Home » کالم » ایس پی طاہر داوڑ کا افغانستان میں قتل ۔۔۔افغان حکام کاافسوسناک رویہ
adaria

ایس پی طاہر داوڑ کا افغانستان میں قتل ۔۔۔افغان حکام کاافسوسناک رویہ

adaria

پاک افغان سرحد پر حالات میں کھچاؤ رہتا ہے اور افغانستان کی جانب سے عموماً سرحدی خلاف ورزی بھی دیکھنے میں آتی رہتی ہے جس پر پاکستان احتجاج بھی کرتا ہے، ایس پی داوڑ کے افغانستان میں قتل کے حوالے سے بہت سارے سوالات نے جنم لے لیا ہے کہ ایک انتہائی اہم آفیسر کو وفاقی دارالحکومت سے اغواء کرکے میانوالی کے راستے بنوں اور پھر افغانستان پہنچایا گیا اور وہاں لے جاکر انہیں شہید کردیاگیا، شہید کرنے کے بعد میت دینے کے حوالے سے بھی افغانستان کا رویہ پاکستان کیلئے قابل تشویش ہے، شہید ایس پی طاہر داوڑ کی لاش وزراء کو دینے کی بجائے قبائلی عمائدین کو دینے پر اصرار کیا گیا جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، بات دراصل یہ ہے کہ آخر کار اسلام آباد سے یہ کارروائی کیونکر ممکن ہوسکی، وزیر مملکت برائے داخلہ نے واضح طورپر کہاکہ اسلام آباد میں سیف سٹی منصوبہ کے تحت 1800 جو کیمرے نصب ہیں ان میں سے 600 تو نان فنگشنل ہیں باقی کسی کیمرے میں ایسی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ کسی کے چہرے کو پہچان سکے یا گاڑی کی نمبر پلیٹ کو پڑھنے کے قابل ویڈیو فراہم کرسکے، یہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کا دارالحکومت ہی اگر غیر محفوظ ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے، اب وقت کا تقاضا ہے کہ نظام کو درست کیا جائے ظاہری سی بات ہے کہ یہ تمام چیزیں حکومت کو ماضی میں ملی ہیں مگر اب اقتدار تحریک انصاف کے پاس ہے انہیں چاہیے کہ ترجیحی بنیادوں پر ان مسائل کو حل کرے، صرف اسلام آباد میں ہی نہیں پورے ملک میں عوام کو عدم تحفظ کا شکار ہونے سے بچانا حکومتی اہم ذمہ داری ہے۔اسلام آباد سے اغواء کے بعد افغانستان میں قتل ہونے والے ایس پی رورل پشاور طاہر خان داوڑ کی میت افغان حکام نے مذاکرات کے بعد پاکستانی وفد کے حوالے کردی جس کے بعد اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور پہنچا دیا گیا۔ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی وصول کرنے کے لیے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی، ڈپٹی کمشنر خیبر پختونخوا محمود اسلم سمیت دیگر حکام طورخم بارڈر پہنچے تاہم افغان حکام نے میت حوالے کرنے سے انکار کیا۔افغان حکام کا اصرار تھا کہ وہ طاہر داوڑ کی میت قبائلی نمائندوں یا محسن داوڑ کے حوالے کریں گے، جس کے بعد حکومت کی اجازت سے محسن داوڑ بھی طورخم بارڈر پہنچے اور مذاکرات میں حصہ لیا۔کامیاب مذاکرات کے بعد افغان حکام کی جانب سے ایس پی طاہر داوڑ کی میت رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور قبائلی عمائدین کے حوالے کی گئی۔وزیراعظم نے ایس پی طاہر خان داوڑ کے بیہمانہ قتل پر اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ وہ اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ایس پی داوڈ قتل کی فوری تحقیقات کے لیے اسلام آباد پولیس سے تعاون کیا جائے۔وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی فوری طور پر معاملے کو دیکھیں اور رپورٹ پیش کریں۔دفتر خارجہ نے ایس پی طاہر خان داوڑ شہید کی میت کی حوالگی میں تاخیر کرنے پر افغان ناظم الامور کو دو مرتبہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ افغانستان میں قتل ہونے والے پولیس افسر ایس پی طاہر خان داوڑ کی میت کی حوالگی میں تاخیر پر افغان ناظم الامور کو دو مرتبہ طلب کر کے تحریری وضاحت مانگی گئی ہے ۔ امید ہے کہ افغان حکام ایس پی طاہر خان داوڑ کے قتل کے محرکات جاننے کیلئے تمام تر تعاون یقینی بنائیں گے۔ ادھرپاک فوج نے کہا ہے کہ پاکستانی پولیس افسر طاہر داوڑ کا اسلام آباد سے اغوا، افغانستان منتقلی، وہاں قتل اور پھر افغان حکام کا رویہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے جو کہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ معاملہ افغانستان میں ایک دہشت گرد تنظیم تک نہیں ہے۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کا افغانستان میں بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت ہے، تحقیقات جاری ہیں لیکن ہم اعادہ کرتے ہیں کہ افغان سیکیورٹی حکام اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کیلئے آہنی باڑلگانے میں تعاون کریں۔ افغان حکام کا تعاون یقینی ہونا چاہیے اس کے بغیر امن و امان کا قیام بہت مشکل ہوگا، افغانستان کی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ اپنی سرزمین کسی صورت بھی پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور ایس پی طاہرداوڑ کی شہادت میں جو بھی عناصر ملوث ہیں ان تک پہنچنے کیلئے ہر ممکن پاکستان سے تعاون کرے گا۔

سینیٹ واقعہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت
سینیٹ میں پیش آنے والے واقعے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ماحول کو مزید خراب کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، ایوان کے تقدس کو بالائے طاق نہیں رکھنا چاہیے، جو شخصیت ایوان چلارہی ہے اس کی پیروی کرنا انتہائی ضروری ہے، اپوزیشن کی جانب سے جو بھی سوالات آتے ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کا جواب صبروتحمل سے دے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری آمنے سامنے آگئے صادق سنجرانی نے غیرپارلیمانی الفاظ پر معافی مانگنے تک وفاقی وزیر ااطلاعات فواد چوہدری پر سینیٹ کے موجودہ سیشن میں داخلے پر پابندی لگا دی ۔ وزیراعظم پاکستان نے وزیردفاع پرویز خٹک کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کودیکھیں ساتھ انہوں نے یہ بھی کہاکہ کسی کووزراء کی تضحیک کا حق نہیں، وزیراعظم کی بات بالکل درست ہے کہ کسی کو بھی کسی کی تذلیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں تاہم یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے کیوں نہیں ایوان مل کر متفقہ طورپرایک ایس او پی بنالیتے ہیں جس کے تحت سوالوں کے جواب دئیے جائیں ذاتی طورپر کیچڑ اچھالنے کی بجائے مسائل حل کرنے کی جانب توجہ دی جائے۔
ایوان بالا انتخابات۔۔۔ تحریک انصاف نے میدان مارلیا
سینیٹ میں خالی ہونے والی نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف نے میدان مار کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ آگے کی جانب بڑھ رہی ہے مگر پی ٹی آئی کے جو 9ووٹ مسترد ہوئے ہیں وہ قابل غور ہیں کیونکہ دو نشستوں پر انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ن لیگ نے اپنی نشستیں اور ووٹ سنبھال کے رکھے ہیں اور وہ تمام کے تمام ان کے ساتھ ہیں یہ جو 9ووٹ مستردہوئے ہیں حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ تحریک انصاف نے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق)کے تعاون سے مسلم لیگ (ن)کے ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کی خالی دونوں نشستیں جیت کر میدان مار لیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو اپنی پارٹی کے 166اراکین کے علاوہ پیپلز پارٹی کے 7 اور ایک آزاد رکن کی حمایت حاصل تھی اس طرح مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کے ووٹرز کی کل تعداد 174 ہے جبکہ حکمران جماعت کے 179 اراکین کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کے 10، 2 آزاداور راہ حق پارٹی کے ایک ووٹ سے پی ٹی آئی کو 192 اراکین کی حمایت حاصل تھی لیکن 192 ووٹوں کے بجائے ولید اقبال کو 184 اور سیمی ایزدی کو 183 ووٹ ملے جبکہ ن لیگ کے امیدواروں سعود مجید کو 176 اور سیمی زیدی کو 175 ووٹ ملے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ن لیگ نے سینیٹ الیکشن میں اپنی پارٹی اراکین کے تمام ووٹ لے کر اپنی گرفت برقرار رکھی ہے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار ولید اقبال اور سیمی زیدی کوبالترتیب8 اور9ووٹ کم ملے ہیں ۔بین السطور دیکھا جائے تو گو کہ تحریک انصاف نے فتح حاصل کی ہے لیکن ن لیگ کی پوزیشن بھی مضبوط ہوتی نظر آرہی ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative