Home » کالم » اسرائیلی سپائس بموں کی پہلی کھیپ بھارت کے حوالے

اسرائیلی سپائس بموں کی پہلی کھیپ بھارت کے حوالے

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور پاک بھارت سرحد پر کشیدگی کے حوالے سے بھارتی درخواست پر اسرائیل کی ایک کمپنی نے بھارت کو سپائس 2000 بم بھیجنے شروع کر دیئے ہیں جن کی پہلی کھیپ حال ہی میں گوالیار پہنچی ہے ۔ گوالیار بھارتی ایئر فورس کے میراج طیاروں کا مرکز ہے اور بھارت نے اپنے میراج جنگی طیارے اس ایئر بیس پر رکھے ہوئے ہیں ۔ سپائس 2000 بموں کو گوالیار اس لیے بھیجا گیا ہے کیونکہ صرف میراج طیارے ہی ان اسرائیلی بموں کو اہداف پر داغنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ان بموں کی خاص بات عمارت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہونا ہے ۔ بھارتی ایئر فورس نے اسرائیل کے ساتھ 250 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے مارک 84 قسم کے بموں کی خریدنے کا معاہدہ کیا تھا ۔ اس سال جون میں انڈین ایئر فورس نے بم تیار کرنے والی کمپنی کے ساتھ ایک اور معاہدے پر دستخط کیے جس میں ایک سو سے زیادہ بم ایمرجنسی کے پیش نظر فوری فراہم کرنے کے لیے کہا گیا تھا ۔ یہ وہی بم ہیں جن کو رواں سال فروری میں بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیارے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ بالا کوٹ میں پے لوڈ کی صورت میں جنگل میں گرا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔ بھارت یہ بم ایک دفعہ پھر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی سوچ رہا ہے ۔ بم چاہے جتنے بھی خطرناک ہوں مگر ان کو پھینکنے والے بھارتی پائلٹ بالکل ہی غیر تربیت یافتہ ہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہ پاک فضائیہ سے ڈرتے بھی بہت ہیں ۔ لہذا صرف اعلیٰ نسل کے گولہ بارودسے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ جنگ لڑنے کےلئے جذبے کی ضرورت ہے جو بھارتی فوج کے پاس نہیں ہے ۔ دوسری طرف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھارتی حکومت معصوم اور نہتے کشمیریوں اور ان کے گھروں پر یہ بم پرکھنا چاہتا ہو ۔ کیونکہ اس بم سے پوری عمارت تباہ ہو جاتی ہے تو بھارتی فوج کشمیریوں کے گھروں اور دکانوں کو تباہ کرنے کےلئے یہ بم استعمال کر سکتی ہے کیونکہ مودی حکومت سے ہر گھٹیا اور نیچ کام کی توقع کی جا سکتی ہے ۔ ابھی کچھ ہی دن قبل بھارت نے کشمیریوں پر اور ایل او سی پر کلسٹر بم برسائے ۔ یوں کشمیریوں پر کلسٹر ٹوائے بم کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا ۔ کلسٹرٹوائے بم شہریوں کے خلاف تباہ کن ہتھیار ہے اس بم سے بچوں ‘ گھروں کو خصوصی طورپر نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ جنیوا کنونشن اور عالمی قوانین کے تحت کلسٹر ٹوائے بم ممنوع ہے ۔ بھارتی فورسز نے کلسٹر بم کا استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جو جنیوا اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ جنیوا کے کلسٹر ایمونیشن کنونشن کے تحت عام شہریوں پر کلسٹر بم کا استعمال ممنوع ہے ۔ دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والے کلسٹر بموں کی تجارت عروج پر ہے ۔ بھارت کلسٹر بموں کا ایک نمایاں خریدار ہے جو اسرائیل، روس، برطانیہ اور فرانس سے کلسٹر بم خریدتا ہے ۔ کم از کم 12 ممالک 50 سے زائد اقسام کے کلسٹر بم تیار اور فروخت کررہے ہیں ۔ ان کلسٹر بموں کے خریدار ملکوں کی تعداد 58 سے زائد ہے تاہم کلسٹر بموں کی عالمی تجارت کے حقیقی اعداد و شمار کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف وہی بم استعمال کررہا ہے جو شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے شام میں کیے تھے ۔ کلسٹر بارود سے بنے بم، میزائل اور راکٹ اسلحے کی بین الاقوامی نمائشوں کا لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں ۔ بھارت کا جنگی جنون تمام بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں حالات بھارت کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں ۔ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت کوئی خونی واقعہ چاہتا ہے تاکہ اپنے ہاں دہشت گردی کے واقعے پر پاکستان کی جانب انگلی اٹھا کر عالمی رائے کو گمراہ کرسکے ۔ بھارتی ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیر پر پاکستان کا موقف سنا جا رہا ہے ۔ بھارتی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ کشمیر میں تعینات سکیورٹی فورسز بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے چھرے والے کارتوسوں کے بجائے مرچوں والے کارتوس استعمال کریں گی ۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی احتجاج کو دبانے کےلئے بھارتی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران طاقت کی بھرپور استعمال کیا اور عوام اجتماعات پر فائرنگ کے علاوہ چھرے والے بندوق کا استعمال کیا ۔ چھرے لگنے سے سو سے زیادہ نوجوان جوزی یا مکمل طور پر اپنی بینائی کھو بیٹھے ہیں ۔ مقامی حکام اور طبی عملے کے مطابق چھرے لگنے سے چار افراد کی ہلاکت ہوئی جب کہ سو سے زیادہ نابینا ہو گئے ۔ مرچوں والے کارتوسوں کے بارے میں کہا گیا ہے ان کی زد میں آنے والے عارضی طور پر حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتے ۔ ایک ہزار کارتوسوں کی کھیپ کشمیر پہنچ چکی ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative