Home » کالم » امیر قوم کے غریب لیڈر

امیر قوم کے غریب لیڈر

 

انتخابات 2018ء کے امیدواروں کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اثاثوں کی تفصیلات جمع کر ادی گئیں اگرچہ ان کا خاصا حصہ امیدوروں کے معیار زندگی اور وقتاً فوقتاً سامنے آنے والی اطلاعات سے سو فیصد مطابقت رکھتا تو محسوس نہیں ہوتا اور تاثر یہی ہے کہ متعدد امیدواروں نے ملک کے اندر اور ملک سے باہر جن اثاثوں کے بارے میں الیکشن کمیشن کو مطلع کیا ہے وہ ایسے اثاثے ہیں جن کا حساب کتاب رکھا جاتا ہے اور جو سامنے ہیں ۔معلوم ہوتا ہے کہ اس بار متعدد امیدواروں کی فراہم کردہ اثاثوں کی تفصیلات سابقہ گوشواروں کے برعکس حقائق سے قریب ہیں ۔اس کی وجہ شاید باسٹھ تریسٹھ کی لٹکتی تلوار اور احتساب کا خوف تھا لیکن اتنا ضرور ہوا کہ تمام امیدواروں نے اپنی پراپرٹیز کی قیمت قیام پاکستان سے قبل کی لکھ دیں ۔جس زمین کا مارکیٹ کا ریٹ کروڑوں میں ہوتا ہے ان کو زمین اتنی سستی مل جاتی ہے جو ہر پاکستانی کیلئے حیرانگی کاباعث بنتی ہے اور ہر صاحب استطاعت کا دل للچاتا ہے کہ کیوں نہ اتنے سستے داموں ہم اسے خرید لیں۔جس شہر میں ایک چار مرلے کا گھر کروڑوں میں بکتا ہے اسی شہر میں ان کے محلات کی قیمت چند لاکھ سے اوپر نہیں ہوتی ۔پوش علاقوں میں ان کے پلاٹوں کی قیمت بھی برائے نام ہوتی ہے ۔وطن عزیز میں پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور اثاثوں کے معاملات ہی ایسے ہیں جن پر تمام امیدواران بلا تخصیص سیاسی پارٹی اور آپس کے اختلافات کے ایک پیج پر نظر آتے ہیں ۔مولانا فضل ا لرحمٰن کا گھر صرف پچیس لاکھ کا بتایا جاتا ہے ۔دنیا بھر کی سہولتوں سے مزین عمران خان کے بنگلے کی مالیت ایک کروڑ اور کچھ بتائی گئی ہے ۔بلاول زرداری کی طرح عمران نیازی کو بھی زیادہ تر پراپرٹی تحفوں کی صورت میں ہی ملی ۔ عمران خان کے اے ٹی ایم علیم خان سب سے زیادہ مقروض نکلے یوں تو ان کی 41کمپنیاں ہیں اور جائیداد91کروڑ روپے کی لیکن وہ بیچارے ایک ارب روپے کے مقروض بھی نکلے یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے یہ قرض اپنی ہی کمپنیوں سے لیا ہوا ہے ۔خورشید شاہ صاحب کے گھر کی ملکیت صرف تین لاکھ روپے ہے ان کا گھر تو اپنے مرزا غالب کے گھر کی ہی مثل معلوم ہوتا ہے
اگ رہا ہے درو دیوار پہ سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
ؑ ؑ عارف علوی صاحب نے اپنے پچاس تولہ سونے کی قیمت ساڑھے تین لاکھ لکھی ہے ۔بلاول ہاؤس کراچی جس کا ایک زمانے میں شہرہ ہے اس کی قیمت صرف 30لاکھ روپے لکھی گئی ہے سراج الحق تو اس کے 50لاکھ بھرنے کو تیار ہو گئے تا کہ وہاں یتیم خانہ کھولا جا سکے ۔آصف علی زرداری 75کروڑ کے مالک ہیں جبکہ جائیداد اس کے علاوہ ہیں ۔ان کے پاس 349ایکڑ زرعی اراضی اور دبئی میں بھی پراپرٹی ہے ۔انہوں نے اسلحہ اور لائیو سٹاک پر بھی خطیر رقم خرچ کی وہ 6بلٹ پروف گاڑیوں کی بھی مالک ہیں ان کے صاحب زادے بلاول بھٹو زرداری ارب پتی ہیں ۔میاں شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی 21فیکٹریاں ہیں لیکن وہ خسارے میں جا رہی ہیں ۔عامر لیاقت صاحب جن کی ڈگریوں کے حوالے سے ہم کالم بھی لکھ چکے ہیں وہ ڈاکٹر نہیں بلکہ صرف ایم اے پاس نکلے۔سردار ایاز صادق کے اثاثوں کی مالیت ساڑھے چار کروڑ روپے اورتین بینک اکاؤنٹس۔کیپٹن صفدر کے چار کروڑ روپے کے اثاثے ،تین ہزار کنال زرعی اراضی،دس لاکھ کی جیولری جبکہ مریم صفدر یا نواز پانچ ملوں میں شیئر ہولڈر ، ڈیڑ ھ ہزار کنال اراضی بھی رکھتی ہیں ملک کے اندر 84کروڑ روپے کے اثاثے ہیں ۔معزز قارئین آج ذرائع معلومات بڑھ جانے کے باعث عام آدمی کیلئے امیدواروں کے کوائف جاننا بہت آسان ہو چکا ہے ۔اب تو عوام کے سامنے لیڈروں کے اصل چہرے ظاہر ہو چکے اب عوام کے عقل و شعور کا امتحان ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال کس طرح کرتے ہیں ۔یہ دولت مند لیڈر دن رات دولت کے انبار تو اکٹھے کرتے ہیں لیکن یہ رات کی نیند اور دن کے چین سے محروم ہوتے ہیں ان سے تو فٹ پاتھ پر سوئے مزدور اور غریب کو بے فکری کی نیند میسر ہے۔ قارون کتنے خزانوں کا مالک تھالیکن اس کی ہوس زر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔اگر ہوس زر پر قابو پالیا جائے تو اطمینان قلب نصیب ہو جاتا ہے۔نبی کریمؐ کا ارشاد مبارک ہے کہ اگر آدمی کے پاس دو وادیوں کی مقدار میں سونا ہو تو وہ تیسری وادی کا لالچ کرے گا ۔اس پر مجھے ایک حکایت یاد آگئی۔ایک بادشاہ جو بہترین سلطنت و رعایا کا حاکم ہونے کے باوجود قانع نہیں تھا اور ہر وقت پریشانی و تفکرات کا شکار رہتا ۔ایک دن اس نے دیکھا کہ اس کا ایک خادم اپنے معمولات کے دوران خوش گپیوں میں مصروف رہتا ہے اور ہر وقت ہنستا رہتا ہے ۔ بادشاہ نے سوچا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ میں اتنی بڑی سلطنت کا واحد حکمران ہوں مگر یہ ادنیٰ سا خادم کچھ نہ ہونے کے باوجود اتنا خوش!بادشاہ نے اسے بلا بھیجا اور پوچھا کہ تم اتنا خوش کیوں رہتے ہو ؟ میں اور میرے خاندان کی زیادہ ضروریات نہیں بس ایک چھت چاہیے اور دو وقت کی روٹی اور بس!خادم نے جواب دیا ۔بادشاہ کو اس جواب نے مطمئن نہ کیا ۔اس نے شام کو اپنے تمام وزراء کو اکٹھا کیا اور اپنے سب سے قابل اعتماد مشیر سے اس خادم کی بابت استفسار کیا ۔مشیر نے ذرا توقف کے بعد معنی خیز انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ بادشاہ سلامت میرا یہ خیال ہے کہ آپ کا یہ خادم ابھی باضابطہ طور پر99کلب کا حصہ نہیں بنا ۔ 99کلب۔۔۔؟بادشاہ نے حیرانی سے پوچھا ۔ جی ہاں عالی جاہ 99کلب!! یہ کیا ہوتا ہے اس کیلئے آپ کو سونے کے بنے ہوئے 99سکے اس خادم کے گھر کے باہر دہلیز پر رکھوانے ہوں گے ، مشیر نے وضاحت سے جواب دیا ۔خادم نے جب دوسرے دن اپنی دہلیز پر پڑے سونے کے سکوں سے بھرا ہوا تھیلہ دیکھا تو فوراً گھر لا کر کھولا ۔ دیکھتے ہی خوشی سے اس کی چیخ نکل گئی ۔اتنے سارے سونے کے سکے ؟ وہ ہکا بکا رہ گیا ۔فوراً ہی سکوں کو گننے لگ گیا 99سکے دیکھ کر اسے ایسا لگا کہ یہ پورے سو ہونے چاہئیں تھے ۔وہ بار بار گنتا لیکن سکے 99ہی نکلتے ۔وہ سوچتا کہ سواں سکہ کہاں چلا گیا آخر کسی کو کیا ضرورت تھی کہ 100کی بجائے 99سکے میرے گھر کے باہر چھوڑ کر جاتا،آخر وہ سواں سکہ گیا کہاں ؟ سٹپٹاتے ہوئے سکوں کے پاس بیٹھ کر سوچنے لگا ،با لآخر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ آج کے بعد مزید محنت کرکے اتنے پیسے کمائے گا تاکہ 100سکے پورے ہو سکیں ۔اس دن سے اس خادم کی زندگی بدل گئی ۔اس کے چہرے پر بشاشت کی بجائے پریشانی اور تھکاوٹ کے آثار ہمیشہ نمایاں رہنے لگے ۔وہ کسی سے بات کرتا تو تلخی کے ساتھ ! بیوی بچے کوئی بات کرتے تو وہ ان کو کاٹنے کو دوڑتا ۔اس نے چلتے پھرتے گانے کی عادت بھلا ڈالی اور ہر وقت ایک ہی دھن میں مگن رہتا کہ سواں سکہ کیسے حاصل ہو گا ؟بادشاہ نے اس کی یہ حالت دیکھی تو وہ پریشان ہو گیا اور مشیر کو بلوا کر پوچھنے لگا کہ اسے کیا ہو گیا ہے ؟ بادشاہ سلامت آپ کا خادم اب باضابطہ طور پر 99کلب کا حصہ بن گیا ہے ۔مشیر نے جواب دیتے ہوئے وضاحت کی کہ 99کلب ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ جن کے پاس خوش رہنے کیلئے بہت کچھ ہوتا ہے مگر وہ’’ھل من مزید‘‘ کی رٹ لگاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کو شش میں اپنی خوشیاں قربان کر دیتے ہیں ۔تو معزز قارئین ہمارے سیاسی زعماء بھی 99کلب کے باضابطہ رکن بن چکے ہیں جو نعمتیں ان کے پاس ہیں ان پر قانع نہیں بلکہ مزید کی جستجو میں لگے رہتے ہیں ۔ حضرت محمد بن واسعؒ سوکھی روٹی بھگو کر کھاتے اور فرماتے کہ جو شخص اس پر قناعت کرتا ہے وہ مخلوق سے بے نیاز رہتا ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative