Home » کالم » سوچ بچار » امریکی ڈو مور کے مقابلے میں چینی دست تعاون اہم

امریکی ڈو مور کے مقابلے میں چینی دست تعاون اہم

پا کستان اور چین کے درمیا نمثالی دوستی کا کو ئی متوازی نہیں اور دونوں ممالک کے ما بین تعلقات مشترکہ جغرافیائی، اقتصادی، تاریخی اور اسٹر یٹجک مفادات پر مبنی ہیں۔ پاکستا ن چینی تحفے سی پیک کی دل سے قدر کرتا ہے اور جلد از جلد اس کی تکمیل کے لیے مصروف عمل ہے۔ سی پیک منصوبہ ہماری تمام ترتوانائیوں اور توجہ کا مرکز ہے۔حالیہ انتخابات کے بعد عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی نئی حکومت کے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد یہ کسی بھی اعلیٰ چینی شخصیت کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا میرا دورہ نئی حکومت سے تعلقات بہتر بنائے گا۔ پاکستان کو درپیش مسائل ملکر حل کر لیں گے۔ پاکستان کیساتھ سٹرٹیجک تعلقات مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ باہمی تجارتی حجم میں مزید اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کیساتھ دفاعی تعاون بڑھائیں گے۔ پا کستان اور چین ہر آزما ئش پر پورا اتر نے والے سٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے پاکستان کی نئی حکومت کے لئے چینی قیادت کی طرف سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے نزدیک ہمیشہ ایک ترجیحی دوست ملک رہے گا۔ پاکستان اور چین دونوں ’’ آئرن برادرز‘‘ ہیں۔ دونوں ملک علاقائی اور سلامتی کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے دورہ پاکستان میں واضح طورپر کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ پاکستان میں روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کریگا۔ اس کے تحت شروع کئے جانے والے تمام منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اس جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین اور پاکستان دونوں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کر رہے ہیں۔جہاں تک سی پیک پر بھارتی اعتراض کی بات ہے تو چین نے بھارت پر بھارت پر واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے گزرنے والی متنازعہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے سلسلے میں اختلافات کو دور کرنے کی غرض سے بھارت کے ساتھ بات چیت کو تیار ہے۔چین میں بھارت کے سفیر گوتم بمبا والے کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے گزرتی ہے جس پر بھارت کا دعویٰ ہے۔ لہٰذا اس سے ہماری علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اس پر جتنی زیادہ گفتگو کریں گے اسے حل کرنے میں اتنی ہی آسانی ہوگی۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ میں نے متعلقہ رپورٹ دیکھی ہے۔ جہاں تک CPEC کا تعلق ہے تو چین نے ہمیشہ اپنی پوزیشن کا اعادہ کیا ہے۔ جہاں تک دونوں ملکوں میں اختلافات کی بات ہے تو چین بھارت کے ساتھ بات چیت کرنے اور مناسب حل ڈھونڈنے کیلئے تیار ہے تاکہ یہ اختلافات ہمارے قومی مفادات کو متاثر نہ کریں۔ یہی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین کسی بھی مسئلے پر اختلافات ہوں اْنہیں ایمانداری اور باہمی احترام کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔ CPEC صرف اقتصادی تعاون کا ایک پروجکٹ ہے۔ اس سے کسی تیسرے فریق کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔چینی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان اس لئے بھی اہم ہے کہ ابھی چند روز پہلے امریکی وزیر خارجہ پومپیوپاکستان کو ڈو مور کا حکم دے کر گئے ہیں۔ ایسے میں ضروری تھا کہ کوئی اپنا ساتھ دینے کیلئے ساتھ کھڑا ہوتا۔ ان حالات میں دوست ملک چین کے وزیر خارجہ کا وفد کے ہمراہ دورہ پاکستان کیلئے بڑا باعث اطمینان ہے اور ہمیں یہ یقین ہے کہ ہم تنہا نہیں اور یہ کہ چین کسی بھی حالت میں پاکستان کو مایوس نہیں کرے گا۔ اس اہم دورے کے مقاصد کا خلاصہ ایک فقرہ میں یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ڈومور کے تقاضے لے کر آئے تو چینی وزیر خارجہ یکجہتی کے اعادہ کیلئے اور دست تعاون بڑھانے آئے۔ افغان جنگ کے خاتمے اور سی پیک پر کام کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کے بارے میں امریکہ اور بھارت کے رویے حد درجہ معاندانہ ہو گئے۔ افغان عمل میں بھارت کو کردار دینا پاکستان کی قربانیوں پر پانی پھیرنے اور خدمات سے انکار کے مترادف ہے۔ اس موقع پر ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ چین کو یقین دہانی کرائی ہے پاکستان میں چینی باشندوں کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔ پاکستان، چین کے ساتھ عالمی فورمز پر بھی مل کر کام کرتا رہے گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا پاکستان، چین تعلقات کی بنیاد باہمی احترام پر مبنی ہے۔ انہوں نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور کہا خطے میں قیام امن کیلئے پاک فوج کی خدمات قابل تحسین ہیں دنیا امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرے۔ چین ترقی اور خوشحالی پر یقین رکھتا ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative