Home » کالم » انسانی حقوق کا عالمی دن اور بھارتی چیرہ دستیاں! (1 )
asgher ali shad

انسانی حقوق کا عالمی دن اور بھارتی چیرہ دستیاں! (1 )

asgher ali shad

اگرچہ دور حاضر کو بہت سے حلقے انسانی تہذیب و تمدن اور انسانی حقوق کے احترام کے حوالے سے مثا لی قرار دیتے نہیں تھکتے، مگر زمینی حقائق پر نگاہ ڈالیں تو اس تاثر کی تائید کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے، خصوصاً آج بھی دنیا میں ایسے بہت سے بد قسمت خطے موجود ہیں جہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کا بدترین سلسلہ اپنی پوری شدت اور تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور ایسے علاقوں میں یقیناًمقبوضہ کشمیر اور فلسطین سر فہرست ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے گذشتہ 71سالوں سے غیر انسانی مظالم کی انتہا ہو چکی ہے مگر اسے عالمی ضمیر کی بے حسی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس جانب عالمی برادری نے ہنوذ خاطر خواہ توجہ نہ دی اور اسی وجہ سے اس علاقے میں کشمیریوں کی نسل کشی کا قبیح عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ جنگی جرائم بالعموم دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کو امن کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے، اس ضمن میں جارحیت کے نقطہ نظر سے جنگ کی منصوبہ بندی، تیاری اور عملی جارحیت شامل ہیں۔ جنگی جرائم کی دوسری قسم وہ ہے جس کے مطابق انسانی اقدار کے خلاف جرائم ہوتے ہیں اور ایسی صورتحال کے مطابق اگر دو ممالک یا گروہوں کے مابین بوجوہ جنگ کی نوبت آ ہی جائے تو اس جنگ کے دوران شہریوں کی ہلاکت، عوام پر جان بوجھ کر گولہ باری، زیر حراست افراد کے خلاف دوران حراست تشدد اور ہلاکتیں اور شہری ٹھکانوں کو تباہ کرنا شامل ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اگر کوئی فرد یا گروہ جان بوجھ کر اس قسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے تو عالمی برادری کا فرض ہے کہ جنگی جرائم کے ٹربیونل قائم کر کے ایسے افراد کے خلاف باقاعدہ مقدمات چلائے جائیں اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’نورم برگ‘‘ میں عالمی برادری نے اسی بین الاقوامی قانون اور روایت کے تحت بہت سے نازی جرمنی کے اہلکاروں اور کئی جاپانیوں کو باقاعدہ مقدمہ چلانے کے بعد مختلف نوعیت کی سنگین سزائیں دی تھیں اور پھر گذشتہ برسوں میں یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد سربیا کے حکمران ’’ملازووچ‘‘ اور اس کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کیا اور ہیگ (ہالینڈ میں قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل ) میں ان کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔ اس کے علاوہ کمبوڈیا کے سابق حکمران ’’پول پاٹ‘‘ کے قریبی ساتھیوں کے خلاف بھی جنگی جرائم کے ارتکاب کے جرم میں بھی مقدمات چلے۔ ایسی صورتحال میں بہت سے حلقوں کی یہ رائے خاصی وزن اختیار کر گئی ہے کہ ربع صدی سے بھی زائد عرصے سے جس بڑے پیمانے پر جموں کشمیر کی مقبوضہ ریاست میں انسانی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں اور جس شدت سے یہ سلسلہ جاری ہے، ہزاروں افراد کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا گیا،ان جرائم کے مرتکب بھارتیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل میں مقدمات کیوں نہ چلائے جائیں؟ مقبوضہ کشمیر میں دہلی کے انسانیت سوز مظالم کا جائزہ لیں تو حیرانگی اور بے پناہ افسوس ہوتا ہے کہ اس جدید دور میں بھی زمین کے کسی خطے پر اس قدر مظالم روا رکھے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جنوری 1989 سے لے کر 30 نومبر 2018 تک مقبوضہ کشمیر میں 95,234 بے قصوروں کو شہید کر دیا گیا جبکہ 7,120 لوگ حراست کے دوران شہید ہوئے۔ 109,183دکانوں اور مکانوں کو مسمار یا نذر آتش کر دیا گیا۔ 107,751بچوں کے سروں سے والدین کا سایہ چھین لیا گیا اور 22,894خواتین کو بیوگی کے لق و دق صحرا میں دھکیل دیا گیا۔ 11,107خواتین کے ساتھ اجتماعی بے حرمتی کے واقعات پیش آئے۔ اسی تناظر میں دس دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا تا ہے ۔ نہتے فلسطینیوں ، کشمیریوں اور خود بھارتی اقلیوں کے بنیادی انسانی حقوق کو جس برے طریقے سے مجروح کیا جا رہا اسے ایک ستم ظریفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف ایک روز قبل ہندوستان بھر کے مسلمانوں نے 6 دسمبر کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا کیونکہ 26 برس قبل یعنی 6 دسمبر 1992 کو جنونی ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر کے بھارتی مسلمانوں کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچائی تھی اس کا مداوا آج تک نہیں ہو سکا بلکہ انتہا پسند ہندو گروہ کھلے عام اپنے اس غیر انسانی جرم کو بطور کارنامہ بیان کرتے ہیں اور سنگھ پریوار میں شامل BJP سمیت ساری جماعتیں اس دن کو ’’ گرو دیوس‘‘ یعنی یومِ فخر کے طور پر مناتی ہیں ۔ کچھ روز قبل بھارتی صوبے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو رام کا نہیں، وہ ہمارے کسی کام کا نہیں‘‘۔

(جاری ہے۔۔۔)
***

About Admin

Google Analytics Alternative