Home » کالم » اداریہ » اداروں سے ٹکراؤ جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں
adaria

اداروں سے ٹکراؤ جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں

adaria

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے پسرور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں سیاستدانوں کے سوا کسی کااحتساب نہیں ہوتا ، جرنیل اور جج جیسی عزت سیاستدان کو بھی ملنی چاہیے، پاکستانی عوام اپنے ووٹ سے جوفیصلہ کریں اس کی عزت ہونی چاہیے، کسی دوسرے ملک کاویزہ لینے پر سیاستدان کو تاحیات نااہل قراردینا ملک کیلئے اچھا نہیں ، ہم نے عدالتی فیصلے سرآنکھوں پررکھے ،ملک میں کہیں بھی جائیں نون لیگ کے منصوبے نظرآئیں گے، وسائل مشرف اور زرداری کے پاس بھی یہی تھے جن کو ہم نے استعمال کیا۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک چلانا عدلیہ کاکام نہیں سیاستدان شیشے کے گھر میں رہتا ہے اس نے شرافت ،خدمت کی سیاست کو پروان چڑھایا عوام ہرپانچ سال بعد احتساب کرتی ہے اداروں کو قانونی دائرہ کار میں رہ کرکام کرناچاہیے ۔ وزیراعظم نے درست فرمایا عدلیہ کاکام حکومت چلانا نہیں لیکن جب حکومت اپنا کام بطریق احسن نہ کررہی ہو عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہوں، لوگ عدم تحفظ کاشکار ہوں ،نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھررہے ہوں، خودساختہ مہنگائی نے عوام کاجینا حرام کررکھا ہو، عوام کامعیار زندگی مسلسل گرتا جارہا ہو ،ملاوٹ ،ذخیرہ اندوزی ،اقرباپروری ہورہی ہو، تعلیم وصحت کی سہولتوں کافقدان ہو،ملک میں بدامنی کے بادل سروں پرمنڈلا رہے ہوں ،بدعنوانی کاناسور پھیلتا جارہا ہو، ہر ادارہ کرپشن زدہ بنتا جارہا ہو، مقننہ قانون سازی کی بجائے ترقیاتی کاموں پر لگی ہو، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئے دن بڑھ رہی ہوں ،مزدوروں کو گولیوں سے چھلنی کیا جارہا ہو اور عوام پر ٹیکس کابوجھ ڈالا جارہا ہو،امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہو ،تعلیم نظام انحطاط کاشکار ہو، غریب کابچہ تعلیم سے محروم ہو ملک میں طبقاتی نظام ہو ،بجلی وگیس کی لوڈشیڈنگ ہو اور لوگ پینے کے پانی کے صاف پانی سے محروم ہوں، سکول وہسپتال مسائل زدہ ہوں تو اس عالم میں چیف جسٹس مسیحائی کاکردار ادا نہ کریں تو پھر کیا کریں حکومت اپنے فرائض نبھاتی تو عدلیہ انصاف کی فراہمی تک خود کو محدود رکھتی حکومت لوگوں کے جان ومال کے تحفظ میں ناکام قرار پائے تو پھر عدلیہ نے ہی کردار ادا کرناہے۔ ہاں جہاں تک احتساب کاتعلق ہے یہ بلاامتیاز ہوناچاہیے جب تک ملک میں کڑااحتساب نہیں ہوگا ملک ترقی نہیں کرپائے گا ۔بدعنوانی ملکی ترقی میں رکاوٹ ہے عدلیہ کے خلاف سیاستدان جو بیان بازی کررہے ہیں ہماری نظر میں وہ درست نہیں ہے عدالتیں جو فیصلہ دیتی ہیں وہ آئین وقانون کے تناظر میں دیتی ہیں۔بہتر یہی ہے کہ اداروں سے ٹکراؤ کاراستہ اختیارنہ کیاجائے چیف جسٹس جہادکررہے برائی کے خلاف ،کرپشن کیخلاف عوامی حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں حکومت کو داد دینی چاہیے آج ملک کو کئی چیلنجز کاسامنا ہے ایک طرف مکار دشمن دہشت گردی کے ذریعے اس کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف عدم سیاسی استحکام پریشان کن ہے حکومت اپناکام کرے عدلیہ انصاف کی فراہمی اور بنیادی انسانی حقوق کیلئے جو کردار ادا کررہی ہے وہ عوام کی امنگوں کاترجمان ہے ملک کو کرپشن سے پاک کئے بغیر ترقی کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ آج علامہ اقبالؒ اورقائداعظمؒ کاپاکستان ہم سے یہ سوال کررہا ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد کہاں گئے اورکب فلاحی ریاست بنے گا ۔ آئیے مل کر اس وطن کی تعمیروترقی وخوشحالی کیلئے کردار ادا کریں یہ وطن ہمارا ہے اور ہم ہیں پاسباں اس کے۔ حکومت اپنا کام کرے عدلیہ اپنا کام کررہی ہے انصاف لوگوں کوملتادکھائی دے رہا ہے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے بھی عدلیہ کاکردار قابل فراموش قرارپائے گا۔

دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے 11دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے ان دہشت گردوں کوملٹری کورٹ نے سزا دی تھی جبکہ عدالت کی جانب سے تین دیگردہشت گردوں کو مختلف مدت کی سزا بھی سنائی گئی جملہ دہشت گردوں کاتعلق کالعدم تنظیموں سے ہے یہ دہشت گرد سنگین کارروائیوں میں ملوث تھے سزا پانے والے دہشت گرد مسلح افواج قانون نافذ کرنے والے اداروں، مالاکنڈ یونیورسٹی پرحملوں اور شہریوں کے قتل میں بھی ملوث ہیں دہشت گردوں نے مجسٹریٹ کے سامنے خیبرپختونخوا کے صوبائی رکن اسمبلی عمران خان مہمندسمیت مجموعی طورپر60شہریوں کو قتل اور36افراد کو زخمی کرنے کااعتراف بھی کیا ۔سزائے موت پانے والوں میں عارف اللہ، بخت محمد، برہان الدین،محمدزیب، سلیم، عزت خان، محمدعمران، یوسف خان، شہیرخان، گل خان اورنادرخان شامل ہیں۔ ملٹری کورٹ کی سزائیں دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کاذریعہ قرار پارہی ہے دہشت گرد ملک وقوم کے دشمن ہیں ان کو عبرت کانقصان بنا کرہی انصاف کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں دہشت گردی کیخلاف پاک فوج اورملٹری کورٹ کاکردار داد بیداد ہے ۔ دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں آئین وقانون کے تناظر میں فیصلہ سنارہی ہیں جن سے فوری انصاف کی فراہمی دیکھنے کو مل رہی ہے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کوناقابل تلافی جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے لیکن عسکری قیادت دہشت گردی کے ناسور کوجڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی رو کے مطابق عملدرآمد کیاجاتا تو موثر نتائج سامنے آتے دہشت گرد امن کے دشمن ہیں دنیا کا کوئی مذہب دھماکوں اور خود کش حملوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو اڑانے کی اجازت نہیں دیتا ملٹری کورٹ کادہشت گردی کے خاتمے میں کردار انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ دہشت گرد اپنے کئے کی سزا پارہے ہیں اور عبرت کانشان بن رہے ہیں۔
کوئٹہ کے دل خراش واقعات
کوئٹہ کے دولرزہ خیزواقعات نے ایک بارپھر عوام میں خوف وہراس پھیلادیا ہے ، پہلے واقعہ میں چھ مزدوروں کو ابدی نیندسلادیا گیا ہے جبکہ دوسرے واقعہ میں کوئلے کی کانیں بیٹھ جانے سے 18افراد موت کی وادی میں چلے گئے۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بلوچستان کے ضلع خاران میں6 مزدوروں کے قتل اورضلعی چیئرمین کے اغوا کاازخودنوٹس لیتے ہوئے کیس کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کاحکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز نامعلوم افراد کی اندھادھندفائرنگ کے نتیجے میں یہ مزدور دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے میڈیا پرخبرنشر ہوتے ہی چیف جسٹس نے اس دلخراش واقعہ کافوری نوٹس لے لیا اور آئی جی بلوچستان ، چیف سیکرٹری کو نوٹسز بھی جاری کئے مذکورہ کیس کی سماعت11مئی کو ہوگی دوسری جانب چیف جسٹس نے کوئٹہ چرچ دھماکے کے زخمیوں اورلواحقین کو حکومتی امدادنہ ملنے کابھی نوٹس لے لیا ہے۔ عدالت نے چیف سیکرٹری سے اس سلسلہ میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عوام الناس کے جان ومال کی حفاظت حکومتی ذمہ داری ہے لیکن صدافسوس حکومت اپنے فرائض میں بے اعتنائی کررہی ہے جس سے عدلیہ کو نوٹس لینا پڑ رہا ہے کوئٹہ کے دونوں واقعات پرجتنا افسوس کیاجائے کم ہے خداوند کریم مرنے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرجمیل دے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative