Home » کالم » بجٹ پر عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے،وزیراعظم کی ہدایت
adaria

بجٹ پر عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے،وزیراعظم کی ہدایت

وزیراعظم نے بالکل درست کہا ہے کہ ہر محکمے پر ادارے کے اخراجات میں کٹوتی کی جائے گی اس کی مثال پاک فوج نے تنخواہوں میں اضافہ نہ لینے پر پہلے ہی قائم کردی ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ بعض اداروں کے صرف انٹرٹینمنٹ کے ہی اتنے بجٹ ہوتے ہیں کہ وہ خزانے پر ایک بوجھ کے مترادف ہوتے ہیں ۔ ہم تو یہاں حکومت کو یہ مشورہ دیں گے کہ وہ سب سے پہلے وزیراعظم ہاءوس ، وزیراعظم آفس ، وزرائے اعلیٰ آفسز،گورنرز آفسز اور ان کے دیگر سیکرٹری اور پی ایس کی مد میں کیے جانے والے اخراجات کو بالکل زیرو پر لایا جائے، چائے پانی کا نظام بالکل ختم کردیا جائے، جب انتہائی کوئی ضروری اجلاس ہو جس میں کوئی خاص وی وی آئی پی شامل ہو تو وہاں پر ایئر کنڈیشن چلانے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ نیز گاڑیوں کے اخراجات بھی کم کرنے چاہئیں ، گریڈ 21اور 22 کے ملازمین کو ایک ہزار سی سی تک اور اس سے نیچے کے جو ملازمین ہیں ان کو 800سی سی تک گاڑی دینے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ تمام دفاتر میں جو بائیو میٹرک نظام لگا ہے اس پر عمل یقینی طورپر بنایا جائے جو کٹوتیاں کی جارہی ہیں ان کی مثال اوپر سے قائم کرنی چاہیے ، پھر نیچے تک اس کے ثمرات خود بخود پہنچتے رہتے ہیں ۔ جب عوام کے سامنے وزیراعظم خود ایک بچت کی مثال بن کر پیش ہوگا تو عوام کو بھی بچت کرنے میں کوئی آر محسوس نہیں ہوگی ۔ یہ نہ ہوکہ حکمران خود اللے تللے اڑاتے رہیں جیسا کہ گزشتہ روز نعیم الحق نے کہاکہ بعض وزراء اور حکومتی عہدیدار اب بھی وی آئی پی کلچرکو فروغ دے رہے ہیں یہی حکومت کے خزانے پر اخراجات کی مد میں بوجھ ہوتے ہیں ان کو ختم کرنا ہوگا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے ۔ معاشی ٹیم نے وزیراعظم کو ;200;ئندہ بجٹ سے متعلق تجاویز پر بریفنگ دی اور انہیں بجٹ میں ٹیکس کے نفاذ اور اہداف سے متعلق ;200;گاہ کیا ۔ وزیر اعظم نے اپنی معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے ۔ بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں وکلا تحریک سے متعلق اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلی کو بھی مدعو کیا گیا ہے ۔ اجلاس کے بعد وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان اور شہزاد اکبر نے میڈیا کو بریفنگ دی ۔ میڈیا کو بتایا گیاکہ بجٹ سے متعلق غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں ، بجٹ کے حوالے سے حکومت نے ترجیحات طے کی ہیں ، ;200;ئندہ مالی سال کا بجٹ ملکی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے پیش کیا جارہا ہے،ہماری ترجیح ہے کہ بجٹ کوعوام دوست بنایا جائے ۔ یہ بجٹ طویل مدتی اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے پیش ہو گا ۔ وزیراعظم نے اس بجٹ کا کئی مرتبہ جائزہ لیا ہے ۔ وزیراعظم جلد عوام کو بجٹ سے متعلق اعتماد میں لیں گے ۔ بجٹ میں ہر حکومتی محکمے اور ادارے کے اخراجات میں کٹوتی ہو گی، اس کا ;200;غاز افواج پاکستان نے کیا، ;200;رمی چیف اور افواج پاکستان نے فیصلہ کیا کہ قبائلی علاقوں پر بجٹ خرچ ہو، مسلح افواج کے تمام اعلی افسران نے تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سے انکار کیا، پاکستان کے ساتھ کھڑے عام قبائلی کو ترقی میں حصہ دار بنایا جائے گا ۔ دہشت گردی سے پاک پاکستان، وزیراعظم عمران خان کا عزم ہے، پاکستانی پرچم کو چومنے والوں کو ترقی کا حصہ بنائیں گے ۔ حکومت کسی طرح بھی دفاعی بجٹ سے غافل نہیں ، نادان اپوزیشن قومی سلامتی کو دا وَپر لگانے کا پروپیگنڈا کر رہی ہے ۔ افواج پاکستان نے پہل کرتے ہوئے کفایت شعاری مہم میں حصہ لیا اور دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں مانگا ۔ کفایت شعاری مہم کے تحت تمام سرکاری ادارے غیر ضروری اخراجات کم کریں گے ۔ ہ میں پاکستان کے عوام کا کھویا ہوا مقام واپس لانا اور ملک کو دہشت گردی سے محفوظ بنانا ہے، پاکستان کو پرامن اور معاشی طور پر مستحکم کرنا ہے، قبائلی اضلاع میں امن امان خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہے، قبائلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں ، ۔ شہباز شریف کی واپسی پر معاون خصوصی نے کہا کہ لاپتہ لیڈر کے استقبال کے لئے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے افراد گئے،احتجاج اپوزیشن کا حق ہے لیکن جہاں احتجاج کی ;200;ڑ میں قانون کو ہاتھ میں لیا گیا اور عوام کو ایندھن بنا کر استعمال کیا گیا حکومت اپنی ذمے داری پوری کرے گی ۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ عوام 30 جون سے قبل ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثاثے ظاہر کردیں ، اس کے بعد کارروائی کا ;200;غاز کریں گے ۔ اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم کاروباری برادری کا دیرینہ مطالبہ تھا، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی مدت 30 جون تک ہے ۔ پاکستان کی گرے اکنامی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے حکومت ہرممکن اقدامات اٹھارہی ہے ۔ 26 ممالک سے 1;46;5 لاکھ اکاوَنٹس کی معلومات حاصل کی ہیں ، اور اس کے علاوہ 10 سے 12 ہزار پراپرٹیز کی معلومات حکومت کو موصول ہوئی ہیں ،پاکستانیوں کے بیرون ملک 12 ارب ڈالرز کے اثاثوں کا پتاچلا لیا گیا ہے ۔ دوسری جانب ملک بھر کی بار ایسوسی ایشن میں صدارتی ریفرنس کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے اور اس حوالے سے وکلاء برادری تقسیم ہوگئی ہے جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے ارکان پارلیمنٹ سے ججز کےخلاف ریفرنس بھیجنے پر صدر مملکت عارف علوی کے مواخذے کا مطالبہ کیا ہے ۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اس ضمن میں صدر مملکت کو دو خط لکھ چکے ہیں جس میں انھوں نے ریفرنس کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے ۔

کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی دفتر خارجہ کی تردید

افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا گیا، کابل میں مشتعل ہجوم نے پاکستانی سفارتخانے پر ہلہ بولا، ہلہ بولنے والے افغان شہری پاکستان آنے کے خواہش مند تھے اور انہوں نے فوری ویزہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ افغانستان میں قائم پاکستان کا سفارتخانہ روزانہ کی بنیاد پر 2000 ویزے جاری کرتا ہے وہ اپنا کام تندہی سے کررہا ہے جبکہ دفتر خارجہ پاکستان نے اس حملے کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ ان اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے جس وقت ہلہ بولا گیا اس وقت سفارتخانے کے باہر موجود حفاظت پر مامور سیکورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پالیا ۔ یہ بات افغان حکومت کو بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کی سرزمین پر پاکستان سمیت جو بھی سفارتخانے قائم ہیں ان کو تحفظ فراہم کرنا اس ملک کی ذمہ داری ہے جبکہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے امن کی جانب قدم بڑھایا ہے لیکن افغانستان کی جانب سے کوئی ایسے مثبت اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں ۔ گو کہ یہ حملہ ہوا یا نہیں ہوا اس حوالے سے وقت آنے پر حقیقت واضح ہوجائے گی لیکن وزارت خارجہ تردید کررہی ہے کہ کوئی حملہ نہیں ہوا ۔ آخر کچھ نہ کچھ تو ہوا ہوگا،افغان حکومت کو چاہیے اس حوالے سے تحقیقات کرے جبکہ ویزے دینے کے حوالے سے پاکستانی سفارتخانہ اپنے فراءض بجا طورپر سرانجام دے رہا ہے پھر ایسے کونسے شرپسند عناصر تھے جنہوں نے جان بوجھ کر حالات کو پراگندہ کیا، ان شرپسند عناصر کو گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دینی چاہیے اور پاکستانی سفارتخانے کے حفاظتی اقدامات میں خاطر خواہ اضافہ کرنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative