adaria 1

آزادی مارچ، تحمل اور برداشت کا مظاہرہ ضروری ہے

آزادی مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ایک اعتبار سے وہ درست ہیں کیونکہ انہوں نے کہاکہ سیاست میں حکمت کی ضرورت ہے اور حکمت کے بغیر سیاست کرنا مشکل کام ہے اور یہ کام جذبات سے عاری ہوکر کرنا پڑتا ہے،ساتھ ہی انہوں نے ڈی چوک نہ جانے کا بھی عندیہ دیدیا ہے جوکہ خوش آئند ہے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم نے کہا ہے کہ میں این آر او کسی صورت میں نہیں دوں گا این آراو دینے کا مطلب غداری کے مترادف ہے ۔ اس میں ہم وزیراعظم سے بالکل اتفاق کرتے ہیں جب تک اس ملک سے کرپشن اور لوٹ مار کا کلچر ختم نہیں ہوگا اس وقت تک ہم ترقی نہیں کرسکتے ۔ کرپٹ شخصیات کا تعلق چاہے اقتدار سے ہو یا اپوزیشن سے انہیں ہر صورت قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔ آزادی مارچ کو اب دھرنے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اس سلسلے میں کپتان کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیم کو بھی ہدایت کریں کہ وہ زبان بندی رکھیں کیونکہ اس زبان کی چاشنی سے سارے معاملات خراب ہوسکتے ہیں ۔ بیانات بازیوں سے آزادی مارچ کے شرکاء آگے کی جانب بڑھ سکتے ہیں لہذا حکمت عملی یہی ہونی چاہیے کہ معاملات ادھر ہی بیٹھ کر حل ہوں ۔ حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیاہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا ،یہ لوگ میرے منہ سے صرف تین الفاظ سننا چاہتے ہیں ، وزیراعظم نے ایک بار پھر صاف صاف کہہ دیا، نو این آر او، نو کمپرومائز‘جب تک ان کا احتساب نہیں ہوتا اس وقت تک ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ نام لئے بغیر اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں ان کو کبھی این آر او نہیں دوں گا ۔ اُدھرجمعیت علمائے اسلام(ف) کی مرکزی شوریٰ کا 6گھنٹے طویل اجلاس ہواجس میں آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت مکمل کی گئی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کشمیرہائی وے پرآزادی مارچ کے شرکاء کاقیام جاری رہیگا اور وزیر اعظم کو دی گئی ڈیڈلائن میں ایک دن کی توسیع کی جائے گی ۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے ناکامی کے ساتھ واپس جانے کا آپشن مسترد کردیا، اجلاس میں حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد اگلی حکمت عملی پر حتمی مشاورت اور پلان بی پر بھی غور کیا گیا ۔ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے پلان بی پر غور کیا جس کے مطابق اسلام آباد لاک ڈاءون، ملک گیر پہیہ جام اور ملک گیر شٹر ڈاءون شامل ہے ۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں سے پسپائی نہیں بلکہ پیش رفت کریں گے اور پورے ملک کو اجتماع گاہ بنائیں گے، جوش نہیں ہوش مندی سے کام لینا ہوگا، کسی ٹریبونل، الیکشن کمیشن یا عدالت نہیں جائیں گے، مسئلہ ایک شخص کے استعفے کا نہیں قوم کے ووٹ کا ہے، عوام کو ووٹ کاحق دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ، جنگ جاری رہے گی، حکمرانوں کو جانا ہوگا، بیچارہ الیکشن کمیشن ہم سے زیادہ بے بس ہے،5سال میں تحریک انصاف فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا ،دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا نہ رولز بن سکے، یہاں سے جائیں گے تو پیشرفت کیساتھ جائیں گے، ڈی چوک تنگ جگہ ہے، یہاں تو کھلی جگہ بھی کم پڑ گئی ہے ،آزادی مارچ کے شرکاء کا جوش بڑھتا جارہا ہے ،غیر قانونی اقدام نہیں کرینگے ۔ عوام مطمئن نہیں ہیں کہ پاکستان میں آئین کی حیثیت کیا ہے، لہٰذا تمام اداروں کو بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ آئین محترم اور سپریم ہے اسکی بنیاد پر اس ملک کا نظام چلے گا اور یہ عہد و پیمان کرنا پڑے گا تاکہ پاکستان کی عملداری اور اس کے تحت ہم اپنے وطن عزیز کے نظام کو چلا سکیں ۔

افغانستان کے ناظم

الامور کی دفتر خارجہ طلبی

پاکستان نے ہمیشہ خطے کے معاملات کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور پڑوسی ممالک کو بھی یہ چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں ۔ خصوصی طورپر افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کا کردار انتہائی کلیدی رہا ہے ۔ حتیٰ کہ ٹرمپ تک نے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کیلئے پاکستان کی مدد طلب کی ہے ۔ نیز طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں بھی پاکستان اہم کردارادا کررہا ہے ایسی صورت میں افغانستان کی سرزمین پر پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنا انتہائی غیر سفارتکاری کا کردار ہے ۔ افغانستان کو چاہیے کہ وہ وہاں پر موجود عملے کو تحفظ فراہم کرے ۔ افغان حکام کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کیا جارہا ہے، ہراساں کرنے کا سلسلہ گزشتہ روز سے شروع ہوا ہے، اس سلسلے میں افغان وزارت خارجہ اپنی خفیہ ایجنسی کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے ۔ افغان خفیہ ایجنسی کے اہلکار سفارتکاروں کی گاڑیاں روک کرغلط زبان استعمال کرتے ہیں ،تمام سفارتکاروں کو نقل وحرکت کے دوران روکا جاتا ہے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ گھر سے لیکر سفارتخانے اور واپسی کے راستے میں کیا جارہا ہے ۔ پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے کابل میں اپنے عملے کی سیکیورٹی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی عملے کو حراساں کرنے اور راستوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی تحقیقات کرائی جائیں اور اس معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ پاکستان سے بھی شیئر کی جائے ۔ پاکستانی عملے کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے ان کو تحفظ فراہم کرنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

بھارتی چیرہ دستیاں

روکنا ازحد ضروری

بھارت کی چیرہ دستیاں کسی طرح رکنے میں نہیں آرہی پہلے اس نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو تقسیم کرکے براہ راست دہلی کے زیر سایہ کردیا اب اس نے مقبوضہ و جموں کشمیر کو نقشے میں اپنا حصہ قرار دیتے ہوئے آزاد کشمیر کو متنازع قرار دیا ہے ۔ بھارتی اس انتہاپسندانہ اقدام کو پاکستان نے قطعی طورپر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھارت کی بھونڈی کوشش سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے ، عیار بھارت کی ایک اور مکاری مقبوضہ جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار

دے کر عیاں ہوگئی ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت ایسی حرکتوں سے دنیا کو کسی صورت بھی بیوقوف نہیں بنا سکتا جوحقیقت ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ ایسی کوششیں خطے کے امن و امان کو تہہ وبالا ہی کرسکتی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ وادی پر بھارت نے ظالمانہ اور غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے ۔ لاکھوں دہشت گرد فوج کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی کوسلب کررکھا ہے ۔ جوکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے ۔ بین الاقوامی برادری بھارت کی حرکات کو اچھی طرح دیکھ رہی ہے اس کو چاہیے کہ مودی سرکار کو ان اقدامات سے روکے اس سے پہلے کہ پورا خطہ جنگ کی آگ میں جھونک دیا جائے اور اس کا نقصان پوری دنیا کو پہنچے گا کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں ان کے مابین جنگ کے بعد حالات انتہائی ہولناک ہوں گے اس کیلئے ضروری ہے کہ بھارت کے جو دہشت گردانہ اقدام ہیں ان کے آگے رکاوٹ کھڑی کی جائے ورنہ تمام تر حالات کی ذمہ داری بین الاقوامی برادری پر ہوگی ۔ پاکستان ہر ممکن اقدامات کررہا ہے کہ خطے کے حالات پرامن رہیں اور بھارت سے بھی تعلقات بہتر رہیں لیکن بھارت نے ہمیشہ یہاں سے فرار ہی حاصل کیا ۔ کرتارپور راہداری کے حوالے سے پاکستان نے جوکچھ کیا وہ بھی ایک امن کا قیام ہے ۔ راہداری پر پاک بھارت زیرو پوائنٹ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ہے ۔ سکھ برادری نے اس کا خیر مقدم کیا ہے بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ کھلے دل کا مظاہرہ کرے ۔ آئے دن ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ سے اجتناب کیا جائے ۔ اس کو بھی چاہیے کہ وہ بھی امن کی جانب قدم بڑھائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں