Home » کالم » ایرانی سنی حکومت کے امتیازی سلوک کے شکار
soch bichar

ایرانی سنی حکومت کے امتیازی سلوک کے شکار

ایرانی صوبے کردستان میں ایک دن میں21 مسلما نوں کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ان ’دہشت گردوں‘ کو ای ’جہادی‘ دہشت گرد تنظیم کے رکن ہونے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی ہے۔پھانسی پانے والے ان قیدیوں کے خلاف متعدد الزامات میں پولیس اسٹیشنوں پر حملے کرنا اور ریاستی سلامتی کے خلاف کام کرنا بھی شامل تھا۔ اپوزیشن کارکنوں کے مطابق ان قیدیوں سے اقبالِ جرم کروانے کے لیے ا ±ن پر تشدد کیا گیا۔موت کے سزا یافتہ مزید17 سنی قیدیوں کو کسی بھی وقت پھانسی دیے جانے کا امکان ہے۔ایرانی ٹیلی وژن نے پراسیکیوٹر جنرل محمد جواد منتظری کے حوالے سے بتایا کہ ’ان لوگوں نے بچوں اور عورتوں کو قتل کیا تھا، تباہی پھیلائی تھی اور کچھ ک ±رد علاقوں میں سنّی علماء کو ہلاک کیا تھا‘۔ ایران کی انٹیلی جنس کی وزارت نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں 2009ءاور 2011ء کے درمیانی عرصے میں ہونے والے چوبیس مسلح حملوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان سبھی حملوں کے پیچھے ’توحید و جہاد‘ کہلانے والے ایک ہی گروپ کا ہاتھ تھا۔اس وزارت کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران یہ گروپ بم حملوں اور ڈاکوں کے ساتھ ساتھ اکیس افراد کے قتل کا بھی ذمہ دار تھا۔ مزید یہ کہ اس ملیشیا نے دو ایسے سنّی مذہبی رہنماو ¿ں کو ہلاک کیا، جو شیعہ اکثریتی ایران کے علماء کے ایک طاقتور ادارے کے رکن تھے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2015ء میں ایران میں 977 افراد کو پھانسی دی گئی جبکہ اس سال اب تک یہ تعداد سات سو تک پہنچ چکی ہے۔ناروے میں قائم ’ایران ہیومن رائٹس‘ نامی گروپ نے دی جانے والی پھانسی کی سزاو ¿ں کو ہدفِ تنقید بنایا ہے اور بین الاقوامی مبصرین پر زور دیا ہے کہ وہ اس ایرانی اقدام کی مذمت کریں۔ اس گروپ کے ایک ترجمان محمود امیری مقدم نے کہا: ”اگر سب کی نہیں تو ان میں سے کئی قیدیوں کے مقدمات کی کارروائی غیر منصفانہ تھی اور انہیں ایسے الزامات کے تحت پھانسی دی گئی، جن کے لیے اعترافِ جرم تشدد کر کے کروایا گیا تھا۔ انہیں پھانسی دیا جانا ایک جرم ہے۔“ پھانسی کی سزا پانے والوں میں سے ایک کی اہلیہ نے بتایا کہ ایرانی حکام نے ا ±سے رجائی شہر نامی جیل میں اپنے شوہر کے ساتھ آخری ملاقات کے لیے بلایا تھا لیکن پھر ساتھ ہی دوسری کال آ گئی کہ لواحقین جیل کی بجائے سیدھے ا ±س قبرستان میں پہنچیں، جہاں ان قیدیوں کو دفنایا جائے گا۔ایران کی سپریم کورٹ نے زیرحراست اہل س ±نت مسلک سے تعلق رکھنے والے 27 علما و طلبہ کو سزائے موت کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد انہیں کسی بھی وقت تختہ دارپر لٹکا دیا جائے گا۔ سزائے موت پانے والوں میں طلباء اور علماء بھی شامل ہیں۔سزا پانے والے شہریوں میں سے بعض پر مسلح کارروائیوں میں حصہ لینے کا بھی الزام عاید کیا ہے۔ مقدمے کا فیصلہ سنائے کے وقت ملزمان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے اپنے خلاف عاید کردہ تمام الزمات مسترد کردیے۔ زیرحراست کارکنوں کا کہنا تھا کہ انہیں محض دعائیہ تقریبات منعقد کرنے اور مذہبی رسومات اور عبادت کی ادائی کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ قطعا بے قصور ہیں۔ اس سے قبل ایرانی انٹیلی جنس حکام4 مارچ کو چھ سنی علما و طلبہ کو نام نہاد الزامات کے تحت چلائے گئے مقدمات کے تحت سزائے موت دے چکے ہیں۔ ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ رواں ہفتے ایک ہی دن اہل سنت مسلک کے 21 علماء کو ایک ساتھ پھانسی کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ایرانی حکام کی طرف سے اجتماعی پھانسی کی سزاو ¿ں کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا اعتراف ہے۔ ماضی میں ایران بڑی تعداد میں سنی مسلمانوں اور سماجی کارکنوں کو موت کی سزائیں دیتا رہا ہے مگر ان کا اعتراف نہیں کیا جاتا تھا۔ایران کے دارالحکومت تہران کی ضلعی حکومت نے بلدیہ میں قائم اہل سنت والجماعت مسلک کے مسلمانوں کی اکلوتی مسجد کو شہید کردیا جس پر مقامی علماء اور شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ تہران حکومت کی اس اشتعال انگیز کارروائی کے خلاف سنی اکثریتی صوبہ بلوچستان کی مرکزی جامع مسجد کے امام وخطیب مولوی عبدالحمید اسماعیل زئی نے رہبر انقلاب اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان سے مسجد کی شہادت پر سخت احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے مکتوب میں لکھا ہے کہ تہران بلدیہ کی جانب سے مسجد کی شہادت کا یہ قابل مذمت واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عالم اسلام پہلے ہی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا ہے۔ ایسے میں کسی خاص مسلک کی عبادت گاہ کو نشانہ بنانا فرقہ واریت کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ اس اقدام سے تہران بلدیہ نے انتہا پسندوں اور ملک دشمن عناصر کو اپنی تخریبی کارروائیوں کا نیا جواز فراہم کیا ہے۔تہران بلدیہ کی شہید کی جانے والی جامع مسجد ماضی میں ایرانی حکام کی دست برد کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ چند ماہ قبل ایرانی پولیس نے مسجد میں مقامی سنی شہریوں کا داخلہ روک دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں نماز جمعہ اور عید کی نمازوں کے علاوہ دیگر نمازوں کے لیے مسجد کھول دی گئی تھی۔تہران حکومت اس وقت سعودی عرب میں شیعہ اقلیت کے ساتھ ناروا سلوک کی آواز بلند کیے ہوئے ہے لیکن خود ایران س ±نی اقلیت کے خلاف امتیازی سلوک جاری رکھے ہوئے ہے اور درجنوں س ±نیوں کو پھانسی کی سزائیں سنا چکا ہے۔تہران حکومت غصے میں ہے کہ سعودی عرب اپنے ملک میں شیعہ اقلیت کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے۔ شیعہ مذہبی رہنما النمر کی پھانسی کے بعد ایران بھر میں احتجاجی مظاہروں کا طوفان امڈ آیا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران خود اپنے ملک میں س ±نی اقلیت کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ایران میں س ±نی قیدیوں کے لیے مہم چلانے والی تنظیم آئی سی ایس پی آئی کے مطابق اس وقت ایران کی صرف رجائی شہر جیل میں 27 سنی قیدی اپنے سزائے موت پر عملدرآمد کے انتظار میں ہیں۔ایران میں شیعہ عقیدے کو سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل ہے اور ہر دس ایرانیوں میں سے نو کا تعلق شیعہ عقیدے سے ہے۔ اس ملک میں سنیوں کی تعداد تقریباً دس فیصد بنتی ہے جبکہ دیگر اقلیتوں میں مسیحی، یہودی اور دیگر گروپ شامل ہیں۔ایرانی کے مشہور صحافی اور مصنف بمن نیرومند کے مطابق ایرانی آئین تو س ±نیوں کو برابر کی آزادی فراہم کرتا ہے اور ایرانی وزارت خارجہ بھی یہی کہتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ”عملی طور پر ایران میں س ±نی اقلیت کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔“اعداد و شمار کے مطابق ایران بھر میں سنی عقیدے والوں کی مساجد کی تعداد تقریبا دس ہزار بنتی ہے جبکہ شیعہ عقیدے والوں کی مساجد تقریبا ستر ہزار ہے۔ اگر تناسب کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سنیوں کی مساجد کی تعداد اچھی خاصی ہے لیکن حقیقت میں ان کو پابندیوں کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا اپنی سن دو ہزار پندرہ کی سالانہ رپورٹ میں تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دارالحکومت تہران میں کسی بھی سنی مسجد کی تعمیر پر عملاً پابندی ہے جو کہ مذہبی آزادیوں کے برخلاف ہے۔ایک فرانسیسی ٹیلی وژن کا حال ہی میں دو ایرانی سنیوں کے انٹرویو جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں خفیہ کمروں میں نماز ادا کرنا پڑتی ہے کیوں کہ وہ شیعہ مسجد میں نماز نہیں ادا کرنا چاہتے اور حکام کو پتہ چلتے ہی اس طرح کی ایک عبادت گاہ کو مسمار کر دیا گیا۔ اس انٹرویو کے مطابق، ”بعض سخت گیر شیعہ یقین رکھتے ہیں کہ شیعہ اکثریتی ملک میں سنیوں کواپنی مسجد بنانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔“اسی طرح دوسرے شعبوں میں بھی سنی اقلیت کو امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سول سروس اور سیاسی سطح پر بھی س ±نیوں کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ سن دو ہزار تین میں اٹھارہ سنی اراکین پارلیمان نے ایران کے روحانی پیشوا کے نام ’کھلا خط‘ لکھا تھا کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ایران کے ایک سرکردہ س ±نی عالم دین مولوی عبدالحمید نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں س ±نی مسلمانوں کو پھانسیوں سے خلیج کے خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو فروغ مل سکتا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے تو غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف سخت مو ¿قف اپنا رکھا ہے۔مولوی عبدالحمید ایران کی س ±نی اقلیت کے روحانی پیشوا سمجھے جاتے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ ”پھانسیوں کے اس عمل میں بالغ نظری اور رواداری کا فقدان نظر آتا ہے۔ یہ پھانسیاں ایسے وقت میں دی گئی ہیں جب پورے خطے ہی کو انتہا پسندی کے خطرے کا سامنا ہے”۔

Attachments area

About Admin

Google Analytics Alternative