Home » کالم » انتخابی نتائج، مودی حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی

انتخابی نتائج، مودی حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی

بھارت کی5 ریاستوں میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں حکمران جماعت بی جے پی کو عبرتناک شکست ہوئی۔ ان پانچ میں سے تین ریاستوں چھتیس گڑھ، راجھستان اور مدھیہ پردیش میں جہاں بی جے پی کی مضبوط حکومت تھی ، کانگریس نے حکمران جماعت کو پچھاڑا جبکہ دو ریاستوں تلگانہ اور میزورام میں مقامی جماعتوں نے میدان مار لیا۔ تلگانہ میں بھی بی جے پی کی حکومت تھی مگر اب وہاں اسے صرف ایک نشست ملی۔ چھتیس گڑھ کی 90نشستوں میں سے کانگریس نے 68 ، بی جے پی نے 15 اور دیگر پارٹیوں نے 7 نشستیں حاصل کیں۔ راجھستان میں 199 سیٹوں میں سے کانگریس 101 ، بی جے پی 73 اور دوسری پارٹیوں نے 25 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ جبکہ مدھیہ پردیش میں 230 نشستیں ہیں جن میں سے کانگریس 114 ، بی جے پی 108 جبکہ دیگر جماعتیں 8 نشستوں پر کامیاب ہوئیں۔ ریاست میزو رام کی 40 نشستوں پر انتخابات ہوئے جن یں سے ایم این ایف کولیشن نے 26 نشستیں حاصل کیں جبکہ کانگریس 5 اور بی جے پی صرف ایک نشست حاصل کر سکی۔ تلگانہ میں جہاں بی جے پی کی حکومت تھی ، کانگریس نے 21 ، دیگر جماعتوں نے 88 نشستیں حاصل کیں جبکہ بی جے پی کو صرف ایک نشست ہی مل سکی۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ شمالی ہند کی ان ریاستوں میں بی جے پی ایک طویل عرصے سے برسر اقتدار تھی۔ ان ریاستوں میں واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدوار حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان انتخابات میں بی جے پی کی غیر متوقع شکست کے بعد ریاست راجھستان کی وزیراعلیٰ وسوندھررا جے اور چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ رمن سنگھ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب چند ہی مہینوں میں پورے ہندوستان میں عام انتخابات ہونے والے ہیں، ان پانچ ریاستوں میں بی جے پی کی شکست بھارتی عوام کے جارحانہ مزاج کا پتہ دے رہی ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ نتائج مودی حکومت کی ناقص کارکردگی اور حکومت سے عوام کی ناراضگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ آدمی پارٹی کے رہنما اور دلی کے وزیراعلیٰ ارونڈ کچریوال کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ان نتائج کے بعد توظاہراً راہول گاندھی کی نوجوان قیادت میں کانگریس ایک مرتبہ پھر بھارت پر راج کرتی نظر آرہی ہے۔ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکست پر کانگریس کے کارکن خوشی سے نہال ہیں۔گو کہ وزیراعظم نریندر مودی نے شکست کو تسلیم کر لیاہے مگر ان کی خاموشی ان کے اندر کے خوف کو ظاہر کر رہی ہے۔یہ مودی کو واضح پیغام ہے کہ عوام خوش نہیں اور یہ تبدیلی کا وقت ہے۔بھارتی اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاستی اسمبلیوں کے یہ ہولناک نتائج ملک کی موجودہ سیاست کے پس منظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ان ریاستوں کے انتخابی نتائج پارلیمانی انتخابات میں اثرانداز ہوں گے۔ ان نتائج کے بعد ملک میں پارلیمانی انتخابات یک سرگرمیاں تیز ہو جائیں گی او بی جے پی کی قیادت کو نئی انتخابی حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔اپنی حکومت کے دوران بڑے بڑے دعوے کرنے والے نریندر مودی اور ان کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی تمام تدبیریں الٹی پڑگئیں اور ان کی انتہا پسندی ریاستی انتخابات میں پارٹی کو لے ڈوبی ۔مسلمانوں کیخلاف انتہا پسندی، کسانوں اور بیروزگار نوجوانوں کے مسائل مودی کو لے بیٹھے۔ اس کے علاوہ مودی حکومت کی انتہا پسندی اور اقلیتوں سے ناروا سلوک بھی شکست کا باعث بنا۔ اسی طرح بی جے پی کی طرف سے مذہبی کارڈ کھیلنے کی حکمت عملی بھی شکست کا باعث بنی۔ بی جے پی کی ہندو توا کی سیاست اور وہ بھی بھارت جیسے سیکولر معاشرہ میں ، اس سے بعض انتہاپسند گروہ تو ضرور متاثر ہوئے مگر بھارت میں بسنے والی دیگر اقلیتیں اور خود نچلی ذات کے ہندو دلتوں کو یہ مذہبی کارڈ ضرور جتلا گیا کہ آئندہ برسراقتدار آنے پر بی جے پی ان اقلیتوں سے کیسا سلوک کرے گی۔ ان انتخابات کے بعد بی جے پی اس بات کی تشہیر کر رہی ہے کہ عوام میں جو بھی ناراضگی ہے وہ ریاستی قیادت اور حکومت سے ہے لیکن عوام وزیر اعظم نریند رمودی کو چاہتے ہیں ۔ لیکن یہ بات بھی واضح ہو ئی ہے کہ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں تھی وہاں کے عوام نے بھی بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا۔ گویا عوام مودی کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ عوام مودی حکومت کے غلط فیصلوں اور عوام کش پالیسیوں کی وجہ سے بھی بی جے پی کی حکومت سے خائف تھے۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی ، ملک کی اقتصادی حالت، نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری، کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنا اور مستقل کانگریس کو برا کہنے سے عوام میں بہت ناراضگی تھی۔ان نتائج کے علاوہ مودی حکومت کو ایک اور دھچکا ریزرو بینک آف انڈیا کے سربراہ ارجیت پٹیل کی جانب سے مستعفی ہونے کا اعلان تھا۔ اگرچہ انہوں نے کہا کہ وہ”ذاتی وجوہات” کی بنا پر استعفیٰ دے رہے ہیں لیکن واقفان حال کہتے ہیں کہ استعفے کی وجوہات کا تعلق بھارتی مرکزی بینک اور حکومت کے درمیان بڑے اختلافات سے ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative