Home » کالم » افغانستان میں پاکستان مخالفت بھارتی کردار

افغانستان میں پاکستان مخالفت بھارتی کردار

حقیقت میں مستحکم افغانستان پاکستان کیلئے فائدہ مندہے ۔ امریکہ کی طرف سے افغانستان میں قیام امن پر پاکستانی حمایت پر پاکستان امریکہ کا بھرپور ساتھ دینے کو تیار ہے مگر افغانستان میں بھارت کو کردار دینا پاک امریکا تعلقات میں خرابی کی وجہ ہے جب کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ خود تقسیم ہے ۔ ایک حصہ چاہتا ہے افغانستان کو ابھی نہ چھوڑیں اور دوسرا اس کے برعکس سوچتا ہے ۔ افغانستان میں امن و اعتدال دیکھنا چاہتے ہیں ۔ قیام امن کے لئے ہماری کوششیں جاری ہیں اور جاری رہیں گی ۔ ہم یہ بات بھی واضح کرچکے ہیں کہ قیام امن کےلئے واحد راستہ بات چیت ہے اور اس کے لئے افغان حکومت اور افغان طالبان کوامن عمل میں لانے کی بھرپور کوشش کی لیکن دوسری جانب بھارت اپنے نفرت انگیز منصوبوں کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کر رہا ہے بھارت کا منفی کردار افغانستان میں مسائل بڑھا رہا ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اچھے نتاءج حاصل کیے ہیں اور امریکا کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے اور بہترین تعلقات قائم کرنے کیلئے پرعزم ہیں ۔ ایک مستحکم افغانستان کے قیام، داعش کو شکست دینے اور دونوں ملکوں کیلئے خطرہ بننے والے دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ، پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ مقاصد ہیں ۔ امریکہ ایک مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے‘ پاکستان کے کردار کے بغیر افغانستان میں امن کا قیام جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ لیکن پاکستان کےلئے ایسی امریکی پالیسی پاکستان کیلئے قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتی جس میں افغانستان میں بھارت کو کردار دینے کی بات کی گئی ہو ۔ پاکستان امریکہ تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان جتنی بھی پسپائی اختیار کرلے‘ بھارت کی افغانستان میں موجودگی ناقابل برداشت ہے ۔ ہماری مشرقی سرحد ہمیشہ سے غیرمحفوظ رہی ہے ۔ افغانستان میں بھارت کے عمل دخل کے بعد مغربی سرحد بھی پہلے کی طرح محفوظ نہیں رہی ۔ بھارت کو افغانستان میں مستقل اور بہت بڑا کردار دیکر مغربی سرحد پر بھی دشمن بیٹھ جائیگا جس سے اس کیلئے پاکستان میں مداخلت مزید آسان ہو جائیگی اور پاکستان کیخلاف دہشت گردی کی کھلی چھوٹ مل جائیگی جسے امریکہ من وعن قبول کرلے گا ۔ پاکستان اور بھارت کے مابین دشمنی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے ۔ امریکہ یہ مسئلہ حل کرادے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہو سکتی ہے ۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد نہ صرف شمالی اتحاد کو حکومت ملی، بلکہ اس میں پاکستان مخالف عناصر کو بھرپور نمائندگی دی گئی ۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی کے قریبی مشیروں میں زیادہ تر عہدیداروں کی وفاداریاں بھارت کے ساتھ تھیں اور کابل کی سرکاری مشینری پر بھارتی اہلکاروں اور ایجنسیوں کا عمل دخل بھی بہت بڑھ چکا تھا ۔ انہوں نے اپنے مکروہ ارادوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کابل حکمرانوں کے دل و دماغ میں پاکستان کے خلاف زہر بھرنا شروع کر دیا ۔ افغان سرزمین پر قیام امن کی خاطر ہ میں بہت نقصان اٹھانا پڑا ۔ حامدکرزئی عملاً بھارتی ایجنٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے نیٹو فورسز کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کی بھی ترغیب دیتے رہے ۔ نیٹو کے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی جانب سے پاکستان کی سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کابل انتظامیہ کی اس سازش کا ہی شاخسانہ تھا جبکہ کرزئی نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کو بھی افغان سرزمین سے پاکستان کی سلامتی کیخلاف سازشوں کے جال پھیلانے کا مکمل موقع فراہم کیا چنانچہ بھارت نے افغان فوجیوں کی تربیت کے بہانے اسکے مختلف غیرمعروف شہروں میں بھی اپنے قونصل خانے قائم کئے جہاں سے ’’را‘‘ کے دہشتگردوں کو تربیت‘ اسلحہ اور فنڈنگ کیساتھ افغان سرحد سے پاکستان میں داخل کرنے کا سلسلہ شروع کیا جبکہ کابل انتظامیہ کی سرپرستی میں ہی بھارت نے پاکستان کی سالمیت کیخلاف یہ ساری سازشیں پروان چڑھائیں ‘ نتیجتاً طالبان کے بھیس میں بھارتی ’’را‘‘ کے دہشتگردوں نے جتھہ بند ہو کر کھلم کھلا پاکستان میں داخل ہونے اور یہاں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کے علاوہ ملحقہ سول آبادیوں پر بھی حملے کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جو آج بھی جاری ہے ۔ موجودہ افغان صدر نے بھی دہلی کے فریب میں آکر کرزئی کی طرح بھارتی لب و لہجے میں بات کرتے ہوئے دہشتگردی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا سلسلہ شروع کردیا اور بجائے اسکے کہ افغانستان میں امن کی پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا جاتا‘ پاکستان کو سنگین نتاءج کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا حالانکہ دہشتگردوں کے تمام ٹھکانے آج بھی افغان دھرتی پر موجود ہیں جنہیں بھارتی مقاصد کے تحت پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ موجودہ صورتحال میں جب امریکہ نے پاکستان سے حمایت طلب کی ہے اور افغانستان میں امن کا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے تو افغان حکومت کو بھی یہ چاہیے کہ فراغدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قیام امن کی طرف ہاتھ بڑھائے ۔ کیونکہ مذاکرات میں تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جانا ہے جس میں پاکستان، امریکا، افغان حکومت اور طالبان شامل ہیں ۔ افغان حکومت کو سوچنا چاہیے کہ وہ طالبان کو جنگ میں شکست نہیں دے سکی اور کھربوں ڈالر جھونک کر بھی امریکا جنگ ہار چکا ہے تو کیوں نہ طالبان کو مذاکرات کی دعوت کو صدق دل سے قبول کر کے اس کو کامیاب بنایا جائے اور افغانستان میں امن قائم کیا جائے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative