Home » کالم » امریکی صدر کی مسئلہ کشمیرپرپھرثالثی کی پیشکش۔۔۔بھارتی ہٹ دھرمی برقرار
adaria

امریکی صدر کی مسئلہ کشمیرپرپھرثالثی کی پیشکش۔۔۔بھارتی ہٹ دھرمی برقرار

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پردوبارہ سے ثالثی کی پیشکش کرکے دنیا کو یہ باور کرادیا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی سطح کامسئلہ ہے اوراس کاحل ہونا خطے میں قیام امن کے لئے انتہائی ضروری ہے، لیکن بھارتی ہٹ دھرمی بدستور قائم ہے اس نے امریکی ثالثی کونہ صرف مسترد کیا بلکہ مزیداٹھائیس ہزار فوج مقبوضہ کشمیربھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وہاں پر مسلمانوں کواقلیت قراردینے کاعندیہ بھی دے دیاہے، ادھرٹرمپ کے مشیرساجدتارڑ نے کہاکہ بھارت بدحواسی کاشکارہوکرمقبوضہ کشمیر میں اضافی فوج بھیج رہاہے جس کا اسے امریکہ اور بین الاقوامی برادری کو جواب دینا ہوگا ۔ نیز صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے صدرٹرمپ نے کہاکہ وہ وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کرچکے ہیں اور ان کے خیال میں دونوں ہی زبردست انسان ہیں ، مجھے لگتا ہے دونوں ایک ساتھ اچھے تعلقات قائم کرسکتے ہیں ،مسئلہ کشمیر سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بھارت نے اب تک مسئلہ کشمیر حل کرنے کی پیشکش قبول نہیں کی ہے، یہ مودی پر منحصر ہے جبکہ میں اس حوالے سے پاکستان سے بات کرچکا ہوں ، اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان مسئلہ حل کرنے کے لیے مدد کی جائے تو میں ثالثی کا کردار ادا ضرور کرنا چاہوں گا ۔ دوسر ی جانب بھارت نے ایک بار پھر مسئلہ کو کشمیر پاکستان اور بھارت کا معاملہ قرار د یتے ہوئے تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کردیا، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے بنکاک میں آسیان اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کی جس کا حوالہ دیتے ہوئے جے شنکر نے ٹوءٹر پر بیان جاری کیا،بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ کشمیر پر کسی بھی قسم کی بات چیت صرف پاکستان کے ساتھ ہی کی جائے گی ۔ ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت ایل او سی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں نہتے لوگوں کو شہید کر رہا ہے، اقوام متحدہ کی قرارداد موجود ہے کہ کشمیر متنازع علاقہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے کہ بھارت خون کی ہولی کھیل رہا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کے حوالے سے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی بات خطے کے حالات کو سامنے رکھ کر کی ہے، ٹرمپ کی پیشکش پر ان کے شکر گزار ہیں ،پاکستان نے امریکی صدر کی پیشکش پر آمادگی ظاہر کر دی ہے لیکن بھارت کشمیر پر مذاکرات سے کترا رہا ہے،بھارت کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر دو طرفہ معاملہ ہے لیکن بھارت مسئلہ کشمیر پر دوطرفہ نشست کے لیے بھی تیار نہیں ، بھارت مذاکرات کے لئے آسانی سے نہیں مانے گا، بھارت نے صدر ٹرمپ کی گفتگو پر ہی سوالیہ نشانہ کھڑے کر دیئے ہیں ، امریکا کے بھارت کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں اور انہیں مراعات بھی خصوصی دی گئی ہیں ، امریکا بھارت کو سمجھائے اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، مقبوضہ کشمیر میں معاملات بگڑتے جا رہے ہیں ، پاکستان کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ خطے میں امن سے رہنا چاہتاہے اور اس وقت سارا فوکس افغانستان پر ہے، بھارت افغان امن عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے تو اس سے خطے کا امن متاثر ہو گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے منتخب ہونے کے بعد پیغام دیاتھا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے ہم دو بڑھائیں گے ۔ اب ضروری ہے کہ امرےکہ اور عالمی طاقتیں تنازعہ کشمےر پر ثالثی مذاکرات شروع کرنے کےلئے بھارت پر دباءو ڈالےں ماضی کے برعکس اس وقت امرےکہ اور بھارت کے درمےان بہت اچھے تعلقات ہےں اور اگر امرےکہ چاہے تو مسئلہ کشمےر کے حل کےلئے بھارت پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرسکتا ہے تنازعہ کشمیر کاحل خطے میں امن اوراستحکام کےلئے ناگزیر ہے ،تنازعہ کشمیر بھارتی رویے کی وجہ سے توجہ کامرکز بن گیاہے ۔ امریکی صدرخطے میں امن واستحکام کے حوالے سے انتہائی فکرمند ہیں ۔

افغانستان میں امن عمل۔۔۔پاک امریکہ اتفاق

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی جس میں افغانستان میں امن عمل کی کامیابی کی کوششوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں افغان امن عمل کے حوالے سے باہمی متفقہ مقاصد کے حصول پر اتفاق کیا گیا، زلمے خلیل زاد نے افغان امن عمل کیلئے پاکستان کے مخلصانہ تعاون کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ دیگر ممالک بھی افغان امن عمل کے معاملے پر پاکستان کی تقلید کریں گے ۔ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کے حصول کیلئے کی جانے والی کوششوں کو تیز کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا ۔ بعد ازاں امریکی سفارتخانے نے زلمے خلیل زاد کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ان کی مصروفیات اور ملاقاتوں پر مبنی اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ زلمے خلیل داد نے دورے کے دوران پاکستانی قیادت کیساتھ افغان امن عمل میں ہونے والی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا،پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں میں مثبت پیشرفت اور مستقبل کے اقدامات، افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان کے کردار پر بات چیت ہوئی ۔

سپیکرقومی اسمبلی کا ایس کے نیازی کواہم انٹرویو

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے روز نیوز کے معروف پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ حاصل بزنجو نے ڈی جی آئی ایس آئی سے متعلق مناسب بات نہیں کی ،پی آئی اے کے ملازمین کے حوالے سے حکومت گولڈن شیک ہینڈ بارے سوچ رہی ہے،جہاں تک تحریک عدم اعتماد میں ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے الزامات عائد کئے جارہے ہیں مجھے اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا ، تمام سینیٹرز نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا ہے، چیئرمین سینیٹ قانون کے مطابق کام کررہے ہیں ، میں کہتا ہوں کہ چیئرمین سینیٹ کے کردار اور قانون کے مطابق کام کرنے کی وجہ سے لوگوں نے ان پر اعتماد کیا ہے اگر پارلیمنٹ میں ایسا ماحول بنائیں گے تو لوگوں کا اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ میں کیا کوتاہی یا کمی تھی ، میرے خیال میں جو کچھ ہوا ہے یہ نہیں ہونا چائیے تھا،سینیٹ ایک مقدس ادارہ ہے،سینیٹ میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہے،سینیٹ میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو تھنک ٹینک کے طورپر کام کرتے ہیں ،سینیٹ جیسے ادارے کو بھی اگر متنازعہ بنایا جائے تو یہ ملکی مفاد میں نہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان سے نکل آئے،کشمیر مسئلے پر پھر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں کشمیر مسئلے پرثالثی کےلئے تیار ہوں ،اس پر پاکستان کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے،مگر بھارت بھی تو مانے نا،پروڈکشن آرڈر پرجو بھی قانون کے مطابق ہوگا ضرور کرونگا،انشا اللہ حکومت5سارے پورے کریگی،اس وقت جو بھی حالات ہیں وہ وقتی ہیں انشا اللہ بہتری ہوگی، آگے جتنا بھی وقت آئے گا ترقی اور خوشحالی کا دور ہوگا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative