adaria 2

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی’’ عجب کرپشن کی غضب کہانی ‘‘

پاکستان میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کی کہانیاں زبان زدعام ہیں ، ایک کہانی ختم نہیں ہو پاتی کہ دوسری شروع ہو جاتی ہے، برطانوی اخبار ڈیلی میل نے توعجب کرپشن کی غضب کہانی بیان کی ہے جس میں متاثرین زلزلہ زدگان کی امداد کو بھی نہیں چھوڑا گیا اور اس نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ پیسہ شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کے ذریعے اپنے اکاءونٹ میں ٹرانسفر کرایا لیکن ن لیگ اس حوالے سے تردید کررہی ہے جبکہ خبر دینے والا صحافی اپنی خبر پر قائم ہے کیونکہ ایک اکاءونٹ اچانک جس میں ڈیڑھ لاکھ پاءونڈ ہوں وہ کروڑوں تک پہنچ جائے تو یقینی طورپر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ۔ اب اس منی لانڈرنگ میں تو میاں برادران کا سارا خاندان ہی شامل ہوگیا ہے، داماد ،بیٹا ، شہبازشریف بھی، نواز شریف بھی اور ابھی تو پتہ نہیں کتنے کتنے رازوں سے پردہ واشگاف ہوگا ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کہانی کو اب منطقی انجام تک پہنچائے اور جس جس نے کرپشن کی ہے ان کے چہرے عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ ان سے لوٹا ہوا پیسہ ملکی خزانے میں واپس لایا جاسکے ۔ برطانوی اخبار نے شہباز شریف اور انکے اہل خانہ پر الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے زلزلہ زدگان کو دی گئی 500ملین پاونڈز کی امداد میں سے لاکھوں پاونڈز چرا کر اپنے اکاءونٹس میں ڈلوالی، شہباز شریف اور انکے خاندان نے برطانیہ کی جانب سے ملنے والی امداد میں خردبرد کر کے لاکھوں پاونڈز منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کئے ہیں ، شریف خاندان پہلے ہی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے ۔ اخبار کے مطابق 2003 میں شریف فیملی کی دولت ڈیڑھ لاکھ پاءونڈ (2 کروڑ 97 لاکھ روپے) تھی جو 2018 میں 20 کروڑ (39 ارب 72 کروڑ روپے)تک پہنچ گئی، اخبار کے مطابق زیر حراست برطانوی شہری آفتاب محمود نے شہباز خاندان کیلئے منی لانڈرنگ کی، داماد نے امداد کے فنڈ میں سے 10 لاکھ پاءونڈ (19 کروڑ 86 لاکھ روپے) وصول کیے، رقم برمنگھم بھیجی گئی بعد میں شہباز کے خاندانی اکاءونٹس میں منتقل کر دی گئی، 2005 سے 2012 کے درمیان ایرا کو 54 کروڑ پاءونڈ (10 ارب 71 کروڑ روے) امداد دی، بڑا حصہ علی عمران اور شہباز کو منتقل ہوا، واضح رہے کہ اسی برطانوی اخبار نے گزشتہ سال نواز اور انکے بیٹوں کو پینٹ ہاءوس قذاق قرار دیتے ہوئے 32 ملین پاءونڈ (6 ارب 35 کروڑ روپے) کی جائیداد کی تفصیلات دی تھیں ۔ دوسری جانب سلیمان شہباز کا کہنا ہے کہ برطانوی اخبار کی رپورٹ میرے خاندان کیخلاف سازش ہے ۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شاءع ہونے والی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی(ڈی ایف آئی ڈی) نے برطانیہ کے ٹیکس دہندگان کے پیسے سے شہباز شریف کی صوبائی حکومت کو 50کروڑ پاونڈز بطور امداد اس وقت دیے جب وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے ۔ تحقیق کاروں کے مطابق ڈی ایف آئی ڈی نے یہ رقم سیلاب متاثرین کی بحالی اور دیگر امدادی سرگرمیوں کیلئے دی گئی تھی تاہم شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ نے امدادی رقم میں سے لاکھوں پاونڈز کی خرد برد کی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے لاکھوں پاونڈز برطانیہ منتقل کئے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ منتقل کی گئی رقم امدادی رقم سے چرائی گئی ۔ روزنامے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حوالے سے منی لانڈرنگ میں ملوث کئی افراد کے انٹرویوز کئے گئے ہیں جو ایک برطانوی شہری آفتاب محمود سمیت جیل میں بند ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے اعلی سطح کی تحقیقات کے دوران کرپشن ، خرد برد اور منی لانڈرنگ کا انکشاف ہوا ہے ۔ دوسری جانب ریکوڈک کیس میں بھاری جرمانے اور مالی نقصان کی تحقیقات کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے کمیشن بنانے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ پاکستان نے عالمی عدالت میں نظر ثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کمیشن تحقیقات کرے گا یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی اور پاکستان کو جرمانہ کیوں ہوا، کمیشن ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا تعین بھی کرے گا ۔ واضح رہے انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ ;200;ف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے ریکوڈک کا معاہدہ منسوخ کرنے کی پاداش میں پاکستان پر 4 ارب 10 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے جس پر ایک ارب 87 کروڑ ڈالر سود بھی ادا کرنا ہوگا ۔ عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل نے سات سال بعد ریکوڈک کیس کا فیصلہ سنا دیا ۔ ریکوڈک میں سونے اور تانبے کی تلاش کے لیے ٹیتھیان کمپنی کا لائسنس منسوخ کرنے پر پاکستان کو 59 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرناہو گا ۔ پاکستان ٹیتھیان کمپنی کو 58 لاکھ 40ہزار ڈالر ادا کرنے کا پابند ہے جس میں 17 لاکھ ڈالر سود بھی شامل ہے، 6 کروڑ 20لاکھ ڈالر سے زائد قانونی مدد میں بھی دینا پڑیں گے ۔ یاد رہے کہ 2011 میں چیف جسٹس پاکستان افتخار چوہدری نے ٹیتھیان کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا تھا ۔ وزارات قانون کے ذراءع کے مطابق فیصلے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اسی ٹربیونل میں نظر ثانی درخواست دائر کی جائے گی جس پر فیصلہ ;200;نے میں دو سے تین سال لگ سکتے ہیں ۔

کرتارپور راہداری مذاکرات;224224; مثبت پیشرفت

کرتارپور راہداری پر مذاکرات میں پیشرفت کے بعد امید کی جارہی ہے کہ دونوں ممالک میں تعلقات مزید بہتر ہوں گے اور قربتیں بھی بڑھیں گی جس سے خطے میں امن و امان قائم ہوسکے گا ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات میں اہم امور زیرغور ;200;ئے، بھارت سے ;200;نے والے سکھوں کیلئے کرنسی کی مقدار، رجسٹریشن اور ویزوں کی معیاد پر بات چیت ہوئی، منصوبے کے افتتاح کی تقریب کیلئے تاریخ کے تعین کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ کرتاپور راہداری منصوبے پر پاکستان اور بھارت میں مذاکرات کا دوسرا را ونڈ واہگہ بارڈ پر ہوا، بارہ رکنی پاکستانی وفد کی قیادت ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کی ۔ بھارت کی جانب سے جوائنٹ سیکرٹری داخلہ ایس سی ایل داس ;200;ٹھ رکنی وفد کے ہمراہ شریک ہوئے ۔ منصوبے کی تعمیر کیلئے پاکستان کی جانب سے سڑک کی تعمیر اوردریا ئے راوی پر پل کا کام بھی کافی حد تک مکمل ہو گیا ہے ۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت اور وعدے کے مطابق پاکستان بابا گورونانک دیوجی کے 550 ویں جنم دن تک کرتار پور صاحب راہداری کو عملی شکل دینے کیلئے پرعزم ہے ۔ پاکستان کی حدود میں کام تیزی سے جاری ہے اور گوردوارہ کمپلیکس، ٹرمینل کی عمارت اور سڑک کا ستر فیصد سے زائد کام مکمل کرلیاگیا ہے ۔ کرتارپورراہداری مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے ، دونوں ممالک کے درمیان راہداری پر 80فیصدمعاملات طے پاچکے ہیں ، کرتارپورراہداری کھولنے کامقصدامن کاحصول ہے ۔ راہداری کے کھلنے کے بعد دونوں ممالک کے مابین جہاں قربتیں بڑھیں گی وہاں پر آپس میں تجارت بڑھنے کے ساتھ ساتھ کدورتیں ، خلش اور ایک دوسرے کیخلاف جو خیالات ہیں وہ بھی معدوم ہوں گے جب خطے کے حالات بہتر ہوں گے تو یقینی طورپر ترقی بھی ہوگی ۔ آخر کار پاکستان اور بھارت کب تک ایک دوسرے کے ساتھ کشیدہ ماحول میں زندگی بسر کرسکیں گے ۔ دنیا بھر کے ممالک ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں لیکن بھارت اس راستے پر آنے کیلئے تیار نہیں ، پاکستان نے ہمیشہ امن کی جانب قدم بڑھایا لیکن بھارت کو جب بھی موقع ملتا ہے تو وہ ڈسنے سے باز نہیں آتا ۔ دونوں ممالک کے مابین جو بھی مسائل ہیں ان میں مسئلہ کشمیر یا دیگر معاملات ہوں سب کے سب مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیے جاسکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں