Home » تازہ ترین » الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج آخری نہیں تھا،شہباز شریف

الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج آخری نہیں تھا،شہباز شریف

راولپنڈی: سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف قوم کی خاطر وطن واپس آئے ہیں اور نواز شریف کی قید پاکستانی قوم کے لیے بہت بڑی قربانی ہے۔

اڈیالہ جیل میں اپنے بڑے بھائی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن میں ہارنے والے اور جیتنے والے تمام ہی امیدوار سراپا احتججا ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ انتخابات کے دھاندلی زدہ ہونے کی بات ہم ہی نہیں بلکہ غیر ملکی جرائد بھی کر رہے ہیں۔

8 اگست کو اپوزیشن کی جانب سے ہونے والے احتجاج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس میں موسم کی خرابی کی وجہ سے نہیں پہنچ سکے تھے، اب چاہے کوئی بھی اس حوالے سے کچھ بھی کہے انہیں فرق نہیں پڑتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ آخری احتجاج نہیں ہے بلکہ اس ضمن میں احتجاج مزید بھی ہوں گے۔

نواز شریف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نواز شریف پُر عزم ہیں، اور انہوں نے پوری قوم کے لیے سلام بھیجا ہے۔

شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ قوم کے لیے نواز شریف کی قید بہت بڑی قربانی ہے۔

شہباز شریف اور دیگر لیگی رہنماؤں کی اڈیالہ جیل میں نواز شریف سے ملاقات

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر سے جیل میں ملاقات کا سلسلہ جمعرات کو جاری رہا، جہاں شریف خاندان اور 25 لیگی رہنماؤں سمیت 40 افراد نے ان سے ملاقات کی۔

نواز شریف، ان کی صاحبزادی اور داماد سے شہباز شریف، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے ساتھ ساتھ جنید صفدر، مہرالنسا، راحیل منیر نے بھی ملاقات کی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبا زشریف لاہور سے بذریعہ موٹر وے اڈیالہ جیل میں پارٹی کے قائد نواز شریف سے ملاقات کے لیے اڈیالہ پہنچے۔

ان کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما راجہ ظفر الحق، برجیس طاہر، زبیر عمر، رانا ثنااللہ، امیر مقام، پروپز رشید، مریم اورنگزیب، زاہد حامد، طارق فضل چوہدری، بلیغ الرحمٰن، عابد شیر علی، رانا تنویر حسین، چوہدری تنویر، بیرسٹر دانیال تنویر، عظمیٰ بخاری، عرفان صدیقی، طارق فاطمی اور ان کی اہلیہ، عطاء الحق قاسمی، سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے ملاقات کی۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی کو ابتدا میں جیل میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، تاہم ایک گھنٹے کے احتجاج کے بعد انہیں اندر جانے کی اجازت ملی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف سے ملاقات ان کا بنیادی حق ہے جس سے انہیں محروم رکھا جارہا ہے۔

جیل کے باہر جاوید ہاشمی کے احتجاج کے دوران کوریج کرنے والے میڈیا نمائندوں سے جیل اہلکاروں نے بدتمیزی کی اور انہیں دھکے بھی دیے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو اڈیالہ جیل میں قید ہوئے 4 ہفتے ہوگئے۔

ملاقات کے لیے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ان کے سیلز سے نکال کر کانفرنس روم میں بٹھا دیا گیا تھا۔

تاہم جیل حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے نواز شریف سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست مترب کر رکھی تھی اور صرف انہی سے ملاقات کروائی گئی جن کا نام فہرست میں شامل تھا۔

اڈیالہ جیل کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اے این پی کے غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا حوصلہ ابھی تک بلند ہے۔

نواز شریف کی حالت کا تذکرہ کرتے ہوئے غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کے پاس جیل میں کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ملک میں دوبارہ الیکشن نہیں ہوتے تو حکومت نہیں چل پائے گی۔

ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ نوازشریف کا حوصلہ ابھی تک بلند ہے اور وہ ہر آنے والوں کو حوصلہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے لیے کوئی اہلکار روک نہیں سکتا جیل مینوئل کے تحت ملاقات کے لیے آتے ہیں۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ اپنے آپ نے کو سخت ظاہر کرتا ہے اس پر اوپر سے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

سینئر سیاست دان نے کہا کہ الیکشن کے نام پر قوم کو گولی دی گئی ہے، بہت ہی منظم طریقے سے دھاندلی کی گئی ہے اور خواجہ سعد رفیق والا حلقہ نہ کھول کر دھاندلی کو مزید فروغ دیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جو قطار تھی عمران خان اس کا آخری فرد ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نواز شریف سے ملاقات کے لیے پہنچے تو انہیں ملنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد وہ نواز شریف سے ملاقات کیے بغیر ہی واپس روانہ ہوگئے۔

About Admin

Google Analytics Alternative