Home » کالم » امن وامان کی صورتحال میں بہتری

امن وامان کی صورتحال میں بہتری

پروپیگنڈہ’کو دودھاری تلواراورایسے سکہ سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے جس کے دورخ واضح ہوتے ہیں مثلا کسی بھی سماج کے ا فراد کے ا فکارو ارادوں پر اور ان کے عقل وجذبات پرقابو پا نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں ٹارگٹڈ بناکر اپنی مقصد براری کیلئے انہیں مسخرکرلینا ایک شکل یہ ہوئی دوسرارخ یہ ہوتا ہے کہ پروپیگنڈے کے ذریعہ ملکی طبقات کے کچے کمزور اورناپختہ ذہنوں کو برانگیختہ کرکے سماج کے باہمی میل ملاپ کے ملی اورقومی رشتوں میں نفرتوں کے بیج بونا’انہیں پروان چڑھانا اوران کی آبیاری کرناجس کے نتیجے میں معاشرے میں شروفساد اورفتنہ پھیلے سماجی طبقات میں عدم اعتمادی کی غیر انسانی فضا ہموارہواصل میں یہ وہ منفی پروپیگنڈا ہوتا ہے جوپاکستان دشمن ایجنسیوں نے اب قبائلی علاقوں میں شروع کرادیا ہے گو اِسے پختون عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہورہی ہے کل تک قبائلی علاقہ جات میں دنیا کی بدترین ظلم وستم پرمبنی وحشیانہ دہشت گردی کا دوردورہ تھا ماضی میں خیبرپختونخواہ میں جب’کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان’ کے سرکش جنونی دہشت گردوں نے خیبر پختونخواہ کو اپنی سفاکانہ درندہ صفت دہشت گردی کے بل بوتے پر یرغمال بنایا ہوا تھا اس زمانے میں وہاں لسانی تنظیم کا نام نہ تھا وہاں دہشت گرد شیطانی طاقت کا منبع تھے پختونوں کی لاشیں روز اٹھ رہی تھیں، اسکول تباہ ہورہے تھے، مساجدوں میں بم دھماکے روز کا معمول تھے، پورے صوبہ کا انتظامی ڈھانچہ ڈھے چکا تھا، علاقہ کے معززپختون بزرگوں کوچن چن کرسرعام قتل کیا جا رہا تھا، خیبرپختونخواہ کے شہرت یافتہ سیاحتی مقام وادی سوات ‘وادی موت’ بن چکی تھی وادی کا ریاستی انتظام وانصرام’ملا ریڈیو’ نام کے ایک دہشت گرد’ملا فضل اللہ’ نے سنبھالا ہوا تھا، ہرصبح سوات کے چوک میں دوچاربے گناہ پختونوں کی لاشیں کھمبوں سے ٹنگی ملتی تھیں خیبر پختونخواہ کے ضلعی وڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز کے علاقوں میں موت کا دندناتا ہولناک رقص ختم ہونے پر نہیں آرہا تھا، جبکہ صوبائی دارلحکومت پشاورکا کون ساایسا بازار باقی رہ گیا تھا جہاں ظالم وسفاک ملافضل اللہ کے تربیت یافتہ خودکش بمباروں نے ا نسانی جسموں کے چیتھڑے نہ اڑائے ہوں، کالعدم ٹی ٹی پی کی یہ وہ غیر انسانی ظالمانہ کارگزاریاں ہیں جنہیں پاکستانی پختون مسلمانوں کی اکثریت کی نسلیں کبھی فراموش نہیں کرسکتیں خیبرپختونخواہ میں عالمی دہشت گردوں کے آلہ کارملکی دہشت گردوں نے جبروستم کے فتنہ وفساد کی جڑ بیخ کو کاٹ پھنکنے میں اس وقت کی حکمران اشرافیہ اپنی آئینی ریاستی ذمہ داریوں سے کماحقہ عہدابرآ ہونے میں ناکام رہی اس وقت کی خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت آئی جے آئی کی قیادت نے مجرمانہ غفلت برتی ، مرکزی حکومت سے با ہمی مشاورت نہ کی گئی یوں خیبرپختونخواہ میں آئین شکن دہشت گردوں کی سرکوبی نہ کرنے کی تمام تر ذمہ داری آئی جے آئی پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے نامعلوم وجوہ کی بنا پرپاکستان کے قبائلی علاقہ جات کودہشت گردوں کے رحم وکرم پرچھوڑدیا دہشت گردوں کے ساتھ نرمی کیوں برتی گئی آج نہیں توکل سب کچھا چٹھہ سامنے آجائے گا کہ اس انسان دشمن سازش کے پیچھے کون سے سیاسی عوامل کارفرما تھے آج تک پاکستانی قوم کو معلوم نہ ہوسکے قبائلی علاقہ جات سے دہشت گردی کے انسانی لہوپینے والے اس عفریت نے ملک کے سبھی شہروں کو اپنی خونریز لپیٹ میں لے لیاشہرشہر بم دھماکے قریہ قریہ اور گلی گلی میں کاروباری مراکز اورسرکاری دفاتران خودکش بمباروں کے نشانوں پر آگئے کبھی کراچی کبھی لاہورکبھی بلوچستان کبھی اسلام آباد کہاں نہیں پاکستانیوں سیکورٹی فورسنز اور پولیس کے اہلکاروں کا لہو بہایا گیا نہ مساجد محفوظ نہ اقلیتوں کی عبادت گاہیں نہ ہی امام بارگاہیں کوئٹہ میں توحد کردی گئی سینکڑوں کی تعداد میں ایک وقت میں بے گناہ مسلمانوں کو سفاکی سے شہید کیا گیا، پوراملک جب دہشت گردی کے جبروستم کی سفاکیتوں کی بھینٹ چڑھ گیا عوام کی جان ومال بے وقعت ہونے لگیں سیاسی حکومتیں اپنی حکومتیں کو بچانے کی فکروں میں عوام کی جان ومال سے بے خبرہونے تک کو آ پہنچیں تو پاکستان کے آئین اور قانون نے سرکشوں کی سرکشیوں کو لگام دینے کیلئے میدان عمل میں اترکراپنا کردارادا شروع کردیا پاکستانی مسلح افواج نے اندرون ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے امن وامان کو ہر قیمت پرقائم ر کھنے ا ور بیرون ملک اپنی سرحدوں پر جغرافیائی تحفظ کا عہد کیا ہوا ہے توپھر پاکستان کے محافظوں نے فیصلہ کیا بہت ہوگئی اب آئین کے سرکشوں کو مزید مہلت نہیں دی جاسکتی فوج نے’آپریشن راہ نجات’شروع کر دیا سوات کے شہری گواہ ہیں کہ فوجی آپریشن سے قبل سوات کیسا تھا اور آپریشن کے فیصلہ کن مراحل کے نتیجے میں سوات میں امن وامان کی کیسی خوشگوار تبدیلی نے سوات کا پرامن چہرہ اور نکھارالیکن اس لہورنگ تگ ودو میں ملکی افواج کے جواں ہمت جوانوں اورجانثار افسروں کی کثیر تعداد نے قیمتی جانوں کے نذرانے وطن کے اندرونی امن وامان کی بحالی پر نچھاورکردئیے، جنوبی وزیرستان میںآپریشن راہ راست کے ساتھ آپریشن ‘ خیبر ٹو’ شروع ہوا ، پختون عوام نے اپنے درمیان گھسے دہشتگردوں کی نشاندہی کیلئے اپنے گھر بارچھوڑے لاکھوں کی تعداد میں فوج کی نگرانی میں ‘پناہ گزین کیمپ ‘قائم ہوئے پرامن پختون عوام ان پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہوئے پھر ملکی افواج نے سوات سمیت قبائلی علاقہ جات میں اس طرف افغان بارڈرز تک مشکل اور دشوار ترین سنگلاخ پہاڑی علاقوں میں گھس کرنہ صرف دہشتگردوں کو بھگا بھگا کر جہنم واصل کیا ان کے اسلحہ خانوں کو تباہ کیا دہشتگردمزید جنونی وحشت میں مبتلا ہوگئے پاگل پن کی جنونیت میں دہشتگردوں نے 16 دسمبر 2014 کی صبح پشاور کے آرمی پبلک اسکول کی عقبی دیواریں پھاند کر پشاور میں گھرگھرقیامت صغری برپاکردی اسکول اسٹاف سمیت ڈیڑھ سومعصوم طلبا اورطالبات کو بھون ڈالا پرنسپل محترمہ طاہرہ قاضی اور استاد عمرخالد کو جو طلبا کی ڈھال بن گئے تھے انہیں علیحدہ کیا پھربچوں کے سامنے پرنسپل اور استاد کو زندہ جلایا گیا یوں پورے ملک میں کہرام سا مچ گیا ہر پاکستانی کا دل جوش انتقام کی تصویر بن گیا، اس سانحہ عظیم کے بعد ملکی افواج نے دہشتگردوں’ ملک میں پھیلے سہولت کاروں اور انہیں مالی تعاون فراہم کرنیوالوں کے گرد اپنا گھیراور تنگ کردیا، حکومت نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س میں ہنگامی بنیادوں پر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی الغرض دہشت گردی اپنے انجام کو ضرورپہنچی لیکن پاکستان کے ازلی دشمنوں کی نیندیں اڑگئیں ،کل تک جو دہشتگرد تھے، آج وہ اپنے حلیے اور شناختی نشوونما کے رہن سہن کے انداز تبدیل کرکے پُر امن پختون سماج کا حصہ بن گئے انہوں نے نیا نعرہ ایجاد کرلیا ‘پختون تحفظ تحریک خاص کرملکی افواج کے خلاف پرانے عناد اورپرانی نفرتوں کا نعرہ بلندکرکے وہ سمجھے ہیں کل تک جنہیں طاقت کے زورپر مغلوب کرنے کی وحشیانہ حرکات کے وہ مرتکب ہورہے تھے پختونوں کو وہ سب ازبر ہے، پاکستانی فوج کی باوقاروردی نے پختونوں کی نسل کشی کرنے والوں سے عبرتناک انتقام لیا ہے، لہٰذا پرامن پختونوں کا پیغام ان تک ضرورجانا چاہئیے کہ پاکستانی پختون بخوبی سمجھتے ہیں کہ ان کا سچا مخلص ہمدرد اور بے غرض دوست کون ہے اور را کا آلہ کار دشمن کون ہے؟

About Admin

Google Analytics Alternative