Home » صحت » انرجی ڈرنکس کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

انرجی ڈرنکس کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

نوجوانوں میں بہت زیادہ مقبول انرجی ڈرنکس پینے کا شوق جان لیوا امراض قلب کا باعث بن سکتا ہے اور اس کی وجہ ان مشروبات میں موجود کیفین کی بہت زیادہ مقدار کی موجودگی نہیں ہوتی۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

پیسیفیک یونیورسٹی کی تھقیق میں خبردار کیا کہ ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے شکار افراد کو اس طرح کے مشروبات کا استعمال محدود کردینا چاہیے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یہ مشروبات دل کے برقی سگنلز میں مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔

اس تھقیق کے دوران 18 سے 40 سال کی عمر کے افراد پر انرجی ڈرنکس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ ایک انرجی ڈرنک پینے کے بعد دل کی دھڑکن کی رفتار میں تبدیلی آتی ہے جو 4 گھنٹوں بعد معمول پر آتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 34 صحت مند افراد کو ایک انرجی ڈرنک یا ایک اور مشروب 3 دن تک استعمال کرایا گیا۔

محققین نے رضاکاروں کے دل کی برقی سرگرمی کا الیکٹرو کارڈیوگرام میں جائزہ لیا جبکہ ان کے بلڈپریشر کو بھی ریکارڈ کیا گیا۔

یہ تمام ٹیسٹ تحقیق کے آغاز اور مشروب پینے کے بعد چار گھنٹوں کے دوران ہر آدھے گھنٹے بعد کیے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے انرجی ڈرنک پی، ان کی دل کی دھڑکن دوسرا مشروب پینے والوں کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوگئی، جس سے دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کے عارضے کا خطرہ بڑھتا ہے جو کہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

اسی طرح انرجی ڈرنکس کے استعمال سے رضاکاروں کے بلڈ پریشر میں نمایاں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہمیں فوری طور پر اس مخصوص جز یا اجزا کے امتزاج کی تفتیش کرنی چاہیے جو مختلف اقسام کی انرجی ڈرنکس میں موجود ہوتی ہیں جبکہ عوام میں ان مشروبات کے استعمال کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن رپورٹ میں شائع ہوئے۔

About Admin

Google Analytics Alternative