تازہ ترین
Home » کالم » فصیل حرف » اگست بانی پاکستان کی تقریر،مذہبی آزادی اور پاکستان
syed-rasool-tagovi

اگست بانی پاکستان کی تقریر،مذہبی آزادی اور پاکستان

syed-rasool-tagovi

’’آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی یہ الفاظ اس تقریر کا ایک طرح خلاصہ ہیں جو انہوں نے 11اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے اپنے صدارتی خطبے میں کہے تھے۔قائد اعظم ؒ کی اس تقریر کو بعض مخصوص مائنڈ رکھنے والے دانشور اس زاویے سے پیش کرتے ہیں کہ جیسے قائداعظم پاکستان کو ایک سیکولر سٹیٹ بنانے کے خواہاں تھے لیکن بدقسمتی سے وہ آپؒ کی دیگر تقاریر خطابات اور مراسلات کو یکسر نظر انداز کر کے نئی نسل کو ابہام اور تشکیک کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔قائداعظم ؒ کا یہ فرمانا کہ تمہارے شخصی طور پر اپنی عبادت گاہوں میں جانے سے ریاست سے کوئی تعلق نہیں، اس کا مطلب ہے کہ تم مندر میں جاؤ یا چرچ میں اس میں تم آزاد ہو، ریاست تمہیں اس معاملہ میں نہیں روکے گی۔اپنے دین پر شخصی اعتبار سے عمل کرنے میں تم آزاد ہو۔آج کیا ریاست نے ملک میں کسی اقلیت پر ایسی قدغن لگا رکھی ،تو ایسا بالکل نہیں ہے۔پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 20 میں بھی اس بات کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں میں سب سے زیادہ تعداد ہندوؤں کی ہے۔ مسیحی آبادی کے اعتبار سے دوسری بڑی اقلیت ہیں جبکہ انکے علاوہ سکھ، پارسی، بودھ اورکیلاشی نمایاں ہیں۔سب اپنی اپنی رسومات آزادانہ طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ ہولی اور کرسمس جیسی تقریبات آزادانہ منعقد ہوتی ہیں حتیٰ کہ کئی ملکی شخصیات ان میں شریک بھی ہوتی ہیں۔تاہم جو مائنڈ سیٹ اس کا پروپیگنڈا کرتا ہے وہ کسی ذاتی مفاد کے ہاتھوں مجبور ہے اور ایک عام آدمی بھی انہیں پہچانتا ہے۔ہماری ان سے صرف اتنی گزارش ہے کہ آپ جس اپنے’ ماسٹر‘ کی خوشنودی کے لیے ایساکرتے ہیں ذرا ادھر بھی جھانک لیں کہ وہاں اقلیتوں کیساتھ ہو کیا رہا ہے۔ سرکاری سرپرستی میں گاؤ رکشا مہم کو ہی لیں تو انسانیت کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔بھارت میں مذہبی آزادی پر قدغنوں پر عالمی ادارے بھی تنقید کرتے ہیں ۔مگر وہاں کا میڈیا چپ رہتا ہے جو بولتا ہے اس کی بولتی بند کردی جاتی ہے۔رواں برس اپریل کے اواخر میں رپورٹرز وِدآٹ بارڈرز نے پریس فریڈم انڈکس 2018ء جاری کیا تھا، جس میں دنیا کے 180ممالک میں میڈیا کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے درجہ بندی کی گئی تھی۔ جس کے مطابق ناروے پہلے سویڈن دوسرے اور ہالینڈ تیسرے نمبر ہے۔انڈکس کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک کی درجہ بندی میں بہتری کم دکھائی دیتی ہے اور میڈیا مشکلات سے دوچار ہے۔سب سے بدترین صورتحال بنگلہ دیش اور بھارت میں ہے۔انڈکس میں اس حوالے سے بھارت کی دو درجے تنزلی دکھائی گئی ہے جبکہ پاکستان کی سابقہ پوزیشن برقرار ہے یعنی بین الاقومی رپورٹ اس تاثر کو مسترد کرتی جو مقامی طور میڈیا کے ایک سیکشن نے کسی ایجنڈے کے تحت آزادی صحافت پر زبان بندی کا شور مچا رکھا ہے۔رپورٹ میں سیلف سینسر شپ کی بات کی گئی ہے گئی ہے جسے منفی معنوں میں لیا جا رہا ہے۔یہ سیلف سینسر شپ در حقیقت احساس ذمہ داری ہے جسے یورپ اور مغرب میں پریکٹس کیاجا رہا ہے۔دوسری طرف ہمارے پڑوسی ممالک بھارت اور بنگلہ دیش میں آزادی صحافت سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔بلاشبہ چند برس میں بھارتی میڈیا انڈسٹری نے تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اس پر سیاسی دبا ؤمیں اضافہ ہو رہا ہے،خصوصاً مودی حکومت میں میڈیا پرسن کو بی جے پی کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں شدید خطرات لاحق ہیں ۔ح ال ہی میں’ اے بی پی‘ ایک نیوز چینل سے وابستہ دو معروف صحافیوں نے استعفے دے کر کئے سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق چینل چھوڑنے والوں میں کھانڈیکر اور پنیا پراسون باجپائی شامل ہیں۔یہ نیوز شو ’ماسٹر اسٹروک‘ کے میزبان تھے۔ان دونوں کے استعفیٰ دینے کی وجہ ایک رپورٹ بنی جو گزشتہ ماہ اس چینل نے نشر کی تھی۔رپورٹ میں بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ایک گاؤں کے رہائشی کی کہانی سنائی گئی تھی جس نے بتایا کہ حکومتی اہلکاروں نے اسے یہ جھوٹ بولنے کو کہا تھا کہ اس نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی دیہاتیوں کیلئے شروع کردہ ایک اسکیم سے فائدہ اٹھایا تھا۔ رپوٹ نشر ہونے کے بعد حکمران جماعت بی جے پی اس ٹی وی چینل پر اتنا آگ بگولہ ہوئی کہ دو میڈیا پرسن کو الگ ہونا پڑا۔پاکستان میں ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔بتایا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی اس چینل نے اینکر ابھیشر شرما کو بھی اس لیے آف ایئر کر دیا تھا کیوں کہ انہوں نے بھی مودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی میڈیا کو جس دباؤ کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔بھارت میں صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ رجحان پریشان کن ہے ۔سیاسی جماعتوں کے کارکن اور سوشل میڈیا ونگ صحافیوں کو منظم انداز میں ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ایسے ماحول میں غیر جانبدارانہ صحافت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ ادھراپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت پر ملک میں میڈیا کا گلا گھونٹنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اے بی پی نیوز کے دو سینئر صحافیوں کے استعفیٰ کے معاملہ کو پارلیمنٹ میں اٹھا دیا۔اس سے معاملے کی لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملک ارجن نے حکومت پر میڈیا کو دھمکا نے کاالزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند برسوں میں حکومت کی جانب سے میڈیا کا گلا دبانے کے متعدد معاملات سامنے آچکے ہیں اور خاص کر بی جے پی حکومت کی کارکردگی کو دکھایا جاتا ہے تو میڈیا کو دھمکایاجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں اظہار رائے کی آزادی نہیں رہے گی تو ہم کیسے بولیں گے ؟تاہم حکومت کی طرف سے جواب دیتے ہوئے اطلاعات و نشریات کے وزیر راج وردنے سنگھ راٹھور نے اس کی تردید کی اور کہا کہ اے بی پی نیوز غلط خبر نشر کرتا ہے ۔جبکہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اس مسئلہ پرمودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں ۔مختصر یہ کہ ہمارے لبرل حلقے خوامخواہ آزاد خیالی کے چکر میں ہلکان نہ ہوں بلکہ اللہ کا شکر کریں کہ وہ ایک ایسے ملک میں ہیں جہاں مذہبی آزادی ہو یا میڈیا کی آزادی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔آج 11اگست ہے،لبرل دانشوروں سے عرض ہے کہ وہ تعصب کی عینک ایک طرف رکھ کر بانی پاکستان کے جملہ فرمودات کا مطالعہ فرما لیں،ہو سکتا ہے کہ کوئی بہتر رہنمائی مل جائے۔

About Admin

Google Analytics Alternative