Home » کالم » امریکہ اب ناگزیر نہیں!

امریکہ اب ناگزیر نہیں!

سچی بات یہ ہے کہ آج تک امریکہ نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیاہے۔ حال ہی میں امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی روکی جانیوالی امداد کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے پاکستان کو ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سالانہ امداد دی، مگر اب ہم پاکستان کو امداد نہیں دینگے کیوں کہ پاکستان نے ہمارے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹس میں کہا کہ پاکستان کو اربوں ڈالرز نہیں دیے جائیں گے، پاکستان ان ممالک میں سے ہے جو امریکہ سے لیتا تو بہت کچھ ہے مگر امریکہ کے لیے کچھ نہیں کرتا۔اس سے قبل بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو آیندہ سے کسی بھی قسم کی امداد نہ دینے کی دھمکی دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ گذشتہ پندرہ برسوں میں ہم نے پاکستان کو 33 ارب ڈالرز کی امداد دی جو بے وقوفی تھی۔ اب پاکستان کو کوئی امداد نہیں ملے گی۔انہوں نے الزام عاید کیا کہ ہم پاکستان کو بھاری امداد دیتے رہے لیکن دوسری جانب سے ہمیں جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔حالانکہ پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب عناصر کو امریکہ نے افغانستان میں بھیٹایا ہوا ہے اور ان کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں ہیں۔پاکستان نے امریکہ کو دو ٹوک جواب دیا ہے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے خطے کے امن کیلئے کام کرتے ہوئے دہشتگردی کیخلاف جنگ بھی کامیابی سے لڑی ہے اور افغان امن کیلئے وہ کچھ کیا ہے جو دنیا کے کسی اور ملک نے نہیں کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ عسکری، معاشی، سیاسی اور سماجی لحاظ سے سب سے زیادہ قیمت بھی پاکستان نے ہی چکائی ہے جس کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کے پاکستان پر الزامات کا جواب دے دیا، کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنا ریکارڈ درست کریں، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے 75 ہزار جانوں کی قربانی دی، 123 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا، امریکا نے صرف 20 ارب ڈالر دیئے، امریکا اپنی ناکامیوں پر پاکستان کو قربانی کا بکرا نہ بنائے۔ عراق ، افغانستان ، شام ، یمن اور لیبیا میں امریکی پالیسیوں کی ناکامی سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مشرق وسطی کے واقعات میں بڑی طاقتوں کے سیاسی فیصلوں کی اب کوئی وقعت نہیں رہی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی انسان دشمن پالیسیاں اور جمہوریت کے نام پر فوجی دھمکیاں اور اپنی معیشت کے حوالے بلند بانگ دعوے سب کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔جب سے امریکہ نے اپنے آپ جمہوریت کے نام پر بین الاقوامی جنگوں میں الجھایا ہے اس کی معیشت تباہی کے دھانے پر ہے جبکہ اس کے مقابل چائنا نے اپنے آپ کو جنگوں سے بچایا ہے تو چائنا کی معاشی ترقی دنیا کیلئے اچھی مثال ہے جبکہ امریکہ اپنی غلط حکمت عملیوں اور جنگوں میں الجھنے کی وجہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی اقتصادی اور سیاسی پاور ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کاسب سے بڑا مقروض ملک بن گیا ہے امریکی قرضے143 کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں حتیٰ کہ جب تک امریکی حکومت کو قرض لینے کی حد میں اضافے کی منظوری نہیں ملتی تو امریکی وزارت خزانہ کے پاس ادائیگیوں کے لیے رقم تک نہ ہوتی یہی وجہ ہے کہ عراق، لیبیا اور افغانستان میں بے مقصد لڑنے والے فوجیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل سے ہوتی ہے۔‘‘۔ امریکی اقتصادی بحران کا اندازہ اسی بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت مانے جانے والے امریکہ پر فی سیکنڈ40ہزار ڈالر کاقرض بڑھ رہا ہے ۔امریکی وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی خزانے میں نقد رقم صرف 73ارب 70کروڑ ڈالر رہ گئی ہے اوراگر قرض لینے کی حد میں اضافہ کی منظوری نہیں دی گئی ہوتی تو حکومت کو اپنے واجبات کی ادائیگی کے لیے رقم کی شدید کمی کا سامنا ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں حکومت دیوالیہ ہوکردھندہ ہوسکتی ہے۔ایک رپورٹ میں یہ ایک دلچسپ خبر ہے کہ دنیا کے امیر ترین ملک امریکہ کے خزانے میں اتنے ڈالر بھی نہیں ہیں جتنے ایپل کمپنی کے پاس ہیں۔ امریکی ریزروبینک میں 73.76ارب ڈالر رہ گئے ہیں جب کہ ٹکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا نام ایپل کمپنی کی تجوری میں نقد رقم 75.87ارب ڈالر جاپہنچی ہے۔یہ بھی پیشنگوئی ہے کہ امریکہ چھ خود مختار ریاستوں میں تبدیل ہوسکتاہے اگر سویت یونین ٹوٹ سکتا ہے تو امریکہ کیوں نہیں امریکہ کا جنگوں میں الجھنے کا سب سے ذیادہ فائدہ روس اور چین نے اٹھایا ہے اور اب یہ دنیا کی بڑی معاشی قوتیں ہیں اور لگتا یہ ہے کہ چین اور امریکہ مستقبل میں دنیا کے نئے مگر اہم کھلاڑی ہوں گے اور ناقص حکمت عملیوں کی وجہ سے سویت یونین کی طرح امریکہ کی بھی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجائے گی اور اس کے دیوالیہ ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ امریکہ میں قرضوں کے بحران کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پہلی بار نہیں ہوا ایسا اس سے قبل 1790پھر1933پھر ایک جزوی بالی بحران 1979اور پھر سابق صدر جارج بش کے آخری دور2008میں اقتصادی بحران اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اس بحران نے تو امریکی ٹیکس دہندگان کو گھروں سے بے گھر کر کے فٹ پاتھ پر لابٹھایا تھا لیکن جارج بش نے دنیا کو جنگوں کی �آگ میں جھونکے رکھا یہی وجہ ہے کہ آج خود امریکی سیاستداں اپنے ملک کی ان جنگ جو قسم کی پالیسیوں سے بے زاری کا کھلم کھلا اظہار کررہے ہیں۔ امریکہ کے سابق انٹلی جینس چیف ونس بلیئر نے کہا ہے کہ محض 4ہزار دہشت گردوں کی پکڑ دھکڑکے لیے سالانہ 80ارب ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9/11کا واقعہ گویا امریکہ نے اپنے پاؤں پر خود کلھاڑی سے وار کیا ہے اور اس واقعہ کے بعد اربوں ڈالر جنگوں میں جھونک دئے گئے ہیں جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں اور لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون بھی اس کے ذمہ ہے ۔اور یہ امراب کسی سے پوشیدہ نہیں رہا ہے کہ امریکہ دہشتگردوں کو اپنے سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے امریکہ دہشتگرد گروہوں کو اپنی مخالف حکومتوں کے خلاف استعمال کررہا ہے۔

(بقیہ سامنے صفحے پر)

About Admin

Google Analytics Alternative