1,127

اکثرگہری نیند سے قبل اچانک ایک جھٹکا بیدار کیوں کردیتا ہے؟

بستر پر لیٹنے کے بعد آپ کے خیالات آہستگی سے گم ہوتے محسوس ہوتے ہیں اور بیداری سے اونگھتے ہوئے نیند کی جانب سفر شروع ہوجاتا ہے، مگر پھر اچانک جسم کے کسی حصے میں جھٹکا سا محسوس ہوتا ہے اور آپ ڈرامائی انداز سے بیدار ہوجاتے ہیں، کیا یہ کچھ سنا سنا لگ رہا ہے؟

درحقیقت یہ سنا سنا نہیں بلکہ ایسا تجربہ ہے جو ہر 10 میں سے 8 افراد کو ہوتا ہے اور اسے طبی زبان میں ہینیک جرک کہا جاتا ہے۔

یہ درحقیقت عصبی تشنج (مائی آک لونس) کی ایک قسم ہے (اس کی ایک قسم ہچکیاں بھی ہوتی ہیں)۔

ماہرین کے مطابق نیند کے دوران اچانک چونکا دینے والے یہ جھٹکے بہت مختصر اور اچانک ہوتے ہیں، اور اکثر نیند کے پہلے مرحلے میں ان کا سامنا ہوتا ہے، یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب انسان بیداری اور گہری نیند کے درمیان ہوتا ہے۔

نیند کے اس مرحلے میں پٹھے پرسکون ہوجاتے ہیں اور اس جھٹکے کو اکثر دماغ گرنے کے احساس کے طور پر لیتا ہے تو وہ مسلز میں کھچاﺅ پیدا کرتا ہے۔

ہینیک جرک کو سلیپ اسٹارٹس بھی کہا جاتا ہے جو بغیر وجہ کے ہوتا ہے اور کئی بار یہ جسم میں چھپی کسی بیماری کی علامت بھی ثابت ہوتا ہے۔

اس تجربے کے امکانات میں اضافہ کرنے والے چند مخصوص عناصر بھی ہیں جیسے تناﺅ، بہت زیادہ جسمانی مشقت یا ورزش اور مخصوص ادویات وغیرہ۔

نیند کے دوران اس طرح کے جھٹکے سے بیداری صحت مند افراد میں عام ہوتی ہے مگر اس کی شدت میں تھکاوٹ، نیند کی کمی یا کیفین یا دیگر لتوں سے اضافے کا خطرہ ہوتا ہے۔

اکثر تو اس طرح نیند سے اچانک جاگنا فکرمندی کا باعث نہیں ہوتا، تاہم اس کا سامنا اکثر ہو اور آسانی سے سونا مشکل ہوجائے تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلیں۔

کبھی کبھار نیند سے اچانک چونکنا کسی بیماری کی علامت بھی ہوتا ہے تو اس کی شدت میں اضافے اور مسلسل اس کا تجربہ ہونے پر ڈاکٹر سے چیک کرالینا اچھا خیال ہے۔

مثال کے طور پر سلیپ اپنیا، ایسا مرض جس کے دوران سوتے ہوئے بار بار سانس چند لمحوں کے لیے تھم جاتی ہے، کے نتیجے میں مسلز میں کھچاﺅ پیدا ہوتا ہے اور ماہرین کے مطابق جب سانس کی گزرگاہ بند ہو اور آکسیجن کی سطح میں کمی ہوجائے تو دماغ ایسے سگنل بھیجتا ہے جو مسلز میں کسی قسم کے جھٹکے کا باعث بنتے ہیں۔

اس مسئلے کی روک تھام کے لیے کوئی بہتر طریقہ کار تو موجود نہیں مگر سونے کا ایک وقت طے کرکے اور آرام دہ ماحول میں نیند سے اس کا امکان کم کیا جاسکتا ہے۔

ذہنی تناﺅ میں کمی لانا اور کیفین یا چائے اور کافی کا کم استعمال بھی اس حوالے سے بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں