Home » کالم » اسٹیٹس کوکاخاتمہ اوربلاتفریق احتساب وقت کی ضرورت
adaria

اسٹیٹس کوکاخاتمہ اوربلاتفریق احتساب وقت کی ضرورت

adaria

ہمارے ملک کا سب سے بڑاالمیہ سٹیٹس کو کاہے اس حوالے سے وزیراعظم نے واضح کیاہے کہ انہوں نے سٹیٹس کو کوتوڑ دیاہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم نے سٹیٹس کو توڑ دیا، اسی وجہ سے سٹیٹس کو کی قوتیں پوری طاقت کیساتھ حکومت کے تبدیلی کے ایجنڈے میں روڑے اٹکاتی نظر آتی ہیں۔ سازشیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ بناوٹی سیاسی قوتیں جلد ہی دم توڑ جائیں گی۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا۔نیز وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہاہے کہ احتساب کو مزید تیز کرنا ہوگا، پیپلزپارٹی کو اس کاعلم ہی نہیں کہ خورشید شاہ کس کے ساتھ ہیں ،زرداری اورشریف خاندا ن سے پیسے نکلوانے سے مالی بحران حل ہوسکتا ہے اس وقت جو پاکستان تحریک انصاف میں دراڑ پڑنے کے حوالے سے خبریں چل رہی ہیں اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ وزیراطلاعات نے کہاکہ احتساب تیز کرنا ہوگا اس میں کوئی دوسری رائے نہیں جب تک احتساب کاعمل تیز نہیں کیاجائے گا اس وقت تک کرپٹ عناصر دندناتے پھرتے رہیں گے اور اسی طرح کرپشن بھی ہوتی رہے گی ملکی خزانہ بھی لٹتا رہے گا۔وزیراطلاعات نے کہاکہ حکومت کہیں نہیں جارہی کرپشن پر نرمی دکھائی تو ووٹر سے غداری ہوگی آئندہ دنوں میں احتساب کا عمل مزیدتیز ہوگاجیسے ہی شہباز شریف کو گرفتارکیاگیاتو ڈی جی نیب لاہورکی ڈگری جعلی ہوگئی یہ تو دل گردے کی بات ہے کہ نیب کے افسران اس کارخیر میں حصہ ڈال رہے ہیں انہیں سپورٹ کرنا چاہیے ۔گورنر پنجاب چوہدری سرور اور ق لیگ کے درمیان کوئی اختلافات نہیں اور پارٹی میں کوئی دراڑ نہیں ،نظریات کی جنگ بندوق سے نہیں دلیل سے جیتی جا سکتی ہے گزشتہ حکومت نے اشتہارات کو کرپشن او راپنی تشہیر کے لئے استعمال کیا رجسٹرڈ صحافیوں کے لئے چار لاکھ مالیت سے زائد کے ہیلتھ کارڈ دے رہے ہیں۔فواد چوہدری نے کہاکہ جس کو نبی کریمﷺ سے عشق نہیں وہ مومن ہی نہیں، وزیراعظم عمران خان سچے عاشق رسول ﷺہیں، موجودہ حکومت مذہبی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے گی یہ لڑائی نظریات کی لڑائی ہے جو دلیل سے جیتی جاتی ہے، صوفیا کرام کے عبادت گاہوں پر حملے کیے گیے، ماضی میں ریاست نے اس سب کو تماشائی بن کر دیکھا، ریاست لمبے عرصے تک غیر روایتی جنگ میں شریک رہی ہے۔فواد چوہدری نے کہا آسیہ کیس کے بعد پیدا ہونے والا بحران حکومت کا نہیں بلکہ معاشرے کا بحران ہے، توہین آمیز خاکے ہوں یا کسی کو مشیر لگانا ایک طبقہ ہر مسئلے پر سیاست کرتا ہے مذہبی اکابرین کو اس نظریاتی جنگ میں اپنا کردار اداکرنا ہوگانظریات کی لڑائی کو ان ہاتھوں میں جانے سے روکیں گے جو ہمارے مذہب کی خدمت نہیں کررہے، ریاست جب تک تمام مسالک کو برابری کا ماحول نہ دے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔پیپلز پارٹی سے ہونے والی ملاقات میں یہ کہا تھاکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بڑے بھائی کے منصوبوں کا چھوٹا بھائی آڈٹ کرے اس لئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ پی ٹی آئی کو ملنی چاہیے ، اگر لازماچیئرمین شپ اپوزیشن کو ہی دینی ہے تو بلاول یا کسی اور کودیدیں، نواز شریف اور آصف زرداری کی پارٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ حکومت باہر جاکر بھیک مانگ رہی ہے، تو ایسا کرتے ہیں پاکستان کا جو 84 فیصد قرضہ پی پی پی اور ن لیگ نے لیا ہے، وہ ان دونوں خاندانوں سے نکلوالیتے ہیں پاکستان جمہوری ملک ہے، دیگر جگہوں پر پیسہ نکلوالنے کے جو طریقے آزمائے گئے ہیں، بدقسمتی سے یہاں نہیں کر سکتے، اس لیے دیر لگ رہی ہے ڈی جی نیب لاہور کی ڈگری جعلی تھی تو سابق حکومت نے کیوں کارروائی نہیں کی۔عمران خان کی سیاست ملک او رقوم جبکہ اپوزیشن کی سیاست ان کیلئے گھر کے لئے ہے گورنر ، وزیر اعلی ، وزیر سب ورکر زہیں اور صرف عمران خان لیڈر ہیں ،مولانا فضل الرحمن کئی سال کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے ان کے دور میں کیا کیا واقعات نہیں ہوئے لیکن انہوں نے کبھی احتجاج نہیں کیاجب وہ حکومت میں ہوں تو حکومت ، آئین ہر چیز صحیح ہوتی ہے لیکن جیسے ہی حکومت سے باہر جائیں تو انہیں جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔میڈیا کے اشتہارات کے حوالے سے کہا کہ ہم نے پیسے کہاں سے دینے ہیں ، اگر اشتہارات دیتے ہیں تو پیسوں کی ادائیگی کیلئے قرض لینا پڑے گا یا عوام پر ٹیکس لگائیں گے ،ہم نے دیکھنا ہے کہ ہماری جیب اجازت کتنی دیتی ہے گزشتہ حکومت نے اشتہارات کو کرپشن او راپنی تشہیر کیلئے استعمال کیا اور مہذب معاشروں میں اس کی اجازت نہیں ہوتی ۔ حکومت کے کرپشن اور دیگر حوالے سے اقدامات بہتر ہیں جس میں یہ کہاگیا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی اور نون لیگ سے پیسے نکلوالئے جائیں تو ملکی خزانے کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف پیپلزپارٹی یا نون لیگ کو ہی ٹارگٹ کرکے کارروائی نہ کرے۔یہ بھی دیکھناچاہیے کہ اس ملک میں اوربھی کتنے بڑے بڑے ایسے مگر مچھ ہیں جن پرآج تک کسی نے ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں دکھائی۔ احتساب بلاتفریق ہوناچاہیے اس میں کسی بھی صورت سیاسی مخاصمت نظرنہیں آنی چاہیے۔ اگر کوئی ایسا اقدام اٹھایا گیا جس میں کہیں بھی کسی سیاسی بدلے کی معمولی سی جھلک بھی نظرآئی تو اس سے نظام درہم برہم ہوسکتاہے اور یہ ویسے بھی انصاف کے تقاضوں پر پورانہیں اترتا۔

دو بچوں کی اموات۔۔۔فوڈاتھارٹیزکیلئے لمحہ فکریہ!
کراچی میں ایک ہوٹل سے کھاناکھانے کے بعد دوبچوں کی اموات اور ان کی والدہ کی حالت تشویشناک ہونا انتہائی قابل توجہ مسئلہ ہے ۔کیونکہ ہمارے ملک میں ہوٹلوں کی جانب کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ویسے تو فوڈاتھارٹی کے حوالے سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ایسی خبریں میڈیا کی زینت بنتی ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ ناقص کھانوں کی وجہ سے اتنے ہوٹل اور بیکریاں سیل کردی گئی ہیں لیکن کراچی میں پیش آنیوالے اس اندوہناک واقعہ کاکون ذمہ دار ہے ،معصوم بچوں کی جو زندگی چلی گئی اس میں کون سزایافتہ ہوگا۔ بات ہوٹل یاکھانوں کی نہیں دیکھنا یہ ہے کہ ہماری فوڈ اتھارٹی کتنی متحرک ہے کھانوں کے چیکنگ کاکوئی باقاعدہ نظام کیوں نہیں ہے کیابچے کھانے سے متاثر ہوئے یاٹافیوں سے یافرنچ فرائز سے ،مجموعی طورپرملک بھر کے ہوٹلوں کو دیکھاجائے تو وہاں پر صحت کے اعتبار سے جو کھانافراہم کیاجاتا ہے وہ صحت کے اصولوں کا قتل عام ہے نہ ہی ان کی چیکنگ کاکوئی نظام ہے نہ ہی یہ دیکھاجاتا ہے کہ وہ تازے کھانے ہیں یاباسی اورنہ ہی کھانے پکانے والے فوڈاتھارٹی کی ایس او پیز پرعمل کرتے ہیں ،یہ دیکھنا کس کی ذمہ داری ہے کہ جو لوگ کھاناپکارہے ہیں یعنی کہ باورچی ہیں ان کے میڈیکل ٹیسٹ کلیئرہیں دیگرلوازمات پورے ہیں ،صفائی ستھرائی مکمل ہے، کیاکبھی ہوٹل میں جاکر کچن وغیرہ کو چیک کیاگیا وہاں پردیکھاگیا کہ کھانے پکانے کی چیزوں کی حالت کیا ہے۔ دراصل وہاں پر ہی صحت کے اصولوں کاقطعی فقدان ہوتا ہے جو کھانا ان حالات میں تیار ہوکر ریسٹورنٹس پرگاہکوں کو فراہم کیاجاتا ہے اس کی وجہ سے ایسے ناخوشگواراور ناقابل تلافی واقعات رونما ہوتے ہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative