Home » کالم » اپوزیشن کا اتحادیانیا این آراو

اپوزیشن کا اتحادیانیا این آراو

کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن متحد ہو کر رمضان کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرے گی ۔ حکومت اپنی قبر خود کھود رہی ہے ۔ تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے ۔ تبدیلی کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا گیا ۔ نیب کا ادارہ اپنی ساکھ کھو چکا ہے ۔ کچھ عناصر کہتے ہیں کہ یہ اتحاد این آر او کیلئے ہے جو ہی کچھ پیش رفت ہوئی یہ اتحاد پارہ پارہ ہو جائیگا ۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ کاش یہ اتحاد عوام کے مفاد کیلئے بھی ہوتا یہاں تو صاف ظاہر ہے کہ یہ اتحاد تمام سیاست دانوں کا اپنے مفاد کیلئے ہے ۔ کہتے ہیں کہ اعمال کا دار و مدار اس کے نتاءج پر ہوتا ہے عوام اس کا انتظار کریں کہ آیا یہ اتحاد عوام کو رپیش مسائل کیلئے ہے یا صرف اپنے مسائل کے حل کیلئے کچھ دنوں کے بعد اس کا اندازہ ہو جائیگا ۔ عوام کا حافظہ اتنا کمزور بھی نہیں ہے ۔ اس اتحاد کی ایک جھلکی عوام کو صدارتی انتخاب کے موقع پر بھی دیکھنے کو ملی تھی ۔ پیپلز پارٹی کے رہنماءوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں میں کوئی باقاعدہ اتحاد نہیں بلکہ محض ایک بندوبست ہے، الیکشن میں دھاندلی کے خلاف تمام جماعتیں اکٹھی ہوئی ہیں ، اسے اس طرح نہ پیش کیا جائے کہ ہم نے اتحاد بنایا تھا جسے توڑ دیا گیا، تاہم اپوزیشن کو متحد کرنے میں نہ پہلے کسر چھوڑی ہے نہ اب چھوڑیں گے، اعتزاز احسن کو امیدوار بنانا پی پی پی کا اپنا فیصلہ ہے، پوری کوشش تھی کہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار آئے ۔ مولانا فضل الرحمن سے ن لیگ کو اعتزاز احسن کے نام پر راضی کرنے کی گزارش کی تھی، لیکن وہ خود امیدوار بن گئے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ن لیگ پی پی پی کی مجبوریوں کا تاثر دے رہی ہے، بے نظیر اور آصف زرداری کے خلاف تمام کیسز نواز شریف نے بنوائے تھے، یہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد نہیں بلکہ صرف ایک بندوبست ہے، سب کا اپنا اپنا منشور ہے، اور کوئی ایک دوسرے کا منشور ماننے کے لیے تیار نہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کی معیشت تباہ ہے اور خزانہ خالی ہے ۔ بیرونی قرض چکانے کیلئے بھی کچکول کا سہارا لیا جارہا ہے کہ قسط ادا کیا جاسکے مگر یہ سب خرابی چند مھینوں کی نہیں گزشتہ تہتر برس کی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے ۔ اس وقت جب کہ سی پیک کا ایک مرحلہ تکمیل کی طرف جا رہا ہے تو اس وقت قومی اتحاد کی ضرورت ہے ۔ یہ جاننا چائیے کہ عالمی سامراج کو سی پیک ہضم نہیں ہو رہا ہے اس وجہ وہ مختلف حربے استعمال کرا رہا ہے ۔ مختلف عنوانات سے لوگوں کو اپنے حق اور پاکستان کے قومی اداروں کے خلاف اکسا رہا ہے ۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کے مقتدر ادارے اپنے فیصلے خود کرنے لگے ہیں ورنہ ماضی کی یہ ایک روایت رہی ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن نے ہمیشہ برملا طور پر امریکہ کو پاکستان کا نا اعتبار دوست ٹھہرایا ہے ،لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے امریکہ کی چھتری میں حکومت کرنے میں اپنی عافیت سمجھی ہے ۔ اس تناظر میں یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ روز اول سے ہم سامراج کے حق میں استعمال ہوئے ہیں اور آج بھی سامراج ہ میں کھلونا بنانے پر تلا ہوا ہے اور ایک تسلسل کے ساتھ ہم آگے کے جانب بڑھ رہے ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اتحادی کے طور پر مشہور ہیں ، اور سرمایہ دارانہ نظام کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں ۔ یہ کہنا کہ موجودہ حکمران اس راستے پر چل پڑے ہیں درست نہیں ان کے لیئے تو اس راستے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ملک کو موجودہ ڈگر پر چلانے کیلئے اسے بھر حال اس راستے پر چلنا ہوگا جس کے نقوش ماضی کے حکمرانوں نے چھوڑے تھے ۔ ہمارے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے مئی 1950;247;ء کو امریکہ کا وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے اپنا پہلا دورہ کیا تھا اس دورے کا مقصد انہوں نے پاکستان کیلئے دفاعی امداد کا حصول قرار دیا تھا جس کیلئے اکتوبر 1947;247;ء میں پاکستان امریکہ سے مطالبہ کر چکا تھا آئندہ پانچ سال کی ضروریات کے لئے پاکستان کو امریکہ کی طرف سے دو ارب ڈلر کی امداد کی ضرورت ہوگی چنانچہ وزیر اعظم لیاقت علی خان اس عزم اور ارادے سے امریکہ کے دورے پر روانہ ہوئے تھے اور بظاہر کامیاب لوٹے تھے ۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے پہلے دورے میں امریکی حکام سے اپنی بات چیت میں انہیں یہ باور کرایا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت سے جڑا رہے گا اور اس نظام کے استحکام کے لیئے امریکہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتا رہیگا اور انہوں نے امریکہ کو یہ بھی یقین دلایا کہ’’ ہم جانتے ہیں کہ آپ جارحیت کا مقابلہ کرنے کا عزم کر چکے ہیں اس کام میں آپ پاکستان کو اپنا دوست پائینگے ‘‘ چنانچہ ان کی اس یقین دہانی کے بعد پاکستان کا ہر حکمران ان کے اس عہد کو نبہانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرسکتا ہے اور اس طرح پاکستان اور امریکہ کی دوستی قائم اور دائم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا سفر جاری ہے ۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جنوبی کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کونسل نے جنوری 1951;247;ء کو یہ قراداد منظور کر کی تھیاور اس وقت کے امریکی صدر ٹرومین نے اس پر دستخط ثبت کئے تھے کہ ہ میں جنوبی ایشا میں ایک ایسا رویہ چائیے جو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی اس بات میں مدد کریں زمانہ امن میں جن چیزوں کی خواہش ہوتی ہے انہیں اور اور زمانہ جنگ میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کو اس علاقے سے حاصل کر سکےں اور ان میں سے کوئی چیز سوویت یونین حاصل نہ کر سکے ۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے اس قراداد کی روشنی میں اگر اپنی گزشتہ ساٹھ سالہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے جنگ اور امن ہر دو حالات میں ہ میں استعمال کیا ہے اگرچہ امریکہ نے ہ میں فوجی امداد دی اور اقتصادی قرضے بھی عنایت کئے لیکن اس کے بدلے میں ہماری آذادی سلب کی گئی اور ہ میں آلہ کار بنا کر اس نے ہ میں کمیونزم کے خلاف استعمال کیا اور سویت یونین کا راستہ روکنے کی کوشش کی اس طرح امریکہ نے دو فوائد حاصل کئے ایک یہ کہ اس نے یہاں اپنا معاشی اور سیاسی تسلط قائم کیا اور دوسرا یہ کہ اس نے سویت یونین کے خلاف ہ میں استعمال کیا اور زبردست کامیابی حاصل کی ۔ ;247;ہمارے پہلے وزیر اعظم کے پہلے دورہ امریکہ کے بعد اسی سال میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کا فوجی ساز وسامان خریدنے کا معاہدہ ہوا اور اس کے دو سال بعد مزید معاہدات ان دونوں دوستوں کے درمیان طے پاگئے اور یوں دوستی کا سفر جاری ہوا جو آج تک جاری ہے اور آج بین الاقوامی دنیا میں ہماری شناخت بھی امریکہ کے دوست کی حیثیت سے مشہور ہے اور یہ ہماری پہچان ہے اور اس دوستی میں مزید گرم جوشی اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان 1;576247;ٗ;247;ٗ;247;ء کو کا ممبر بنایا گیا اور ایک سال بعد 1;577247;ء میں سینٹو کا رکن بنا ان معاہدات میں شمولیت سے ہم امریکہ کے تو قریب ہوگئے مگر پڑوسیوں کی نظروں ہم ناقابل اعتبار ٹھرگئے ہمارا تعارف سامراج کیلئے ایک آلہ کار کی حیثیت سے مشہور ہوا سامراجی مفادات کو اپنا نصب العین بناکر اپنے خطے کے ممالک کو ہم نے اپنادشمن بنا لیا اور یوں ہمارا ملک ناعاقبت اندیش اور آلہ کار قیادت کی وجہ سے سامراج کے حق میں خوب استعمال ہو اور تسلسل کے ساتھ یہ سلسلہ جاری ہے ۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سامراجی طاقتوں نے ہمیشہ فرعونی طرز سیاست کو اپنا کر اپنے عزائم کے پورا کیا ہے ،فرعون نے بھی تقسیم کرو اور حکومت کرو اوالہ فارمولا اپنایا تھا اور اسی فارمولے پر ہر دور میں سامراج نے بھی خوب عمل کیا ہے چنانچہ امریکہ نے ایک طرف کمیونزم کا ہوا کھڑا کر کے اس کا راستہ روکنے کیلئے کسی دور میں انتہا پسند مذہبی تحریکوں جماعتوں کی آکی نشوونماں کی اور انہیں پروان چڑھایا اور انہیں اسلحہ اور بود وباش فراہم کی سرد جنگ کے دوران امریکہ نے یہ حربہ خوب اپنایا جو کامیاب رہا اور جو بھی راستہ میں مزاحم ہوا اسے منظرہی سے ہٹادیا گیا اور یا عوام الناس میں اسکی حیثیت ہی مشکوک بنادی گئی جیسے سعودی عرب کے شاہ فیصل اور پاکستان میں ذولفقار علی بھٹواور صدام حسین جیسے لیڈروں کو راستے سے ہٹادیا گیا اور مصر کے جمال عبد الناصر فلسطینی لیڈر یاسر عرفات اور شام کے حافظ الاسد کی کردار کشی کی گئی اور ان کے خلاف محاذ کھڑا کیا گیا اور ان پر فتوے وغیرہ داغے گئے ر انہیں مطعون کیا گیا ۔ ایک طرف امریکہ نے تقسیم کرنے کی پالیسی اپنائی اور دوسری طرف اس نے ہماری معیشت کو نشانہ بنایا اور ملک کی سیاست کو کمزور کیا اس مقصد کیلئے اس نے اپنے سیاسی اور بیوروکریسی کو آ لہ کار کے طور پر استعمال کیا ہماری سیاست امریکہ کی تابع ہوگئی اور اور معاشی طور پر ہم مفلوج ہوگئے امداد اور قرضوں کے نام پر ہمارا استحصال کیا گیا اور یوں غریبوں کے نام پر حاصل کیا گیا قرضہ ملک کی غربت کا باعث ہوا ملک کی مصنوعات کو فیل کردیا گیا اور پورا ملک ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تابع ہوگیا اور یوں امریکہ کے ساتھ ہمای دوستی کی پینگیں ہمارے گلے کا روگ بن گیا اور محتاجی ہمارا مقدر ٹھہر گئی اور اب جبکہ حالات نے پلٹاکھایا ہے اور ہمارے فیصلے خود ہونے لگے ہیں سی پیک سے سامراج کو زک پہنچ رہی ہے اور اس کا میڈیا چیخ رہا ہے دیکھتے ہیں حالات کیا پلٹا کھاتے ہیں ۔ اور اپوزیشن کے موجودہ کردار کو ہم بندوبست کا نام دیں یا اتحاد کا نام اور اگر یہ اتحاد ہے تو یہ اتحاد کیا عوامی مفاد کیلئے ہے یا صرف این آرو کے حصول اور نیب سے اپنی جان چھڑانے کیلئے۔۔۔!

About Admin

Google Analytics Alternative