Home » کالم » افغانستان کا بدلتا منظر نامہ اور بھارت میں بے چینی

افغانستان کا بدلتا منظر نامہ اور بھارت میں بے چینی

پاکستان کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ نہ صرف افغانستان میں امن قائم ہو بلکہ پورا خطہ امن کا گہورا بنے۔ اس مقصد کے لئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششیں نمایاں رہی ہیں۔ امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ حتیٰ کہ پاکستان نے دنیا بھر کیہر فورم پر اس بات کا اعادہ کیا کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔ افغان حکام کو بھی بارہا اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن بدقسمتی سے صدر اشرف غنی اور ان کے بعض ساتھی پاکستان کے بارے میں مودی کے سبز باغوں میں آ تے رہے ہیں۔اسی طرح صدر ٹرمپ کے کئی ایسے اقدامات جن سے بھارت تو خوش ہوتا رہا تاہم خطے کے امن میں کوئی بہتری کی صورت دکھائی نہیں دی۔سترہ سال کی خرابی بسیار کے بعد اب امریکہ کو واپسی کی سوجھی ہے تو اسے اس بات کا احساس ہوا ہے کہ افغانستان سے پرامن واپسی بھی پاکستان کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ امریکہ اپنے رویے میں تبدیلی لاتے ہوئے پاکستان کے مشورہ پر عمل پیرا ہوکر افغان مسئلے حل کے لیے مذاکرات پر مائل ہوا ہے. 19دسمبر کو متحدہ عرب امارات میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات اس سلسلے کی کڑی ہیں۔ان مذاکرات کی حمایت میں افغان طالبان اور امریکہ کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں بھی شامل ہیں۔مذکورہ مذاکرات سے اس لئے بھی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں کہ ان میں افغان طالبان کے عسکری اور سیاسی گروہوں کے نمائندے بھی شامل ہوئے۔اس سلسلے میں تازہ پیشرفت یہ سامنے آئی ہے کہافغان طالبان نے دبئی میں ہونے والے مذاکرات کے تسلسل کو جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں ماہ سعودی عرب میں ہونے والے امن مذاکرات میں امریکی وفد سے مصالحتی بات چیت کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔یہ سب کچھ پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہو رہا ہے۔افغان مسئلے کے پرامن حل کے پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے وزارت خارجہ اس سلسلے میں خاصی متحرک ہو چکی ہے۔گزشتہ ہفتے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطے کے چار ممالک کے اہم دورے کیے۔شاہ محمود قریشی نے اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں 24دسمبر کو کابل میں صدر اشرف غنی اور وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی سے ملاقاتیں کیں۔ بعدازاں تہران میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے مذاکرات کئے جبکہ بیجنگ اور ماسکو میں چینی اور روسی قیادت سے بھی اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ چار ملکی دورے کے آخری مرحلے میں ماسکو پہنچنے کے بعد شاہ محمود قریشی نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی صورتِ حال بالخصوص افغانستان میں امن و مصالحت پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ خارجہ کے پڑوسی ملکوں کے اس دورے کا مقصد خطے کے اہم ممالک کو افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتِ حال پر اعتماد میں لینا اور انہیں پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کرنا تھا۔یہ دورے ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب امریکہ کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام، عارضی جنگ بندی اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے معاملات پر گفتگو ہو رہی ہے۔جبکہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد یہ بتایا جا رہا کہ افغانستان کے بہتر مستقبل اور خطے میں پائیدار امن و خوشحالی کے لئے مل جل کر جو کچھ بھی کیا جاسکتا ہے وہ کیا جائے۔ان حالیہ کوششوں کے بعد ماہرین پرامید ہیں کہ جلد افغانستان امن کی منزل کی طرف لوٹ جا ئے گا۔سال 2018کے آغاز پر جب صدر ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا تھا تو خطے میں تیزی کے ساتھ بے چینی پھیلنے لگی تھی اور پاکستان کے لیے ڈومور کے مزید خطرات کی پیش گوئی کی جانے لگی. یقیناًٹرمپ کے رویے سے خطرے کی بو سونگھی جا سکتی تھی لیکن پاکستان نے استقامت کے ساتھ اپنے موقف کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ ٹرمپ سمیت تمام عالمی پلیئرز کو منوایا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔آج افغانستان خوشگوارتبدیلی کے دوراہے پر کھڑا ہے تو اس میں بنیادی کردار پاکستان کا ہے۔اس تبدیلی کو پینٹاگون میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔اگلے روز پینٹاگون نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ کئی محاذوں پر چیلنجوں کے باوجود اس بات کا امکان ہے کہ حالیہ تاریخ کا یہ ایسا لمحہ ہو جب افغانستان سازگار سیاسی تصفیے کی جانب بڑھ رہا ہے۔سالانہ تجزیے پر مبنی اس رپورٹ میں، جو امریکی کانگریس کو پیش کی جاتی ہے، پینٹاگان نے افغانستان کی لڑائی کے بارے میں امریکی قانون سازوں کو ایک تفصیلی رپورٹ دی ہے۔ رپورٹ میں افغانستان میں حاصل کردہ پیش رفت اور 2018 اور 2019 کے دوران درپیش چیلنجوں کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔اسلام آباد اور کابل کے باہمی تعلقات کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا دونوں ملکوں کے لیے چیلنج رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ اعتماد کا فقدان ہے۔تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سال 2018, میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعلی سطح کے رابطوں اور افغان امن و مصالحت کے عمل کو آگے بڑھانے اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کی مثبت کوششوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو دور کرنے میں مدد ملی ہے.لیکن پاکستان کی ان کوششوں پر مشرقی سرحد کے اس پار کھلبلی سی مچی ہے ۔بھارتی ماہرین اب یہ خیال کر رہے ہیں کہ بھارت کو طالبان کے خلاف دشمنی پر مبنی رویے میں تبدیلی لانا ہوگی کیوں کہ آئندہ صورتحال میں وہ افغانستان میں انتہائی اہم اثرو رسوخ کی حیثیت کے حامل ہوں گے۔بھارتی اور امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے تبصروں میں بھارتی دانشوروں اور تھنک ٹینک ماہرین نے اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ واشنگٹن افغانستان سے اپنی فوج کا مکمل انخلا کرسکتا ہے جس سے پاکستان اور طالبان دونوں کو فائدہ ہوگا۔ایک سابق بھارتی انٹیلی جنس عہدیدار اویناش موہنانے نے امریکی جریدے اکنامک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ یہ دہلی کے لیے ایک بری خبر ہے، جس کے نتائج کے لیے اسے تیار ہونا ضروری ہے۔انہوں نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا کہ پہلے واشنگٹن سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ افغانستان سے جلد بازی میں انخلا نہ کرے اور اس کے بعد طالبان تک رسائی حاصل کرے کیوں کہان کا متوقع عروج افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت اور بھارتی اثر و رسوخ کے لیے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا ۔اسی طرح بھارتی تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے ہرش پنت نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے مضبوط ہونے سے ان کا اثر ہمسایہ ملک پاکستان اور کشمیر میں پھیلے گا جو بھارت کے لیے ایک بری خبر ہے۔بھارت میں خطرے کی یہ گھنٹی اس لیے بج اٹھی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ماہ جب اعلان کیا کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوج کے نصف سے زائد دستے واپس بلوالے گا، تو بھارت میں مختلف قیاس آرائیوں نے جنم لینا شروع کر دیا.دوسری جانب اسلام آباد نے اسے ایک بہت بڑی پیش رفت سمجھا جس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 4 ممالک کا دورہ بھی کیا تاکہ کابل میں پر امن منتقلی کو یقینی بنایا جاسکے۔

About Admin

Google Analytics Alternative