Home » کالم » اپوزیشن سے پارلیمانی آداب ملحوظ رکھنے کا معاہدہ ، حکومت بجٹ منظور کرالے گی
adaria

اپوزیشن سے پارلیمانی آداب ملحوظ رکھنے کا معاہدہ ، حکومت بجٹ منظور کرالے گی

وزیراعظم پاکستان نے ایک مرتبہ پھر عزم مصمم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بجٹ پاس کرا لیں گے ، وزراء کسی قسم کی ٹینشن نہ لیں ، کپتان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ جس بات پر ڈٹ جاتا ہے اگر وہ ناممکن ہوتو بھی وہ اسے ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی خوبی کے تحت انہوں نے کہاکہ ہم بجٹ پاس کرالیں گے، اپوزیشن کی کسی بھی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے جبکہ بلاول بھٹو زرداری ، شہباز شریف اور فضل الرحمن کی ملاقاتوں میں بجٹ کے پاس ہونے کو رکوانے کیلئے باقاعدہ کمیٹی کا اعلان گیا ہے یہ اب اپوزیشن کی تمام جماعتوں اور حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطہ کرے گی، بی این پی اختر مینگل سے پہلے ہی فضل الرحمن کی ملاقات ہوچکی ہے، ادھر حکومت نے نعیم الحق کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ بجٹ پاس کرانے کیلئے سیاسی جماعتوں سے رابطے کریں ۔ گزشتہ روز ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ ارکان کو بجٹ منظوری کی ٹینشن نہ لینے اور اپوزیشن کی کسی بلیک میلنگ میں نہ آنے کی ہدایت کی ہے،گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں حکومت نے اپوزیشن سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تیار کی ۔ وزیراعظم نے تمام وزرا ء کو اپوزیشن کی زبان میں ہی جواب دینے کی ہدایت کی اور کہاکہ کابینہ ارکان بجٹ منظوری کی ٹینشن نہ لیں ، بجٹ ہم منظور کرالیں گے ۔ وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ ارکان کسی بلیک میلنگ میں نہ آئیں ، اپوزیشن آپ کو کسی جگہ بولنے نہیں دیتی تو آپ بھی بولنے نہ دیں ، اپنے موقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں ، اسمبلی کے ساتھ میڈیا پر بھی اپنے بیانیے پر قائم رہیں اور بھرپور جواب دیں ۔ اگر اپوزیشن احتجاج کرناچاہتی ہے تو 100 دفعہ کرے لیکن عوام کی زندگی میں خلل ڈالا گیا تو قانون حرکت میں آئے گا ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ اجلاس میں احتساب کے حوالے اہم پیشرفت ہوئی،ماضی کے وزرائے اعظم چادر سے زیادہ پاؤں پھیلاتے رہے،وزیراعظم چاہتے ہیں قوم مشکل وقت میں ساتھ دے،وزیراعظم نے اپنے اخراجات کم کیے،ماضی کے وزیراعظم نے 2014-15 میں 86کروڑ کا بجٹ استعمال کیا، وزیراعظم عمران خان نے کفایت شعاری کی مہم اپنے آپ سے شروع کی،وزیراعظم ہاوَس کے گزشتہ دور کے 28کروڑ کے بجلی کے بل ہم ادا کررہے ہیں ،شہباز شریف نے 45ارب روپے صرف ذاتی تشہیر پر پنجاب میں خرچ کئے ، مختلف کیمپ آفسز پر اخراجات کی تفصیلات دیکھیں ، وہ قوم کو زہر کے ٹیکے لگا کر گئے ، پنجاب حکومت تنکا تنکا اکٹھا کر کے ان کی عیاشیوں کی قیمت ادا کر رہی ہے ،نوازشریف سرکاری جہاز پر امریکہ گئے تو ان کی بیٹی اور نواسی بھی گئی ،کئی بار بچے ،بغیر وزیراعظم کے اس جہاز سے لطف اندوز ہوتے رہے ، پوری قوم نے دیکھا ماضی کے وزیراعظم اپنی نواسی کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود تھے ، ہمارے وزیراعظم کوئی وی آئی پی ٹریٹمنٹ نہیں لے رہے ۔ وزیراعظم اور ان کا خاندان کوئی ذاتی سہولیات نہیں لے رہا،کرپشن کے کیسز میں اندر ہونیوالے سیاسی قیدی نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد ہیں ،کرپشن اور منی لانڈرنگ کرنیوالے چوری کرکے سینہ زوری کررہے ہیں ۔ اسمبلی کو سب جیل قرار دینا پارلیمنٹ کی توہین ہے، اسمبلی کو فرد واحد کی خواہش پر سب جیل قرار دے دیا گیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان ستمبر میں جنرل اسمبلی اجلاس میں جائیں گے جہاں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی ان کے ہمراہ ہوں گے کابینہ نے حسین اصغر کو انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کی منظوری دی،ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغرانکوائری کمیشن کے سربراہ ہونگے،وفاقی کابینہ کے سامنے انکوائری کمیشن کے قیام کا معاملہ رکھا گیا ۔ ستمبر 2018 میں پاکستان پر 30 ہزار 875 ارب روپے قرضہ ہوگیا،2008 میں پاکستان پر 6 ہزار 690 ارب روپے قرضہ تھا ۔ ا دھر وزیراعظم عمران خان نے قومی ترقیاتی کونسل کی بھی منظوری دیدی ہے جس کے آرمی چیف بھی رکن ہوں گے ۔ یہ کونسل ملکی معیشت کی بہتری، ترقی اور علاقائی روابط کو فروغ دینے میں اہم کردارادا کرے گی ۔ 13 رکنی نیشنل ڈویلمپنٹ کونسل کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، کونسل کے سربراہ وزیراعظم خود ہوں گے جبکہ وزیر خارجہ ، وزیر منصوبہ بندی، مشیر خزانہ اور مشیر تجارت بھی اس کے ارکان میں شامل ہوں گے ۔ ابتدائی طورپر کونسل کے چار ٹی او آرز جاری کیے گئے ہیں کہ ملک کو کیسے ترقی دینی ہے ، حکمت عملی کیا ہونی چاہیے، معاشی ترقی کی شرح کیسے بڑھائی جاسکتی ہے، قومی و علاقائی روابط کیلئے دیرپا منصوبہ بندی کیا ہونی چاہیے اور علاقائی تعاون کیلئے کیا گائیڈ لائنز ہوں ۔ کونسل وزیراعظم کے آفس میں کام کرے گی، سیکرٹری وزیراعظم ، سیکرٹری خارجہ ، سیکرٹری خزانہ اور منصوبہ بندی بھی کونسل کے ارکان میں شامل ہوں گے ، وزیراعظم آزاد کشمیر، چارں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ کو بھی دعوت پر اجلاس میں شریک کیا جاسکے گا ۔ ٹی او آرز نے ضرورت اور وقت کے تحت تبدیلی بھی کی جاسکتی ہے ۔ وزیراعظم کا یہ اقدام قابل ستائش ہے کیونکہ اس کے قیام سے ملکی معاشی ترقی اور دیگر مسائل حل کرنے میں براہ راست مدد مل سکتی ہے ۔ چونکہ سربراہ وزیراعظم ہی ہوں گے اس وجہ سے جو بھی مسائل ہوئے وہ وزیراعظم کے نوٹس میں براہ راست آئیں گے لہذا امید واثق یہی کی جارہی ہے کہ اس کے بہترین نتاءج برآمد ہوں گے ۔ نیز اس میں آرمی چیف کا رکن ہونا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور وزیراعظم کی جانب سے یہ فیصلہ ان کی دوررس نتاءج پر حامل نظر سے متعلق ہے کیونکہ جب بھی کسی سربراہ کا کپتان کی مستقبل پر نظر ہو تو حال اس کا خودبخود درست ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ ادھر وزیراعظم عمران خان سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی ملاقات کی، ملاقات میں اہم معاملات زیر غور آئے ، فیض حمید کے عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم سے یہ ان کی پہلی ملاقات ہے ۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے مطابق پی پی، ن لیگ کے ساتھ پارلیمانی آداب محلوظ رکھنے کا معاہدہ طے پاگیا ہے، معاملات وزیراعظم کی منظوری سے طے پائے ہیں ، پہلے شہباز شریف خطاب کریں گے پھر اس کے بعد حکومت کی باری آئے گی اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکومت بجٹ پاس کرانے میں کامیاب ہو جائے گی ۔

آرمی چیف کا این ڈی یو میں خطاب

پاک فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ خطرات سے نبردآزما ہونے کیلئے قومی سطح پر مشترکہ جواب کی ضرورت ہوتی ہے، یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے، ملکی استحکام اور امن و امان میں پاک فوج کا ایک انتہائی کلیدی کردار ہے ۔ آرمی چیف آف اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج وطن کے دفاع کے لئے مکمل طور پر تیار ہے، خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ جواب کی ضرورت ہوتی ہے، پاک فوج دفاع اور سیکیورٹی کے امور قومی تعاون سے انجام دیتی رہے گی ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے مطابق آرمی چیف آف اسٹاف نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ کیا ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج دفاع اور سیکیورٹی کے امور قومی تعاون سے انجام دیتی رہے گی ۔ فوج دیگر ریاستی اداروں سے مل کر قومی ردعمل دینے کے لیے مکمل طور پر تیارہے، خطرات سے نبردآزما ہو نے کیلئے قومی سطح پرجواب کی ضرورت ہوتی ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative