Home » کالم » اقتصادی راہداری منصوبہ اور بھارتی ہٹ دھرمی

اقتصادی راہداری منصوبہ اور بھارتی ہٹ دھرمی

سی پیک منصوبہ 21ویں صدی کی بحری شاہراہ ریشم اور شاہراہ ریشم اقتصادی بیلٹ پرمشتمل ہے جس کا مقصد قدیم شاہراہ ریشم کے روٹ پر تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے نیٹ ورک کی تعمیر کر کے ایشیاء کو یورپ افریقہ اوردیگر ممالک کے ساتھ منسلک کرنا ہے۔ بقول چینی صدر کے، پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہماری دوطرفہ ترقی حاصل کرنے کی مشترکہ کوششوں کا اہم نقطہ ہے اور ہمیں اس اقتصادی راہداری منصوبے کو گوادر بندرگاہ ، توانائی ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور صنعتی تعاون کو عملی تعاون کو بدل دینے کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔چین نے سی پیک کی طرح بنگلہ دیش، بھارت،چین اورمیانمار اقتصادی راہداری تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 1990 کے آواخر میں یہ منصوبہ سوچا گیا کہ چینی صوبہ یون نان سے مشرقی بھارت، بنگلہ دیش اور میانمار کو ملایا جائے۔ اس سلسلے میں بھارت میں چینی سفارت خانے کے وزیر لیو جن سونگ اور چین کے صوبہ یون نان کی حکومت کے بیرونی امور کے ڈائریکٹر لی جی مینگ نے ‘‘دی بیلٹ اینڈ روڈ ‘‘منصوبے اور چین بھارت بنگلادیش اور میانمار اقتصادی راہداری کی تعمیر کو فروغ دینے کے حوالے سے ایکشن پلان پر دستخط کیے۔ ایکشن پلان کے مطابق بھارت میں چینی سفارت خانہ چین کے صوبہ یون نان اور بھارت کے درمیان جامع تعاون اور تبادلوں کی حمایت اور باصلاحیت افراد کی تربیت کے لئے یون نان کو امداد فراہم کر نا تھا۔ اس سلسلے میں پہلی میٹنگ1999 میں چینی صوبہ یون نان کے دارالحکومت کون منگ میں ہوئی۔منصوبہ پیش کرنے والوں کے سامنے(BICM) بنگلہ دیش، انڈیا، چائنا ، میانمار اقتصادی راہداری بنانے کے دو مقاصد تھے۔ ایک تو علاقائی اقتصادی تعاون کو فروغ دینا اور دوسرا خطے کے ممالک کے سرحدی علاقوں کی ترقی۔ چین کی تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک یہ منصوبہ التوا کا شکار ہے۔ اس کی وجہ بھارت کا رویہ ہے۔ بھارت نے منصوبہ پر دستخط تو کر دیئے مگر اس کے بعد گو مگو کی کیفیت میں ہے۔ اب تک بھارت کی طرف سے اس منصوبے پر کام بہت سست رفتاری سے ہو رہا ہے۔ اصل میں بھارت کو سی پیک کا غم کھائے جا رہا ہے۔ بھارت شروع دن سے ہی سی پیک کے خلاف ہے۔ چونکہ سی پیک گلگت بلتستان سے ہو کر گزرتا ہے اور بھارت نہیں چاہتا کہ آزاد جموں و کشمیر کی طرح مقبوضہ کشمیر والے بھی اس سے مستفید ہو ں۔ دوسری طرف وہ پاکستان کو کسی بھی طور ترقی ہوتے نہیں دیکھ سکتا اسی لئے وہ سی پیک کاسب سے بڑا مخالف ہے۔ سی پیک بھارت کے سینے پر سانپ لوٹنے کے مترادف ہے۔ یہ عظیم تر منصوبہ تکمیل کی طرف جتنی تیزی سے گامزن ہے اتنی ہی شدت سے بھارت کو بے چین کئے دے رہا ہے۔ وہ اس منصوبے کی پستیوں کی گہرائی تک جا کر مخالفت اور سازشیں کر رہا ہے۔ چین پر اس منصوبے کے خاتمے کیلئے ممکنہ حد تک دباؤ ڈال چکا ہے۔ متعدد بار وارننگ بھی دی کہ چین بقول بھارت متنازعہ علاقوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے اقتصادی راہداری گزارنے سے باز رہے۔ حالانکہ یہ علاقے بالکل بھی متنازعہ نہیں ہیں۔ چین بھارت کے دباؤ اور دھمکیوں میں آنے پر تیار نہیں۔ اس نے اقتصادی راہداری کی تکمیل پر عزم ظاہر کیا اور اپنے عزم و ارادے اور وعدے کے مطابق 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر کاربند ہے۔ پھربھارت نے پاکستان کے اندر سے بھی سی پیک کے مخالفین تیار کئے۔حالانکہ BICM منصوبہ بھی چین نے تیار کیا ہے اور سی پیک جیسی ہی ترقی ان ممالک میں ہونی تھی مگر بھارت صرف پاکستان مخالفت میں اس منصوبے کو ناکام کرنے پر تلا ہوا ہے۔ دوسری اہم بات جو بھارت کو اس منصوبے سے باہر رکھنے پر مجبور کر رہی ہے، اس کی علیحدگی پسند ریاستیں ہیں۔ بھارت ایک کثیرالقومی اور کثیر اللسانی ملک ہے اور یہاں مذکورہ علاقوں کے علاوہ بھی بہت سی ریاستوں میں علیحدگی کے رجحانات پائے جاتے ہیں کیوں کہ وہاں کے باسی اپنے حکمرانوں کے رویوں کے سخت شاکی ہیں جو اپنے رویوں اور کرتوتوں میں کوئی تبدیلی لانے پر بھی آمادہ نہیں۔ عام طور سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ بس بھارت سے آزادی کی تحریک صرف کشمیر میں چل رہی ہے مگر یہ خیال درست نہیں۔ کشمیر کے علاوہ مشرقی پنجاب ( خالصتان ) تامل ناؤ، آسام، ناگالینڈ، تری پورہ، منی پور، شمالی مشرقی بھارت سمیت کئی ریاستوں میں بھی علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔مذکورہ منصوبے میں بھارت کی عدم دلچسپی اور سست روی دیکھتے ہوئے چین ایک دوسرے متبادل راستے کی طرف دیکھ رہا ہے۔ چین کا خیال ہے کہ اگر بھارت اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا تو وہ اپنے صوبے کن منگ کو لاشیو اور منڈیلے کے راستے میانمار کی بندرگاہ کیونک پائیو سے ملادے گا۔ یوں اس کا راستہ بھی تھوڑا اور محفوظ ہو جائے گا اور بھارتی ریشہ دوانیوں سے بھی بچا رہے گا۔ لیکن دوسری طرف میانمار کی سیاسی ، سماجی اور علاقائی مشکلات بھی ہیں۔ میانمار کے مسلمانوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ سب سے سامنے ہے۔ میانمار بحران، انسانی المیے کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال کے باعث تقریبا نوّے ہزار روہنگیا مسلمان ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ امدادی اداروں نے اس صورتحال کے نتیجے میں ایک بڑی تباہی سے خبردار کیا ہے۔ اس صورتحال میں امدادی اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔گزشتہ برس اکتوبر میں بھی میانمار کے صوبے راکھین میں آباد روہنگیا افراد کے خلاف ایک حکومتی کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اس مسلم اقلیتی کمیونٹی کے ہزاروں افراد بنگلہ دیش چلے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے تازہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش میں پناہ کے متلاشی روہنگیا افراد کی مجموعی تعداد ڈیرھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد پر محصور افراد کو فوری ریلف پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس سب کے ساتھ ساتھ مذکورہ راہداری میں بھارت کا ایک بڑا او ر طاقتور ملک ہونا بھی ، اس کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ بھارت کی علاقے میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے اور دیگر ممالک پر اپنا حکم چلانے ، اور اپنے زیر نگین لانے کا مزاج علاقے کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ میانمار اور بنگلہ دیش بھارت کے مقابلے میں چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک ہیں اور جغرافیائی طور پر بھارت ان کے اوپر ہونے کی وجہ سے راہداری بیلٹ میں اپنی من مانی کرے گا۔ بنگلہ دیش کے ساتھ تو ویسے بھی بھارت کی لگتی ہے۔پانی، سرحد سمیت کئی ایک معاملات میں بھارت اور بنگلہ دیش ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر بنگلہ دیش، بھارت ، چین اور میانمار اقتصادی راہداری کا قیام التوا کا شکار ہو گیا ہے۔ اس منصوبے کی ناکامی کی بڑی اور اہم وجہ بھارت کا منفی رویہ ہے جو وہ دوسرے ممالک کے ساتھ رکھتا ہے۔ چین کے ساتھ بھی تو بھارت کا سرحدی تنازعہ چل رہا ہے۔ لہٰذا جب تک بھارت اپنے رویے میں لچک اور دوسروں کیلئے اپنے دل میں جگہ نہیں بناتا اس وقت تک اقتصادی راہداری منصوبہ تو کیا ایک سڑک بھی بنانی ناممکن ہے۔
*****

About Admin

Google Analytics Alternative