Home » کالم » آزادی مارچ،فضل الرحمان بھی لچک کامظاہرہ کریں
adaria

آزادی مارچ،فضل الرحمان بھی لچک کامظاہرہ کریں

بقول مولانافضل الرحمان کے کہ وہ اپنے مطالبات منوانے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں نیزانہیں اشتعال نہ دلایاجائے ورنہ یہ ہجوم کنٹینرز کو ماچس کی ڈبیاں کی طرح اٹھاکرپھینک دے گا،ساتھ ہی انہوں نے کمیشن بنانے کے حوالے سے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے نئے انتخابات کے مطالبے پربھی قائم رہنے کاعزم کیاہے ،چودھری برادران سے بھی ان کی ملاقات ہوئی صحت خراب ہونے کی وجہ سے مولانافضل الرحمان وفد کے ہمراہ چودھری برادران کے پاس خود چل کرگئے وہاں انہوں نے حلوہ کھانے کی خواہش کے اظہار کے ساتھ یہ بھی کہاکہ اللہ کرے حلوہ اچھابنا ہو، یہ خواہش اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب مولانابھی چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح دھرنا ختم ہوجائے، انہوں نے کہاکہ حکومت ہمارے مطالبات کوتسلیم کرے تاکہ عوام کوبھی سکھ آئے اوردھرنے والے بھی واپس چلے جائیں جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ وہ استعفے کے سوا تمام آئینی مطالبات تسلیم کرنے کو تیارہیں ،اب اصل مسئلہ فیس سیونگ کاہے ،جے یو آئی ف کے سربراہ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ دھرنے والے اب گھرچلے جائیں ،چلابھی جاناچاہیے ،حکومت کافی حد تک مفاہمت کرنے کے سلسلے میں آگے جاچکی ہے جبکہ کپتان نے کہہ دیا کہ وہ تمام آئینی اورقانونی مطالبات ماننے کے لئے تیار ہیں تو پھررہبرکمیٹی اورفضل الرحمان کوبھی چاہیے کہ وہ بھی ایک قدم پیچھے ہٹیں ، ادھروفاقی دارالحکومت میں تندوتیزبارش ہونے کے بعدسردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیاہے گوکہ دھرنے کے شرکاء کھلے آسمان تلے پڑے ہیں جبکہ رہنما کنٹینر میں محفوظ اورسردی سے بھی بچے ہوئے ہیں ،دیکھنے کی بات یہ ہے کہ عوام شدید سردی میں مررہے ہیں اوراس وجہ سے اموات بھی واقع ہورہی ہیں انسانی ہمدردی کے باعث دھرنے کو ختم ہوجاناچاہیے ۔ آج تک کی تاریخ کوکھنگالاجائے تو کہیں بھی اس بات کے ثبوت نہیں ملتے جہاں مورخ نے لکھا ہو کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت دھرنے کی وجہ سے ختم ہوئی ہو ۔ ہم تو یہاں کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کوچاہیے کہ وہ برطانیہ کی طرح اسلام آباد میں ہائیڈپارک کے طرز کی طرح ایک جگہ مختص کرے جہاں دھرنے والے اپنے دل کی بھڑاس بھی نکالیں اورمطالبات بھی منوائیں اوربھلے مہینوں تک بیٹھے بھی رہیں ،یہ کہاں کا اصول یاجمہوریت کاطرہ امتیازہے کہ دھرنوں سے عوام کوذلیل وخوار کیاجائے خودرہنماسکون سے رہیں اس کے لئے باقاعدہ قومی اسمبلی وسینیٹ میں قانون سازی ہوناچاہیے تاکہ آئندہ آنے والے وقتوں میں دھرنامافیا چاہے وہ کوئی بھی ہواس کے شر سے کم ازکم عوام محفوظ رہے ۔ وزیراعظم نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ مولانافضل الرحمان صرف اپنے مسائل بتا رہے ہیں جبکہ اصل مسئلہ مہنگائی کاہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عوام اس وقت روٹی کوترس رہی ہے اس کابنیادی مسئلہ ہی روٹی اورروزگار کا ہے ۔ تحریک انصاف نے جووعدے وعید کئے ہیں انہیں وہ ہرصورت پوراکریں جبکہ وزیراعظم یہ جان چکے ہیں کہ اصل مسئلہ کیاہے اورپھرانہیں حل کرنے میں کیوں تاخیر ہے جب مسائل حل ہوجائیں گے تو دھرنوں اوراحتجاج کے جوازبھی ختم ہوجائیں گے اس سلسلے میں کپتان کی ٹیم کو کرداراداکرناہوگا تاکہ آئے روز اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کوکنٹرول کیاجاسکے جہاں تک وزیراعظم نے کرپٹ مافیا کی جانب سے افراتفری پھیلانے کی بات کی ہے تو وہ اس سلسلے میں بھی حکومت کو ہی مساوات کی بنیاد پر اقدامات اٹھاتے ہوئے کردار ادا کرنا ہوگا جو بھی کرپٹ لو گ ہیں چاہے ان کاتعلق کسی جماعت ،بیوروکریسی یابا اثرشخصیات سے ہے ان پربلا امتیاز ہاتھ ڈالنا ہوگا ۔ تب ہی ان مسائل کو ختم کیاجاسکتاہے ۔ جبکہ وفاقی کابینہ نے گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔ وفاقی کابینہ نے پہلی الیکٹرک وہیکل پالیسی سی ڈی اے کی تنظیم نو ، باباگرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کیلئے آنے والوں کےلئے2دن کی فیس معافیویزاپالیسی میں نرمی پاسپورٹ کی شرط ایک سال کے لیے ختم کرنے کی منظوری دی ہے سیاحوں کیلئے ویزا پالیسی میں نرمی کےلئے موجودہ پالیسی پر نظرثانی کی جائے گی کابینہ نے میجر جنرل محمد عامر حمید کو ڈی جی رینجرز پنجاب سید علی جاوید ہمدانی کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی تعینات کرنے کی منظوری دی ۔ وزیر اعظم نے وزرا کو بعض تر جیحات اور اہداف بتائے اور اگلے تین ماہ کیلئے روڈ میپ دیا ۔ وزیر اعظم خود ان کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کریں گے ۔

پاکستان نے انسداد دہشت گردی بارے امریکی رپورٹ مسترد کردی

پاکستان نے انسداد دہشت گردی سے متعلق امریکی رپورٹ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات اور افغان مفاہمتی امن کے کردار کو نظر انداز کیا گیا ،پاکستان کی کوششوں سے خطے سےالقاعدہ کا خاتمہ ہوا ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کے اثاثے منجمد اورفنڈزروکنے جیسے اقدامات کیے ۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے کہا کہ اس رپورٹ میں زمینی حقائق اور 2 دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو نظر انداز کیا گیا، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں خطے سے القاعدہ کا خاتمہ ہوا اوردنیا کو محفوظ مقام بنا دیا گیا ۔ پاکستان نیشنل ایکشن پلان کے تحت ٹھوس اقدامات کرنے کا پابند ہے، پاکستان نے دہشت گردوں کے اثاثے منجمد کرنے اور فنڈز روکنے کے لیے وسیع قانونی اورانتظامی اقدامات کیے ہیں ، ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پرمکمل عمل درآمد کےلئے بھی اقدامات جاری ہیں ۔ پاکستان کو متعدد گروہوں کی طرف سے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے ۔

پاک بحریہ کابحری جہاز کو نشانہ بنانے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

پاک بحریہ نے خشکی سے بحری جہاز کو نشانہ بنانے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے ۔ میزائل نے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے بھی میزائل فائرنگ کا مشاہدہ کیا ۔ امیر البحر نے میزائل تجربے کو کامیاب بنانے پر متعلقہ یونٹس، سائنسدانوں اور انجینئرز کی کاوشوں کو سراہا ۔ پاک بحریہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ۔ پاک بحریہ کے جوان اور آفیسرز ملک کی سمندری سرحدوں اور بحری اثاثوں کے تحفظ کےلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ پاک بحریہ کی جانب سے کامیاب تجربہ ملکی دفاع میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا اورتجربہ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ وطن عزیزکادفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اوراگردشمن نے کوئی بھی مذموم کوشش کی تو اس کومنہ تو ڑ جواب دیاجائے ،تمام مسلح افواج وطن کے دفاع کے لئے ہمہ تن تیارہیں ۔

حوثیوں کے ساتھ معاہدہ،

امن کی جانب قدم

یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا جس کے تحت باغیوں کو حکومت میں برابر کی نمائندگی دی جائے گی، سعودی عرب نے معاہدے کی توثیق کردی ۔ معاہدے کا باضابطہ اعلان خود محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی پر کیا اور اس معاہدے کو معاہدہِ ریاض کا نام دیا ۔ محمد بن سلمان نے اسے یمن میں خونریز جنگ بندی کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے جس میں یمنی حکومت اور جنوب میں موجود حوثی باغی ایک عرصے کشت و خون میں رہنے کے بعد امن معاہدے کی جانب بڑھے ہیں ۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے یمن میں چارسال سے جاری خانہ جنگی اور سیاسی چپقلش کا خاتمہ ہوگا اور اس مسئلے کا سیاسی حل برآمد ہوگا ۔ سعودی شہزادے نے کہا کہ، یہ معاہدہ امن میں استحکام کا ایک نیا عہد شروع کرے گا اور اس موقع پر سعودی ریاست آپ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ انہوں نے اسے سعودی عوام کے لیے ایک مسرت کا دن بھی قرار دیا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative