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم ۔ ۔ ۔ کہانی محبت کی زندہ رہے گی‘‘فلم ’’چاہت ‘‘ ’’پیار بھرے ، دو شرمیلے نین‘‘ ۔ اس گیت کا سب سے بڑا کریڈیٹ یہ تھا کہ فلم نے محض گانے کی بنا پر سلور جوبلی کی ۔ فلم ’’میری زندگی ہے نغمہ‘‘ ۔ کے ایک گیت’’ اک حسن کی دیوی سے تجھے پیار ہوا تھا‘‘ فلم’’داستان‘‘ اگرچہ بری طرح فلاپ ہوئی لیکن اس کا ایک گانا ’’قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے ‘‘بہت مشہور ہوا ۔ اس کے علاوہ ’’زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں ‘‘ ’’مجھے کر دے نا دیوانہ تیرے انداز مستانہ ‘‘ جیسے نغمات نے بھی دھوم مچا ئی ۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے اْنہیں شہنشاہِ غزل کا خطاب دیا اور اْنہوں نے اِس خطاب کا حق ادا کردیا ۔ مہدی حسن نے 45 سالہ فلمی کیریئر میں 441 فلموں کے لیے 626 گیت گائے ۔ اْنہوں نے 366 اردو فلموں کے لیے541 اور 74 پنجابی فلموں کے لیے 82 گیت گائے ۔ انہوں نے 1962 ء سے1989 ء تک 28 تک مسلسل فلموں کے لیے گائیکی کی تھی ۔ فلمی گیتوں میں ان کے سو سے زیادہ گانے اداکار محمد علی پر فلمائے گئے ۔ 2000 ء میں ریلیز ہونے والی ’’چن پتر‘‘ مہدی حسن کی آخری فلم تھی ۔ مہدی حسن نے 50 سے زائد ایسے فلمی گیت بھی گائے جن کی فل میں ریلیز نہ ہوسکیں ۔ مہدی حسن کو بے شمار ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا ۔ چند اعزازات کا ذکر درج ذیل ہے سال 1964ء ۔ فلم فرنگی ۔ 1968ء ۔ فلم صائقہ ۔ 1969ء ۔ فلم زرقا ۔ 1972ء ۔ فلم میری زندگی ہے نغمہ ۔ 1973ء ۔ فلم نیا راستہ ۔ سال 1974ء ۔ فلم شرافت ۔ سال 1975ء ۔ فلم زینت ۔ سال 1976ء ۔ فلم شبانہ سال 1977ء ۔ فلم آئینہ ۔ میں ان کو کل 9 نگار ایوارڈ دئیے گے ۔ اس کے علاوہ جنرل ایوب خان نے انہیں تمغا امتیاز سے نوازا ۔ سال 1979 ء میں جالندھر (انڈیا) میں سیگل ایوارڈ حاصل کیا ۔ سال 1983ء میں نیپال میں گورکھا دکشینا باہو ایوارڈ حاصل کیا ۔ سال 1985 ء میں جنرل ضیاء الحق نے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا ۔ جنرل پرویز مشرف نے ہلال امتیاز سے نوازا ۔ مہدی حسن کو پاکستان ٹیلی ویثرن کراچی سینٹر نے جولائی 2001 ء میں لاءف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا ۔ اْن کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اْستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے ۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے اْن کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا ۔ کافی عرصہ علالت میں گزارنے کے بعد بالآخر 13 جون 2012ء کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں جہان فانی سے رخصت ہو گئے ۔ شہنشاہ غزل مہدی حسن کو پرستاروں سے جدا ہوئے سات برس بیت گئے ہیں ۔ لیکن وہ آج بھی مداحوں کے دلوں میں اپنے فن کی بدولت زندہ ہیں ۔ مہدی حسن نے پسماندگان میں نو بیٹے اور چھ بیٹیاں اور دنیا بھر میں ان گنت افراد کو سوگوار چھوڑا ’شہنشاہ غزل‘ کا مزار ویران پڑا ہے ،قریبی رشتے داروں کے علاوہ کوئی کم ہی مزار جاتا ہے مزار کا کوئی دروازہ نہیں ،درخت نہیں وہاں ،بورڈ تک نہیں ہے ۔ قبر کے سرہانے جو کتبہ ہے اس پر لکھا ہے ’اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں گے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative