Home » بین الاقوامی » اسرائیل کا شام میں فضائی حملے جاری رکھنے کا اعلان

اسرائیل کا شام میں فضائی حملے جاری رکھنے کا اعلان

اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے روس کی جانب سے شام کو جدید ایئر ڈیفنس سسٹم ( ایس 300) کی ترسیل کے باوجود فضائی حملے جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نیتن یایو نے روس کے وائس پریمئر میکزم ایکی موو کو بتایا کہ وہ شام میں دشمنوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے جاری رکھیں گے۔‘

نیتن یاہو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے شامی افواج کو ایس 300 میزائل سسٹم کی فراہمی کے باوجود اسرائیل شام میں موجود ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنا دفاع جاری رکھے گا، جو اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ شام میں روسی طیارے کے حادثے کے بعد سے روس کے اعلیٰ عہدیدار سے نیتن یاہو کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

شامی فضائیہ نے روسی فوجی طیارے کو غلطی سے اسرائیل کی جانب سے مبینہ میزائل حملہ تصور کر کے مار گرایا تھا جس میں عملے سمیت 15 افراد سوار تھے۔

تاہم روس کی جانب سے 17 ستمبر کو ہونے والے اس حادثے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا گیا تھا۔

روسی فوج کا کہنا تھا کہ ‘اسرائیلی پائلٹس شامی اہداف پر حملے کررہے ہیں اور شامی ائیر ڈیفنس سے ہونے والے فائر کو بے نقاب کرنے کے لیے روسی طیارے کو کور کے طور پر استعمال کیا گیا’۔

اس حملے کے رد عمل میں روس نے شام میں موجود اپنی فوج کے حفاظتی اقدامات کے لیے نئے اقدامات میں دمشق کو ایس 300 نامی میزائل فراہم کرنے کا اعلان بھی شامل تھا۔

تاہم روس کے وائس پریمیئر سے ملاقات نیتن یاہو پُر امید ہیں کہ روس اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ تنازع جلد حل ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ میرا خیال ہے کہ کامن سینس اور نیک خواہشات کے ذریعے ہم ایک ایسا حل نکال سکتے ہیں جو روسی اور اسرائیلی افواج کے درمیان تعاون کو جاری رکھے گا۔‘

اس سے قبل اتوار ( 7 اکتوبر ) کو ہفتہ وار کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے روس کے صدر ولادیمر پیوٹن سے ملاقات کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

واضح رہے کہ ستمبر میں روسی طیارے کے حادثے کے بعد دونوں رہنما ٹیلیفون پر تین مرتبہ گفتگو کرچکے ہیں۔

اسرائیل اب تک شام میں سینکڑوں فضائی حملے کرچکا ہے جن سے متعلق اس کا مؤقف ہے کہ ان کا ہدف ایرانی اور حزب اللہ کے ٹھکانے ہوتے ہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative