Home » کالم » آزادی مارچ ۔ ۔ ۔ !
khalid-khan

آزادی مارچ ۔ ۔ ۔ !

صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنےا بھر میں احتجاج ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی حکومت غلط اقدام اٹھائے تو ےقےنا احتجاج ہونا چاہیے ۔ پاکستان اور دےگر ممالک کے احتجاج میں واضح فرق ےہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے احتجاج وغےرہ میں جانی ومالی،نجی وسرکاری املاک کو نقصان پہنچتا رہتا ہے جبکہ دےگر ممالک میں عموماً احتجاج پرامن ہوتا ہے ۔ عمران خان نے بھی احتجاج کیا تھا اور126دنوں کا دھرنا دےا تھا اور اب مولانا فضل الرحمن بھی سراپا احتجاج ہیں ۔ عمران خان جذباتی ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن جذباتی نہیں ہیں ۔ دونوں کے احتجاج میں اب تک فرق ےہ نظر آےا کہ عمران خان کے احتجاج میں گانے بجانے جبکہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاج میں قرآن مجےد کی تلاوت ہوتی رہی ہے ۔ عمران خان کے احتجاج میں سےاسی پارٹی ورکرز خود صفائی نہیں کرتے تھے جبکہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاج میں سےاسی پارٹی ورکرز خود صفائی کررہے ہیں ۔ عمران خان کے احتجاج کے دوران پی ٹی وی پر حملہ ہوا، پولیس کو لہولہان کردےا گےا اور سپرےم کورٹ کی عمارت کے جنگلے پر گندے کپڑے لہرائے گئے جبکہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاج میں ابھی تک یہ چےزےں نظرنہیں آئیں ۔ ٹرےفک رواں دواں ہے اور کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی گئی ۔ عمران خان کے احتجاج کی وجہ سے ہمساےہ اور دوست ملک چےن کے صدر کا اہم دورہ ملتوی ہوگےا تھا جبکہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاج کی وجہ سے دنےا کی توجہ مقبوضہ کشمےر کرفےوسے ہٹ کر آزادی مارچ پر مرکوز ہوگئی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے اوقات کا انتخاب درست نہیں ہے ۔ آزادی مارچ کو آگے پیچھے مہینوں میں کےاجاتاتو زےادہ بہتر ہوتا کیونکہ اس وقت بھارت مقبوضہ کشمےر کی عوام پر ظلم وستم کے تمام پہاڑ توڑے جارہاہے ۔ مقبوضہ کشمےر کے باسی گذشتہ تےن ماہ سے اپنے گھروں میں مقےد ہےں ۔ لوگ بھوک سے نڈھال ہیں ، بےمار ہیں لیکن ادواےات نہیں ہیں ۔ کاروبار بند ہے ۔ مظلوم کشمےری غم و الم میں مبتلا ہیں ۔ اس وقت اندورنی اختلافات بھلاکر سب کو کشمیر کےلئے جدوجہد کرنی چاہیے ۔ عمران خان کے احتجاج کے دوران بھی اداروں کا ذکر ہوتا رہا اور اب مولانا فضل الرحمن کے احتجاج کے دوران بھی اداروں کا ذکر ہورہا ہے جوکہ غلط ہے ۔ ےہ ادارے ہمارے ہیں اور اگر خدا نخواستہ ان میں کوئی بھی خامی ہو تو اس کو دور کرنے کےلئے طرےقے بھی موجود ہیں ۔ جلسوں میں کھلے عام اپنے اداروں پر تنقےد درست نہیں ہے ۔ عمران خان ہو ےا فضل الرحمن ےا کوئی اور ہو، ان سب کو اپنے قومی اداروں پر کھلے عام تنقےد نہیں کرنی چاہیے ۔ قومی اداروں کے چےک اےنڈ بےلنس کےلئے سسٹم موجود ہے ۔ اگر اس سسٹم میں کوئی خامی ہے تو اس کو دور کرےں اور بہتر سسٹم بنائےں ۔ مارچ ےا دھرنوں سے حکومت کی تبدےلی کی کوشش مناسب نہیں ہے ۔ حکومتی ارکان ےا اداروں میں غلطی ہو تو الیکشن کمیشن ےا عدالتوں میں جانا چاہیے ۔ پاکستان میں ہر وقت بے ےقےنی کی صورت حال رہتی ہے اور اےسے حالات میں پاکستان میں کوئی بھی سرماےہ کاری کےلئے آمادہ نہیں ہے ۔ عمران خان کے اخلاص پر کسی کو شک نہیں ہے لیکن معذرت کے ساتھ ان کے آس پاس لوگ بڑی بڑی باتےں کرتے ہیں لیکن کام نہیں کرتے ۔ عمران خان کی معےشت کی ٹےم کو دےکھےں ۔ عمران خان کو آئی اےم اےف اور قرضوں کی طرف مائل کیا ۔ پی ٹی آئی دور میں مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہوا ۔ عمران خان کی معےشت ٹےم کے غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں ہر طبقے کے لوگ پرےشان ہےں ۔ پاکستان میں ہربچہ ٹےکس دےتا ہے لیکن پھر بھی ےہ کہا جارہا ہے کہ پاکستانی ٹےکس نہیں دےتے ہیں ۔ معےشت عمران خان کی موجودہ ٹےم کے بس کا روگ نہیں ، ےہ آئی اےم اےف اور دےگر مالیاتی اداروں سے قرض لے سکتے ہیں لیکن ےہ مہنگائی کم اور لوگوں کو سکھ نہیں دے سکتے ہیں ۔ معےشت میں صرف اعداد وشمار، ٹےکس لگانا اور قرضوں کا حصول نہیں ہوتا ہے بلکہ عام اور کاروباری طبقے کی حالت کوعملاً دےکھنا ہوتا ہے ۔ عمران خان کی خارجہ امور کی ٹےم کی کارکردگی بھی بہترےن نہیں ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفےو کے تےن ماہ سے زےادہ عرصہ بےت گےا لیکن ےہ سفارت کاری کے ذرےعے بھارت پر پرےشرڈال کر کرفےو ہٹوانہ سکے ۔ ےہ سعودی عرب، اےران اور خلیجی ممالک کے ذرےعہ بھی بھارت پر دباءو ڈالو سکتے ہیں لیکن معاملات باتوں سے حل نہیں ہوتے ۔ بلاشبہ عمران خان مخلص اور دےانتدار ہےں لیکن حقےقت ےہ ہے کہ ان کی ٹےم تگڑی نہیں ہے ۔ عمران خان اور انکی ٹےم کے پاس اب بھی وقت ہے ۔ آئی اےم اےف اور دےگر مالیاتی اداروں سے قرضوں کا سلسلہ بند کرےں ۔ توانائی کے ذراءع کی قےمتوں میں کمی کرےں ، ٹےکس کم کرےں اور سےل کو زےادہ کرےں تاکہ ملک میں کاروبار شروع ہوجائے ۔ تاجر طبقے کو سہولےات دےں ۔ عمران خان نے ےو ٹرن لےنے میں سنچری بنائی ہے ۔ اگرپاکستان کےلئے اےک اور ےو ٹرن لیں تو کوئی فرق نہیں پڑھے گا ۔ وزےراعظم عمران خان حکومت ، اپوزےشن،تمام چھوٹی بڑی سےاسی پارٹےوں کے سربراہان،سپرےم کورٹ کے چےف جسٹس ، ہائی کورٹس کے چےف جسٹس صاحبان، افواج پاکستان کے سربراہان اور افسر شاہی سب کی اےک مشترکہ مےٹنگ کال کرےں اور جس میں اپنی نسل کے مستقبل اور پاکستان کےلئے فےصلے کرےں ۔ مثلاً (الف)سب کو بلاتفرےق عام معافی دےں جس طرح ہمارے نبی کرےم ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر د ی ۔ سب چھوٹے بڑے پر مقدمات ختم کرےں ۔ سب کو رضاکارانہ طور پر لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے کو کہہ دےں ۔ سب کو باہر سے واپس بلائےں اور ان کو کھلے دل سے خوش آمدےد کہیں ۔ (ب) آئےن میں سے برطانوی دور کے قوانےن کو ختم کرےں اور اےسے قوانےن بنائےں جس میں عوام کو فوری ،سہل اور سستا انصاف ملے اور قانون سب کےلئے ےکساں ہو ۔ عدالتی نظام کی پیچےدگےاں ختم کرےں ، عدالتی نظام بہتر کرےں (ج)تمام اداروں کےلئے بلاتفرےق اورغےر جانبدارانہ چےک اےنڈ بےلنس کاسسٹم بناےا جائے ۔ (د) اےسا سسٹم بنائےں کہ تمام ادارے اپنے دائرے میں کام کرےں اور تجاوزات نہ کرےں ۔ (ر)طبقاتی نظام کو ختم کرےں اور لوگوں کو بلاتفرےق ترقی اور آگے بڑھنے کے مواقع دےں ۔ ہر شہری کو بلاتفرےق عزت دےں ۔ (س)پاکستان میں غےر ےقےنی صورت حال کو ہمیشہ کےلئے ختم کرےں ۔ ہر تےن ےاچار سال بعد پالیسی تبدےل نہ کرےں ۔ سب مل کر جامع اور ہمیشہ کےلئے واضح پالیسی بنائےں ۔ (ش)اشےاء خرےد وفروخت کے رےٹ مقرر ہونے چاہیےں ۔ اشےاء کی قےمتوں میں ہرروز، ہر ہفتہ ےا ہر ماہ کمی وبےش کے بجائے سالانہ بنےادوں پر روودبدل ہونا چاہیے ۔ اشےاء کی قےمتوں کےلئے چےک اےنڈ بیلنس کا موثرنظام ہونا چاہیے ۔ (ص)وی آئی پی پروٹوکول کوہمیشہ کےلئے ختم کرےں اور اس کو جرم سمجھا جائے ۔ (ض)عوام کی اخلاقی تربےت کا مناسب انتظام کیاجائے ۔ سکولوں ، کالجوں اور ےونےورسٹےوں میں اخلاقی تعلیم کو لازمی اور عملی قرار دےا جائے ۔ (ط)تمام پاکستانےوں مسلمان، ہندو، سکھ ےا کوئی بھی ہو ےا کسی بھی مذہب ےا فرقے کا پروکارہوتوسب کو عملاً ےکساں اور مساوی مقام دےا جائے ۔ (ظ)کسی پر غدار ےا کافر وغےرہ کا الزام کسی فرد واحد کے اختےار میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کےلئے مناسب طرےقہ کار ہونا چاہیے ۔ (ع) ہرپاکستانی کو ذمہ دار شہری بنانے کےلئے اقدامات اٹھانے چاہییں ۔ قارئےن کرام!ہر چےز باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے ممکن ہے ۔ پاکستان خوبصورت اورقدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے لیکن بہتر اور پڑےکٹےکل سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں ہر شخص پرےشان ہے ۔ وزےراعظم عمران خان کو مولانا فضل الرحمن سمےت سب کے ساتھ معاملات بطرےق احسن سلجھانے چاہئیں ۔ ہم سب کوپاکستان اور نئی نسل کے مستقبل کےلئے سعی کرنی چاہیے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative