Home » کالم » ایک روحانی محفل میں پروفیسر ڈاکٹر قاضی سلطان سکندر سے ملاقات

ایک روحانی محفل میں پروفیسر ڈاکٹر قاضی سلطان سکندر سے ملاقات

شاعر اور شہنشاہ روز روز پیدا نہیں ہوتے ۔ شاعر بنی نوع انسان کے لئے باعث عزت و افتخار ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نوعِ انسانی کے اولین استاد شاعر ہی تھے ۔ ارسطوکہتا ہے کہ شاعری میں نثر سے زیادہ فلسفہ اور تاریخ سے زیادہ جان ہوتی ہے ۔ برجستہ شعر چلتا ہوا جادو اور بولتی ہوئی تصویر ہے ۔ آسکر وائیلڈ کی بات بھی بڑی بات ہے کہ جذبہ جب الفاظ کا پیکر اختیار کرتا ہے تو شاعری کہلاتا ہے اور جب عمل میں ڈھلتا ہے تو مقصدِ حیات بن جاتا ہے ۔ جو لوگ خواہشات کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں دھرتی اُن سے پناہ مانگتی ہے اور وہ زلزلوں کی صورت میں اظہار بھی کرتی ہے اور بستیوں کی بستیاں وہ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے اور یہ جہاں سے بھی ملے اسے لے لو ۔ اس دنیا میں لا تعداد لوگوں کا جمِ غفیر ہر روز دیکھتا ہوں اُن میں انسان کو تلاش کرتا ہوں تو بہت مشکل سے چند ایک نظر آتے ہیں کیونکہ غالب نے بھی کہا تھا کہ

آدمی کو بھی میسرنہیں انساں ہونا

لاہور میں ایک ایسی مجلس قائم ہے جو ربع صدی سے لوگوں کو انسان بنا رہی ہے ۔ جہاں خیال و فن، فکر و نظر اور قلب و روح کی حقیقتوں سے روشناس کیا جاتا ہے ۔ ایسے خوبصورت خیالات کی مملکت کے فردِ فرید تنہا نہیں ہوتے جن کے امیر ملکوتی تخیل کے حامل ہوں جن کے سالار کارواں سوز دروں کی دولت سے مالا مال ہوں ، جن کے قائدین بلند جذبوں کے امین ہوں اِن اوصاف سے متصف حضرت مولانا عبدالرءوف ملک کی ذاتِ گرامی کا وجود ہمارے درمیان موجود ہے ۔ جن سے مل کر روحانی مسرت کی بے پناہ دولت ہاتھ آتی ہے ۔ آپ کی رہائش گاہ پر ہر سوموار کی شام کو ایک ایسی ہی مجلس برپا ہوتی ہے جہاں ماضی، حال اور مستقبل کی تقسیم سے بے نیاز حاضرین کو دیکھا جاسکتا ہے جہاں آپ کو مشاہدات و حقائق کے موتیوں کی مالا آپ کے گلے میں ڈال دی جاتی ہے ۔ تلاوت قرآن کریم کثرت سے اور ہدیہ نعت، کلام اقبال آپ کی سماعتوں میں رس گھول دیتا ہے ۔ اس دفعہ عنوان تھا کہ انسان کہاں ہے;238; پروفیسر ڈاکٹر قاضی سلطان سکندر کی 25 منٹ کی گفتگو میں قرآن ، حدیث اور اقبال کا کلام موجود تھا ۔ مولائے کریم نے آپ کو تقریر و گفتگو کا وہ ملکہ دیا ہوا ہے کہ میں آپ کی قوتِ اظہار و بیان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا کیونکہ

سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عین حیا ت

ہو نہ روشن تو سخن مرگِ دوام اے ساقی

کسی قوم کی دولت کپڑا، لوہا اور سونا نہیں بلکہ قابل انسان ہیں یہ قول ماءوزے تنگ کا ہے آدمی پیدا ہوتا ہے انسان تہذیبی عمل سے بنتا ہے جہنم سے بچنا چاہتے ہو تو انسانیت کی خدمت کرو ۔ مغز سر میں ہوتا ہے نہ کہ پگڑی میں ، انسانیت انسان میں ہوتی ہے نہ کہ جبہ و دستار میں ۔ پروٖفیسر ڈاکٹر قاضی سلطان سکندر نے سامعین سے پوچھا کہ انسان کہاں ہے ;238; آپ کا خطاب بڑا بصیرت افروز اور فکر انگیز تھا آپ نے چالیس احادیث کی فضیلت بیان کی ۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص میری امت کے دینی امور سے متعلق چالیس احادیث کا اہتمام کرے تو قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اسے فقیہہ اُٹھائے گا اور میں اس کی شفاعت کروں گا ۔ اللہ تعالیٰ پروفیسر سلطان سکندر کو اس کا اجر عظیم کثرت سے دے ۔ بہت عرصے کے بعد ایک ایسے داعی کی ابلاغی قوتوں کا اعتراف کرنا پڑا ہے کہ ہمار ے درمیان ایسے سلیقہ شعار اور قرینے سے گفتگو کرنے والے حلیم اور سلیم انسان دور دور تک دکھائی نہیں دیتے ۔ حضرت مولانا عبدالرءوف ملک صاحب کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ ایسے نابغہ روزگار انسانوں کی صلاحیتوں سے فیض یاب کرتے ہیں ۔ پروفیسر قاضی سلطان سکندر پر میرا ایک مفصل کالم آئے گا کیونکہ اُن کے نام میں ہی کشش موجود ہے ۔ یہ لوگ واقعی قسمت سے ملتے ہیں قیمت سے نہیں جنہوں نے حیرت انگیز انقلاب اپنی ذات پربرپا کیا اور پھر دوسروں میں بھی یہ خوبی پیدا کرنے کی جہد مسلسل ہورہی ہے ۔ یہ مہینہ نومبر کا ہے اس میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال پیدا ہوئے اور بابائے صحافت مولانا ظفر علی خاں کی وفات ہوئی دونوں پنجاب میں پیدا ہوئے اس لئے

حاسدانِ تیرہ باطن کو جلانے کے لئے

تجھ میں اے پنجاب اقبال و ظفر پیدا ہوئے

پروفیسر ڈاکٹر سلطان سکندر نے اقبال کو ہر جلوے میں کلیم، شعلے میں خلیل، غبار میں سوار، مشتِ خاک میں پارہَ الماس، جسدِ خاکی میں انگارہ، خاکستر میں چنگاری اور چنگاری میں فروغ جاوداں ڈھونڈتے پایا گیا اور اقبال بحضور سرور کائنات

گرچہ دانا حال باکس نگفت

از تو درد خویش نتوانم نہفت

عقلمند اگردہ کسی سے دل کا حال نہیں کہتا لیکن یا رسول اللہ ﷺ میں آپ سے حالِ دل چھپا بھی نہیں سکتا ۔

تا غلام در غلام زادہ ام

ز آستان کعبہ دور افتادہ ام

میں آپ کے غلاموں میں ہوں اور آپ کی غلامی میں پروان چڑھا ہوں ۔ آپ کا آستانہ جو رشک کعبہ ہے اس سے دور پڑا ہوا ہوں ۔

چونِ بنام مصطفی خوانم درود

از خجالت آب می گردد وجود

جب میں نام مصطفی پر درود پڑھتا ہوں تو ندامت کی وجہ سے میر ا وجود پانی پانی ہوجاتا ہے ۔

عشق میگوید کہ ای محکوم غیر

سینہ توا از بتان ماننددیر

عشق مجھے پکار کر کہتا ہے کہ اے غیروں کے غلام ۔ تیرا سینہ تو دَیر کی مانند بتوں سے بھرا پڑا ہے ۔

تانداری از محمد رنگ و بو

از درود خود میالانام او

جب تک تیرا ظاہری اور باطنی تعلق محمد ﷺ سے مضبوط نہیں ہوجاتا ۔ اپنے درود سے ان کے نام کو آلودہ مت کر ۔

ہست شاَن رحمت گیتی نواز

آرزو دارم کہ میرم در حجاز

آپ کی شانِ رحمت کا مظہر کائنات کو نوازتا ہے ۔ اس لئے حضور میں خواہش رکھتا ہوں کہ مجھے حجاز میں موت آئے ۔

ای بصیری راردا بخشندہ ئی

بربط سلما مرا بخشندہ ئی

اے بصیری کو چادر بخشنے والے ۔ ذی سلم کا ساز مجھے بھی عطا فرما ۔

ریاض آسی کی دلوں میں زلزلے ڈال دینے والی آواز کی لے نے بھی جادو اثر چھوڑا ہے ۔ ریاض آسی کا ترنم اجسام و ابدان میں ایک لرزش خفی پیدا کر دیتا ہے :

تاثیر برق حسن جواں کے سخن میں تھی

اک لرزش خفی میرے سارے بدن میں تھی

پروفیسر ڈاکٹر سلطان سکندر نے صلوٰۃ کے معنی و مفہوم بھی بیان کئے ۔ صلوٰۃ کے لغوی معنی دو ہیں ۔ کسی کو دعا دینا اور نظام زندگی اور اس پر عمل کرنے کا طریقہ ۔ ہمارے پیامِ رحمت کے امیر خواجہ محمد اسلم صاحب نے صلوٰۃ اور اُس کے تقاضے قرآن حکیم اور اسوہَ حسنہ کی روشنی میں لکھے ہیں ۔ و ہ آئندہ ملاقات پر ہی نہیں انہیں بذریعہ پوسٹ کر دیئے جارہا ہیں ۔ آج کل نامہ پر اعتبار اٹھ گیا ہے اور جدید عہد کے ابلاغی ویپن کا استعمال ہو رہا ہے جس طرح ریاض آسی نے علامہ اقبال کا کلام اپنے لحن داءودی میں سنایا تو وہ دہلی میں ممتاز شاعر و ادیب الیاس انجم بھی سماعت فرما رہے تھے اس لئے اب وہ تجسس وہ حیرت وہ تحیر نہیں رہا اور نامہ پر کی اب وقعت ختم ہوگئی ہے ورنہ لوگ جو انتظار کرتے تھے اور جہاں نامہ برملتا لوگ اپنے پیاروں کے پیغام کا پوچھتے تھے

نامہ بر تو ہی بتا تونے تو دیکھے ہوں گے

وہ کیسے ہوتے ہیں نامے جن کے جواب آتے ہیں

About Admin

Google Analytics Alternative