Home » کالم » اپنے عطیات ۔ حق داروں تک خود پہنچائیں

اپنے عطیات ۔ حق داروں تک خود پہنچائیں

دنیا کے بھر ممالک خصوصا مسلم ممالک میں پاکستانیوں کی ایک اہم شناخت یہ بھی بن چکی ہے کہ اس ملک کے عوام اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے میں اپنے دلوں کو کھول کر مذہبی ایام مثلا رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں مسلمان اپنی سال بھر کی کمائی پر زاکوۃ نکالتے ہیں اپنی جھولیاں بھر بھر کر صدقہ اور خیرات دیتے ہیں مساجد، مدارس، یتیم خانوں بے آسروں کےلئے چھت فراہم کرنے والے اداروں ، ملک کے مختلف شہروں میں مفت علاج معالج کی سہولیات کے اداروں اور غربیوں مسکینوں کو تین وقت کا مفت کھانا فراہم کرنے والے اداروں پر اپنی مختص کی ہوئی رقومات دینے میں بہت آگے ہیں یقین جانئیے جب ہم اپنے ملک کے ان مخیراور سخی دل عوام کے بارے میں سنتے یا پڑھتے ہیں توبحیثیت پاکستانی ہمارے سر فخر سے بلند ہوجاتے ہیں ماہ مبارک رمضان کے ایام میں ہم اور آپ ہر برس نظارہ کرتے ہیں کہیں سینکڑوں ہزاروں غریبوں کو افطاریاں کرائی جا رہی ہیں ، دستر خوان لگائے جا رہے ہیں ، کہیں راشن کی تھیلیاں تقسیم کی جا رہی ہیں ، کہیں زکوٰۃ اور صدقے کی رقوم بانٹی جا رہی ہیں کہیں غریب بچیوں کی شادیاں کرائی جا رہی ہیں ، کہیں بے آسرا بچوں کے سکول کے اخراجات کی ذمہ داری لی جارہی ہے کہیں مفت ایمبولینس سروس اور دیوار مہربانی جیسے نوجوانوں کے اقدامات جن میں پرانے کپڑے، جوتے اور ضرورت کی اشیا غریبوں میں تقسیم کی جاتی ہیں ، کتنے ہی ایسے ادارے اور لوگ پاکستان میں آپ کو مل جائیں گے جو انسانیت کے احساس اور جذبہ خدمت سے لبریز ہیں کچھ جائزوں کے مطابق پاکستانی دنیا میں سب سے زیادہ صدقہ اور خیرات کرنے والے لوگوں میں شامل ہیں رحم دل مخیر حضرات ہمارے پاکستانی عوام اپنا مال اللہ تعالیٰ کے نام پرہرسال کے ہرماہ مبارک کے ایام میں دیتے ہیں ایک طرف اْن کے اس عمل خیر کا بے آسرا اور تنگ دست مفلس مسلمان عوام کو فائدہ پہنچتا ہے اور وہ دینے والوں کے حق میں دعاگو ہوتے ہیں یہاں ایک سوال یہ آن پڑا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم پر اپنا مال وزر دینے والوں پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک بڑی اہم ذمہ داری بھی عائد کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا قیمتی عطیہ جب بھی کسی کو دیں تو ذرا یہ دیکھ لیں تحقیق کرلیں کہ جس شخص یا جس بھی ادارے کو صاحب حیثیت مسلمان اپنا مال وزراللہ تعالیٰ کے نام پر عطیہ کررہے ہیں کیا واقعی وہ اس کا حق دار ہے یانہیں ;238;یا اْس شخص یا ایسے کسی ادارے نے زکواۃ،خیرات، صدقات اور قربانی کی کھالوں کے حصول کےلئے کوئی اور لبادہ تو نہیں اْڑھا ہوا ہے;238;ہم اللہ تعالیٰ کے نام پر زکواۃ، خیرات صدقات اور قربانی کی کھالیں کسی ایسے شخص،گروہ یا تنظیمی ادارے کو تو نہیں دے رہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے نام پر حاصل کردہ مال و زرکو انسانیت کے خلاف اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کےلئے استعمال کرئے گا یا پہلے بھی کرتا رہا ہے اس کی تصدیق ازحد ضروری ہے اب یہ ذمہ داری ملک بھر کے شہروں کی چھوٹی اور بڑی مساجد کے پیش نمازوں اور خطیبوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کی نمازوں کے اجتماعات میں اپنے خطبات کے ذریعے سے یہ آگاہی اور یہ سوچ پیدا کریں کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر خیرات کی جانے والی رقم کا ایک ایک پیسہ حق دار تک پہنچنا چاہیئے ناکہ کوئی ناحق شخص یا تنظیمی گروہ اس خیراتی رقم سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی کھلی خلاف ورزیاں کرتے پھریں ، معبتر اور مصدقہ ذراءع سے یہ اعدادوشمار ملکی سیکورٹی اداروں تک پہنچے ہیں کہ یہ جو ملک میں گزشتہ کئی برسوں سے کہیں دہشت گردی ہوتی ہے خود کش حملوں کی وارداتیں ہوتی ہیں اس کے پیچھے مالی معاونت کے جو مشکوک ذراءع سامنے آئے ہیں اْن کا ایک بڑا ذریعہ کہیں مساجد کے نام پر چندا اکھٹاکرنا کہیں یتیم بے آسرا بچیوں کی شادیاں کروانا کہیں مفت علاج معالج کی سہولیات کی فراہمی کا بہانہ کہیں بھیک منگوانے کا نیٹ ورک خاص طور پر رمضان المبارک عید الفطر اور جیسا کہ ایک ہفتہ بعد عیدالضحیٰ قربانی کی عید کے موقع پر قربانی کی کھالیں جمع کرنا ان خیراتی ذراءع کو استعمال کرنے کی اطلاعات جب سامنے آئی ہیں تو ہم پاکستانی مسلمانوں کو پہلی فرصت میں اس جانب توجہ مبذول کرنی ہوگئی ایک ہفتے بعد بڑی عید آنے والی ہے ہاتھوں میں بوگس رسیدیں پکڑے تسبیح پکڑے شکل پر نام نہاد ایمانی ماسک چڑھائے ہر آنے والے پرجلد بازی میں بھروسہ نہ کریں آپ نے تو قربانی اللہ تبارک وتعالیٰ کا قرب اور اْس کی رضا حاصل کرنے کے لئے پیش کی ہے لیکن شعائر اسلامی کی رو سے کھالیں آپ نے کسی انجانے شخص،گروہ یا ادارے کو نہیں دینی دہشت گردوں کا یہ وہ نیٹ ورک ہے جو منشیات کے دھندوں میں ملوث ہے،یہ گروہ اسمگلنگ اورتجارتی برادری کے ممتاز افراد اور اْن کے بچوں کے اغوا کی وارداتوں سے اپنی مالیاتی ضروریات کو پوری کرتے ہیں اللہ کے نام پر بھکاریوں کا نیٹ ورک چلاتے ہیں بعض مقامات پر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مقامی پولیس کا انہیں تعاون حاصل رہتا ہے جدید ٹیکنالوجی کے اس تیزفتار عہد میں اس سلسلے میں ہماری ذرا سی بھی بھول چوک بہت مہنگی ثابت ہوسکتی ہے ملک بھر کی ہر اہم مساجد اور عیدگاہوں کے معزز خطیب حضرات پہلے سے متواتر ایسے خطبے دے چکے ہیں جن میں عام مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نام سے دئیے جانے والے عطیات حق داروں تک خود پہنچائیں دوقدم چل کر اْن تک پہنچیں گے تو ہر قدم کے عوض اللہ تعالیٰ اپنے مومن دیندار بندوں کو ہزارہا گنا نیکیاں عنایت فرمائے گا یہاں ہ میں اور آپ کو بغورجائزہ لینا ہوگا کہ پنجاب کے ہر بڑے شہروں کے اہم تجارتی مراکز کی بڑی شاپس پر خبیرپختونخواہ کے دوردراز اور پسماندہ علاقوں میں قائم مدارس یا مساجد کی تعمیر کے نام پر چندے کے ڈبے رکھے گئے ہیں بلوچستان خیبر پختونخواہ اور سندھ کے شہروں کی شاپس پر پنجاب کے گاوں اور دیہاتوں کی مساجد اور مدارس کے نام پر چندا اکھٹا ہوتا ہے اسی طرح سے بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے تجارتی مراکز کی شاپس پر سندھ کی مساجد اور مدارس کی مدد کرنے کی دہائیاں دی جاتی ہیں یہ سب ایک سوچا سمجھا مذموم منصوبہ ہے لوگ سوچتے نہیں جہاں اللہ تعالیٰ کا نام آیا اہل ایمان اپنی آنکھیں بند کرکے ہزاروں لاکھوں روپے ایسوں کو جانے بغیر دیدیتے ہیں اور سمجھتے ہیں اْنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نام پر مخلوق خدا کی مدد کرکے اپنا دینی فرض نبھا دیا;238; یہ رقم جب یکجا ہوتی ہے تو لاکھوں کروڑوں میں بن جاتی ہے جو دہشت گردمافیا کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے ان ہی لاکھوں کروڑوں روپے کے عوض یہ دہشت گرد معصوم اور بے گناہ پاکستانی مسلمانوں ، اْن کے سویلین اور ملٹری حساس اداروں کی نگرانی کی چوکیوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں ہم نے سوچ وفکر کی راہ جو ترک کردی;238; اپنی عقلوں کے ساتھ ساتھ اپنی آنکھیں جو بند کرلیں ;238; کون اپنا ہے کون پرایا جو اللہ تعالیٰ کا نام لے رہا ہے اْس کے اندرونی تو کیا بیرونی احوال تک کا ہم نے جائزہ لیا ہی نہیں بلکہ یہ ورق ہی پھاڑ دیا ہے داعش افغانستان پہنچ چکی ہے خیر سے معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کی گردنیں اتارنے کے ساتھ ‘‘شریعت اسلامی اور خلافت’’کی بھی وہ دعویدار ہے اب کیا کہیں گے ان کے خلاف جانچ پڑتال کرنے والے ہم پاکستان مسلمان;238; لیکن ہ میں اس سب کے باوجود انسانیت کے ان سفاک دشمنوں کی راہوں ہر صورت روکنا ہوگا ان کےلئے اپنے ملک میں آسانیوں کی کوئی جا باقی نہیں چھوڑنی،ہ میں اپنے اردگرد کے محلہ جاتی ماحول کا بڑی ہوشیاری سے چوکنا ہوکر پہرہ دینا ہے، ایک محفوظ،پْرامن ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کو یقینی بنانے کےلئے اب ہ میں اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ قدم بہ قدم چلنا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative