Home » کالم » بابر ی مسجد کی شہادت مسلمانوں کےلئے اشتعال انگیز اقدام

بابر ی مسجد کی شہادت مسلمانوں کےلئے اشتعال انگیز اقدام

ہندوقوم کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں رہی کیونکہ شیطانیت انکی فطرت میں شامل ہے اور یہی چیز انہیں مسلمانوں کے خلاف تعصب پر اکساتی رہتی ہے ۔ اس لیے انہیں جب بھی موقع ملتاہے اس تعصب اورنفرت کا اظہار کرتے ہیں ۔ اسی نفرت کے پیش نظر 6 دسمبر 1992 کو انتہا پسند ہندووَں نے قوم پرست ہندو تنظیموں کے اکسانے پربابری مسجد کو شہید کرکے عارضی طورپر ایک مندر بنادیا تھا ۔ جس کے بعدسارے ہندوستان میں فسادات پھوٹ پڑے جن میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے ۔ مارے جانے والوں میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی ۔ سپریم کورٹ نے مذہبی اعتبار سے نہایت حساس تنازع کے عدالت سے باہر حل کے لیے 9 مارچ کو ثالثی پینل تشکیل دیا تھا جو 2 مرتبہ معیاد میں توسیع کے باوجود تنازع پر فریقین کے درمیان رضامندی کرانے میں ناکام رہا تھا ۔ پینل کے سربراہ جسٹس خلیف اللہ اور اراکین میں رام شنکر اور ایڈوکیٹ سری رام شامل تھے ۔ لہٰذا بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین کے تنازع پر ثالثی کمیٹی کی ناکامی کے بعد 6 اگست سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مسجد کی شہادت سے قبل اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم نرسمہا راوَ سارے ملک کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے رہے کہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا سپریم کورٹ میں بھی مسجد کی برقراری اور نقصان نہ پہنچانے کا حلف نامہ نرسمہا راوَ نے اپنے دوست کلیان سنگھ سے داخل کروایا اور جس وقت مسجد شہید کی جارہی تھی نرسمہا راوَ سوتے رہے اور کارسیوکوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل تھی ۔ پولیس اورنیم فوجی دستوں کو مداخلت سے روک دیا گیا اور نہ صرف مسجد شہید کردی گئی بلکہ اس کی جگہ عارضی مندر کی تعمیر تک نرسمہا راوَ کی مجرمانہ لاعلمی برقرار رہی ہے ۔ اس لئے بابری مسجد کی شہادت کا کلیدی مجرم نرسمہا راوَ کو کہا جاتا ہے ۔ مسجد کی شہادت یقینی طورپر دنیا بھرکے مسلمانوں کےلئے اشتعال انگیز اقدام تھا اس لیے پوری دنیا میں مسلمان ہندوءوں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حکومت وقت نے مسجد کی شہادت کے وقت فوج اورپولیس کومشتعل ہندوءوں کے کیخلاف مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا ۔ وہی حکومت مسجد کی شہاد ت کے بعد مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتی رہی اور اندرون خانہ ہندو انتہا پسندوں کی سپورٹ کرتی رہی ۔ بعد میں بھارت کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے بابری مسجد پراپنی سیاست چمکائی لیکن کسی میں اس مسجد کو تعمیر کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کا وقت آیا تودوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ مسجد کی شہادت میں اس وقت کی حکومت کا بہت بڑا عمل دخل تھا ۔ رپورٹ میں ایل کے ایڈوانی منوہر جوشی اورکاٹھیا کومسجد کی شہادت کے منصوبے میں براہ راست ملوث پایا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق مرلی منوہر جوشی اور ایڈوانی نے اپنی نگرانی میں تمام انتظامات کو حتمی شکل دی اورمسجد کی شہادت کے وقت یہ دونوں لیڈر مسجد کے سامنے واقع ’’رام کتھا کنج‘‘ کی عمارت میں موجود تھے جوبابری مسجد سے صرف دوسومیٹر دورتھا ۔ اس رپورٹ نے جہاں ہندوءوں کے سکیولر ازم اورلبرل ازم پر سے پردہ اٹھایا وہاں بھارتی لیڈروں کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ۔ بابری مسجد کی شہادت کے الزام میں ایل کے ایڈوانی اعترافی بیان بھی دے چکے ہیں لیکن بھارتی ایوان انصاف کوان کے اندرموجود مجرم دکھائی نہیں دے رہا اس لیے وہ اب تک آزاد پھر رہے ہیں ۔ ہندووَں کا الزام ہے کہ مسلمانوں نے ظہیر الدین بابر کی بادشاہت کے زمانے میں رام کی پیدائش کے مقام پر مندر کو تباہ کرکے مسجد بنادی تھی ۔ اس واقعے کے بعد ہندو ستان میں ایک تنازعہ اٹھا اورواقعے عدالتی تحقیق کا کام الہ آباد ہائی کورٹ کے سپرد کردیا گیا ۔ 30 ستمبر 20210 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا تاریخی فیصلہ سنایا جس کے مطابق بابری مسجد زمین کی ملکیت کے تنازع کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ بابری مسجدکی اراضی وفاق کی ملکیت رہے گی اور اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو لیکر سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں حصول حق کے لئے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا جو اصولی بھی ہے اور جمہوری بھی ۔ لیکن اس قضیے میں امریکہ بدنام زمانہ جاسوس تنظیم سی آئی اے اور ایک امریکی کمپنی کا نام سامنے آنے کے بعد کہ جس کا انکشاف ایودھیا کے مہنت یوگل کشور شاستری نے بابری مسجد شہادت کیس کی سماعت کے دوران اسپیشل جج وریندر کمار کی عدالت میں کیا، کم از کم ایک بات عیاں ہوگئی ہے کہ امریکی سی آئی اے انتہا پسندوں کو اکسانے، نوازنے اور پروان چڑھانے میں پیش پیش رہی ہے اور ویشو ہندو پریشد والوں اور اس وقت کی کانگریس حکومت سے اسے کوئی دلچسپی ہو نہ ہو، مسلمانوں کے ساتھ اسکی دشمنی بابری مسجد کی مسماری کا باعث بنی تھی ۔ بھارتی عدلیہ کے فیصلے کے بعد بھارت میں آباد 26 کروڑ سے زائد مسلمان شدید مایوسی اور اضطراب کا شکارہوئے جبکہ دوسری طرف انتہا پسند ہندو خوشی سے بھنگڑا ڈال رہے تھے کیونکہ عدالت کے اس فیصلے نے مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کردی ہے ۔ مسلمانوں کا عدالت سے رجوع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مسجد کی شہادت جو لوگ ملوث ہیں انہیں سزائیں دی جائیں اور مسجد کی ازسرنو تعمیر کی اجازت دی جائے نہ کہ مسجد کو 3 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے ہندووَں کو دے دیئے جائیں ۔ بھارتی عدلیہ نے قانون کے بجائے مذہبی بنیاد پر فیصلہ کیا جوہندووَں کی قیاس آرائیوں پر مبنی ہے جن کے مطابق یہ جگہ رام کی جائے پیدائش تھی، جس کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے ۔ فیصلے میں قانون اور انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے انتہا پسند ہندووَں کی خوشنودی حاصل کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف مسجد کا ایک حصہ مسلمانوں کو دے کر انہیں بھی خاموش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے ۔ بھارتی عدالت کا فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جو قانون کے بجائے مذہبی بنیاد پر کیا گیا ہے ۔ عدالتوں کے فیصلے اگر سیاسی بنیاد پر ہونے لگیں تو پھر ان کا زوال شروع ہوجاتا ہے ۔ بابری مسجد کا متعصب اور انصاف سے مبرا فیصلہ آنے کے بعد ہمارے ان دوستوں کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہیے جو بھارت اور دیگر غیر مسلم اقوام سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ انہیں اب سمجھ جانا چاہیے کہ کفار کبھی ’’ امن کی آشا ‘‘ والی بھاشا نہیں سمجھتے بلکہ یہ صرف ڈنڈے کے سامنے ’’ رام رام ‘‘ کرنا ہی جانتے ہیں ۔ ہم اپنی طرف سے جتنے مرضی دوستی کی ٹرینیں چلائیں یا بسیں دوڑائیں ،چاہے تو انکے قدموں میں گریں یا پھران سے بغلگیر ہو کر دوستی نبھائیں لیکن یہ ’’ رام رام ‘‘ کے پجاری کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ یہ ہم نے نہیں بلکہ اللہ تعالٰی نے روز اول ہی سے طے کر دیا تھا کہ کافرکبھی مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative