Home » کالم » انوکھالاڈاکھیلن کومانگے چاند

انوکھالاڈاکھیلن کومانگے چاند

مودی جیسے ظالم شخص کے نام کے ساتھ میں ۔ ۔ اسد محمد خان ۔ ۔ کی لازوال غزل کے یہ خوبصورت بول ہر گز اپنے کالم کا عنوان نہیں بنانا چاہتا تھا لیکن ;200;ج کے تازہ ترین موضوع کے ساتھ بالکل میچ کرنے کی وجہ سے مجبوراً;34; ایسا کرنا پڑا ۔ یہ مکار اتنا چالاک ہے کہ ایک طرف تو اس نے گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصہ سے نہتے مظلوم کشمیریوں پر قیامت ڈھائی ہوئی ہے اور دوسری طرف دنیا کو دکھانے اور اقوام عالم کی توجہ اس المناک انسانی المیے سے ہٹانے کیلئے ۔ ۔ مشن چندرایان2 ۔ ۔ سے چاند کی سیر کرنے پر بھی یہ بنیا نکلا ہوا ہے ۔ کشمیریوں پر جو ظلم بپا ہے اس پر تو جناب مضطر فیروزپوری کا ایک لاجواب شعر ;200;جکل کے حالات پربڑا صادق ;200;تا ہے جس کے ذریعے بہادر کشمیریوں کے لازوال جذبے وحوصلے کی نشاندہی ہوتی ہے:–

قیامت کی راتیں بھی دیکھی ہیں مضطر

قیامت کے دن کیا نئی بات ہو گی

اور چندرایان2 کی بری طرح ناکامی پر ہمارے فواد چوہدری اور سینٹر فیصل خان کے ٹویٹ ہی اس جنونی کیلئے کافی ہیں جنہوں نے پورے بھارتی میڈیا میں کل سے اک ;200;گ سی لگائی ہوئی ہے اور ایک طرف بے وقوف جذباتی ہندو اپنے اس مہنگے ترین خلائی مشن کی ناکامی پر جلے بھنے بیٹھے ہیں وہیں دوسری طرف ہمارےبرمحل اور بر موقع ۔ ۔ ٹویٹوں ۔ ۔ سے پوری انتہا پسند قوم بری طرح تلملا رہی ہے ۔ سینیٹر صاحب نے اس ننگی بھوکی قوم کو بالکل صحیح مشورہ دیا ہے جسکا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ چاند پر پینگھیں ڈالنے سے پہلے ۔ مودی ۔ اپنی اس ننگی قوم کو;34;کھلے میں شاٹ;34; اور امیتابھ بچن کہتے کہتےجو اب خاصا بوڑھا ہو چکا ہے ;34;دروازہ بند تو بیماری بند;34; کے اشتہاروں پر تو پورا پورا عمل کروالو ۔ اپنی ننگ مننگی قوم کو بیت الخلاوں کا پہلے صحیح استعمال اور راستہ دکھا دو، ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا میں سالانہ دو لاکھ انسان گندا پانی پینے سے مر جاتے اور ساٹھ کروڑ لوگوں کو پینے کا صاف پانی ہی دستیاب نہیں ۔ لیکن حکومت عوام کا پیسہ انکے فلاحی یا سماجی مسائل کے حل کیلئے استعمال کرنےکی بجائے یہ چالاک رات دن پیسے جوڑ جوڑ کر دنیا کو دکھانے کیلئے اپنے ;200;پ کو ایک بڑی اکنامک پاور کے طور پر پیش کرتا رہتا ہے یا اس جیسے نام نہاد خلائی تسخیر جیسے منصوبوں پر لٹا کر دنیا کو ایک بڑی سائنسی قوت کے طور پر ابھارنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ اور بات ہے کہ اس کی تمام شعبدہ بازیاں ناکام اور کروڑوں اربوں روپے خلائی ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔ اور ساتھ ساتھ انڈیا کے اندر سے بھی اس پر سخت تنقید ہونا شروع ہو چکی ہے ۔ سائنسی تحقیق اور اس جیسے خلائی مشن کوء برا کام نہیں ، اتنا بڑا قدم ہندوستانی سائنسدانوں کا یقینا;34; قابل ستائش ہے، لیکن اصل برا کام تواس کے پیچھے چھپے بدنیتی اور برے ارادے کا ہے ۔ برا کام تو صرف چین اور پاکستانیوں سے خواہ مخواہ کی ضد بازی کا ہے ۔ اسی بے جا ضد میں اپنے 900 کروڑ روپے کے ضیاع کا ہے ۔ بھوکی ننگی قوم کو بنیادی ضروریات دینے کے، محض برتری اور دوسرے کو نیچا دکھانے کا ہے ۔ کروڑوں کی تعداد میں غربت کی لکیر سے نیچے ایک وقت کی روٹی سے بھی محروم ہندوستانی لوگوں کا ہے ۔ اس دور میں بھی یہاں اپنا گھر نہ ہونے کی وجہ سے کروڑوں لوگ پلوں ، غاروں اور فٹ پاتھوں پر سوتے اور یہاں مرنے کے بعد کمیٹی والے کثرت کے طور پر اٹھائے جاتےہیں ۔ یہاں جرائم سرعام، کسی کی غرت نہ جان و مال محفوظ، لیکن دنیا کے دکھلاوے کیلئے ۔ ۔ چندرایان2 ۔ ۔ کا مشن مودی کی زندگی اور موت کا مشن بن چکا تھا ۔ دراصل چین کے کامیاب خلائی مشن کے بعد مودی کی رات کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں اور بغیر پوری تیاری لگے یہ ۔ ۔ چھوٹو رام چائے والے ۔ ۔ چاند کی سیر کو ۔ ابھی یہ کھٹارہ راکٹ اپنی منزل کی طرف پوری طرح بڑھ بھی نہیں پا رہا تھا کہ مودی کا سینہ 56 انچ پہلے ہی پھول چکا تھا، ہر ایک کی گردن یوں اکڑ چکی تھی کہ شاید ٹوٹ ہی جائے ۔ مودی کا ایک ترجمان تو ایک نجی ٹی وی پر جمعہ کی شام اتنا اترا رہا تھا اور ایک اینکر کو بڑے فخر و تکبر سے کہہ رہا تھا کہ صرف چند گھنٹے کے بعد انکا ۔ ۔ وکرم ۔ ۔ (چاند گاڑی) اب چندرایان2 کو چھونے ہی والا ہے جس کے بعد دیکھنا اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے بڑے بڑے ۔ ۔ دیش ۔ ۔ ہم سے مشورے لینے کیلئے وقت مانگتے ہوئے لائین میں کھڑے ہو کر ہم سے سائنسی مشورے مانگ رہے ہوں گے ۔ میں سمجھتا ہوں یہ تھاوہ غرور اور اکڑ ، جو ہندوستانی سائنسدانوں کی دن رات کی محنت کے باوجود وہ بری طرح ناکام رہے ۔ خلائی مشن کا سربراہ بلک بلک کر رو رہا تھا اور مودی خفگی مٹانے کیلئے جھوٹی تقریریں اور قوم کو جھوٹے دلاسے دیتا رہا ۔ 2008 کے بعد چاند سے باتیں کرنے کا یہ دوسرا خواب تھا جو پھر سے سراب ثابت ہوا لیکن بنیادی ضروریات سے عاری اس قوم کے کروڑوں اربوں ڈبو گیا ۔ کہتے ہیں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے، لیکن اتنی ناکامی پر شرمندگی محسوس کرنے کے بھارتی میڈیا اور اسکے حکومتی ترجمان، کمال ڈھٹائی سے اسے پھر بھی کسی بڑی کامیابی سے ملاتے رہے، جبکہ ساتھ والی ونڈو میں انڈین چینلز اپنے ہی خلائی مشن کے سربراہ کو مودی کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روتا دکھاتے رہے ۔ ان جیسے لوگوں کیلئے کسی منچلے نے شاید بالکل ٹھیک کہا ہے

شرم تو ;200;نی جانی چیز ہے

بندے کو بس ڈھیٹ ہونا چاہیے

About Admin

Google Analytics Alternative