Home » کالم » اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی، مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان
adaria

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی، مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے بعد مزید مہنگائی کی نوید سنا دی گئی ہے، مالی سال2019ء میں متوقع طورپر7;46;5 اور6;46;5فیصد کی حدود میں مہنگائی رہے گی جبکہ مالی سال2020ء میں اس سے بھی خاصی بلند رہنے کی توقع ہے،2020 میں مہنگائی کا منظر نامہ آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں میں ردوبدل، بجلی اور گیس کی نرخوں میں ممکنہ تبدیلیوں ، تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں تغیر سے ابھرنے والے کئی خطرات سے مشروط ہے، جو مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آئندہ دو ماہ کے لئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا گیا،مرکزی بینک نے شرح سود میں 1;46;50 فیصد اضافہ کردیا جس کے بعد شرح سود 10;46;75 سے بڑھ کر 12;46;25 فیصد ہوگئی ۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کا اجلاس مرکزی بینک میں ہوا جس کے بعد آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا ۔ مانیٹری پالیسی سخت کیے جانے کے باوجود نجی شعبے کا قرض 9 اعشاریہ 4 فیصد بڑھا ہے ۔ مہنگائی کی اوسط شرح گزشتہ سال 3;46;8 فیصد کے مقابلے میں 7 فیصد ہو گئی ہے ۔ مرکزی بینک کے اعلامیہ کے مطابق گزشتہ 3 ماہ میں خوراک، ایندھن اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں کافی اضافہ ہوا، اگلے سال مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کا امکان ہے ۔ زری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2019 میں زری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد سے تین نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں ۔ گزشتہ زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے اب تک شرح مبادلہ میں 5;46;93فیصد کمی آئی ہے اور 20 مئی 2019 کے اختتام پر 149;46;65 روپے فی امریکی ڈالر پر پہنچ گئی ہے جس سے مضمر معاشی عوامل اور مارکیٹ کے احساسات کے امتزاج کی عکاسی ہوتی ہے ۔ اسٹیٹ بینک کے تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 19 میں معاشی نمو سست ہونے جبکہ مالی سال 20 میں کسی قدر بڑھنے کی توقع ہے ۔ یہ سست رفتاری زیادہ تر زراعت اور صنعت کی پست نمو کی وجہ سے ہے ۔ مالی سا ل 19 میں حقیقی جی ڈی پی نمو کا دوتہائی سے زائد حصہ خدمات سے آنے کی توقع ہے ۔ آگے چل کر آئی ایم ایف کی مدد سے چلنے والے پروگرام، شعبہ زراعت میں تیزی اور برآمدی صنعتوں کے لیے حکومتی ترغیبات کے تناظر میں مارکیٹ کے احساسات بہتر ہونے کے طفیل معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بحالی کی توقع ہے ۔ ایک سال میں مہنگائی ڈبل ہو گئی ایک سال میں حکومت 48 ارب روپے کے اندرونی قرضے لے چکی ہے شرح سود ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی معاشی شرح سود میں اضافہ سے سب سے زیادہ نقصان حکومت کا ہوا ہے اس کا مقصد مہنگائی کم کرنا ہوتا ہے بنیادی شرح سود بڑھنے سے حکومت کے مقامی قرضوں میں 3 کھرب روپے (300 ارب روپے) کا اضافہ ہو جائے گا جبکہ گاڑیوں اور گھروں کی خریداری پرقرض لینا مہنگا پڑ سکتا ہے،بنیادی شرح سود بڑھانے سے گاڑیوں اور گھروں کی خریدداری میں بھی کم ;200;ئے گی سٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ 150بیسیز پوائنٹ کے اضافے سے 12;46;25فیصد کیے جانے سے حکومتی قرضوں کے سود پر اضافہ ہو جائے گا ،بینکوں کے قرضوں پر شرح سود بڑھ جائے گی جس سے پیداواری لاگت بڑھے گی ، مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور برآمدات کم ہوں گی ۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرضے کی درخواست دینے سے قبل کچھ پیشگی اقدام کرنے کی ہدایت کی تھی جن میں شرح سود میں اضافہ بھی شامل تھا جس پر اسٹیٹ بینک نے عملدرآمد کر دیا ہے ، اگر معیشت میں خصوصا ٹیکسوں کے شعبے میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں ،ٹیکس چوری نہیں روکی جاتی اور قانونی طریقے سے سرمایہ بیرون ملک فرار نہیں روکا جا سکتا تو مانیٹری پالیسی اپنے مقصد میں ناکام رہے گی جس طرح ماضی میں بھی مانیٹری پالیسی ناکام ہوتی رہی ہے ۔

گلگت بلتستان میں ’’را‘‘ کا منصوبہ ناکام

بھارت اپنی مذموم کارروائیوں میں کسی نہ کسی صورت لگا رہتا ہے، بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا گلگت بلتستان میں منصوبہ بے نقاب ہوگیا، وہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا اور ’’را‘‘ کی دہشت گردی و تخریب کاری کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ۔ گلگت بلتستان میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کےلئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی معاونت سے چلنے والا بلاورستان نیشنل فرنٹ(حمید گروپ)کا مقامی نیٹ ورک پکڑا گیا ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس نیٹ ورک نے گلگت بلتستان میں انتشار پھیلانے اور پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی سازش کی طویل منصوبہ بندی کر رکھی تھی تاہم خفیہ اداروں نے اسے بے نقاب کر کے ناکام بنا دیا ۔ ذراءع کے مطابق را کے زیر سرپرستی گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم بلاورستان نیشنل فرنٹ (حمید گروپ)کی ;200;بیاری کی گئی، اور راکا ہدف یونیورسٹیوں کے طلبا اور گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کو ٹارگٹ کر کے دہشت گردی اور علیحدگی کی تحریک کو ہوا دینا تھا ۔ حمید خان کوعالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر کرنے اور گلگت بلتستان میں دہشت گردی کرنے کی سرگرمیوں پر لگایا گیا، را کے اشاروں پر ہی حمید خان نے عالمی مالیاتی اداروں کو خطوط کے ذریعے گلگت بلتستان و دیگر جگہوں پر 6 مجوزہ ڈیموں کے لیے مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنے سے روکنے کی کوششیں کیں ،چیئرمین بی این ایف(حمید گروپ) عبدالحمید خان ;200;ف غذر کو را کی جانب سے 1999 میں نیپال لے جایا گیا، جہاں سے اسے بھارت منتقل کردیا گیا، بھارت میں را کے ایجنٹ کرنل ارجن اور جوشی نے اسے تربیت دی، 1999 سے 2007 اور 2015 سے 2018تک را نے حمید خان پر 11 سالوں میں بھاری سرمایہ کاری کی، اور اسے گلگت بلتستان میں سرگرمیوں کے لیے ایک ارب روپے کے لگ بھگ خطیر رقم بھی فراہم کی گئی ۔

سچی بات میں ایس کے نیازی کی سچی باتیں

پاکستان گروپ آف نیوز پیپر زکے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ مجھ سے بھی لوگوں نے سوالات کیے جہاں تک میرا اپنا تجزیہ ہے کچھ نہیں ہونے والا،عمران خان سے کچھ غلطیاں ہوئیں مگر وہ مدت پوری کریں گے،آصف زرداری کے گرد بھی گھیرا تنگ ہو رہا ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے کو کیا کہتے تھے سب کو پتہ ہے، کل تک یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دیکھنا نہیں چاہتی تھیں ،پنجاب میں جتنے بھی ووٹ ہیں وہ نواز شریف کے ہیں ، اگر وارث کا کہا جائے تو مریم نواز ،نواز شریف کی وارث ہیں ،نوازشریف کی گدی نشین مریم نواز ہیں ،اب وارثت کی سیاست سے نکلنا چاہیے، افواج پاکستان اپنے کام میں مصروف ہے،فوج نے بھارت کےخلاف بہت بڑا کام کیا ہے ،ہ میں عمران خان سے اختلاف ہے تو صرف ٹیم بارے اختلاف ہے،سب کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ پاکستان ترقی کرے،آج تک تو کسی کو بھی این آر او ملنے والا نہیں ،ہم نے ڈالر کو بڑھا دیا،ڈالر پر پابندی لگنی چاہیے، وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ فوکل پرسن اچھے لگائیں ،فردوس عاشق اعوان اچھی منسٹر ہیں مگر انفارمیشن منسٹری لیڈی کےلئے مشکل ہے،میری وزیراعظم کو تجویز ہے کہ فیصل جاوید کو انفارمیشن منسٹری کا وزیرلگائیں ۔ چیئرمین نیب ایماندار آدمی ہیں ،وہ ملک وقوم کےلئے کام کررہے ہیں ،جو محکمے کرپشن کرتے ہیں سب سے پہلے تو ان کو پکڑنا چاہیے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative