Home » کالم » برطانیہ میں پی ٹی آئی کی اندرونی کہانی

برطانیہ میں پی ٹی آئی کی اندرونی کہانی

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو مختلف پارٹیوں کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں الیکشن سے پہلے شامل ہونے والے منتخب افراد اور حکومتی اتحادیوں سے جہاں خطرات لاحق ہیں وہاں اپنی پارٹی میں دھینگا مشتی کرنے والے گروپوں کے اختلافات بھی عمران خان کی حکومت کیلئے زہر قاتل ہیں خاص طور پر چونکہ ہمارے خطہ سرزمین میں سیاست کا مرکز اور محور اقتدار اور پیسے کی ہوس ہے قوم اور ملک کی خدمت قطعی نہیں ہے اسی لئے وزراء کی جانب سے بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں حکومت کو ابھی چار ماہ ہی نہیں گزرے ہیں کہ حکومت کے خلاف چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں عام طور وہ لوگ جنھوں نے رات دن عمران خان کیلئے دعائیں مانگی تھیں کہ وہ اقتدار میں آئے وہ لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر عمران خان ناکام ہو گیا تو کیا پھر وہی خاندان دوبارہ اقتدار پر قابض نہیں ہو جائیں گے جنھوں نے اس ملک کا معاشی استحصال کیا چونکہ مسلم لیگ ن شریف خاندان کا نام ہے اور پیپلزپارٹی بھٹو خاندان سے چلتی ہے آصف علی زرداری نہیں ہونگے تو نظریہ ضرورت کے تحت جب ممکن ہوا بھٹو ہر دور میں کسی وقت بھی زندہ ہوسکتا ہے لیکن عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کا دار و مدار تو اس کے خاندان پر بالکل نہیں ہے یہ واحد پارٹی ہے جس کو اس کے کارکنوں نے چلانا ہے عمران خان کے بیٹے تو پاکستانی سیاست میں آنے سے رہے باقی بہن بھائی تو تحریک انصاف میں نہیں ہیں تو کارکنوں کی حالت یہ ہے کہ جس طرح ملک کے اندر تحریک انصاف کی تنظیم کی لڑائیاں اور جھگڑے منظر عام پر آرہے ہیں ویسے ہی ملک کے باہر بھی کارکنوں کی باہم تقسیم اور جھگڑے اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور تو اور مجھے تو قومی اسمبلی کے سپیکر بھی پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور اپنے ساتھیوں سے ناراض نظر آئے۔ نوٹنگھم میں ایک تقریب کے دوران یکم جنوری کو اسد قیصر نے اپنے خطاب میں جہاں ملکی امور پر سیر حاصل گفتگو کی ہے وہاں انہوں نے یاد دہانی کروائی ہے کہ وہ 24 سال سے تحریک انصاف اور عمران خان کے ساتھ ہیں ان کا عمران خان کے ساتھ محبت اور احترام کا رشتہ ہے وہ نو سال مسلسل صوبائی صدر رہے اسی بنیاد پر وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو مشورے دیں کہ ہم حکومت میں ہیں ہم نے ڈیلیور کرنا ہے ہمیں اصلاحات لانی ہیں۔ اسد قیصر کے خطاب سے مجھے یہ تاثر ملا کہ وہ عمران خان پر تو پورا اعتماد کر رہے ہیں لیکن حکومتی اقدامات پر ناراض ہیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ انہوں نے قومی اسمبلی کو قانون اور رول آف لاء کے مطابق چلانا ہے لوگوں سے انتقام نہیں ،انہیں انصاف دینا ہے ۔ قومی اسمبلی کے سپیکر بیمار ہیں اور وہ اپنا چیک اپ مانچسٹر سے کروا رہے ہیں اسی وجہ سے وہ اپنے دورے کو نجی دورہ قرار دے رہے ہیں۔ مانچسٹر ائیرپورٹ پہنچنے کے بعد انہوں نے خود میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ہائی بلڈ پریشر ہے اور یورک ایسڈ بھی ہے جس کے بعد پی ٹی آئی یوکے کے صدر ریاض الحسن نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اسد قیصر کی بیماری کی تصدیق کی ہے لیکن یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ انہیں اس کے علاوہ بھی کوئی بیماری لاحق ہے چونکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کی بیماری اور برطانیہ سے علاج کا معاملہ زور پکڑ سکتا ہے۔ تحریک انصاف خود بیرون ملک علاج کے حوالے سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے حوالے سے اعتراض کرتی چلی آرہی رہی ہے۔ دوسری طرف اسد قیصر جس دن مانچسٹر ائیر پورٹ پہنچے تو انہیں نہایت مشکل سے دوچار ہونا پڑا ایک گروپ جس کا تعلق پی ٹی آئی آزادکشمیر یوکے سے بتایا جاتا ہے اس نے عمران لورز کے اشتراک سے ان کیلئے ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا جب وہ گروپ اسد قیصر کو ائیر پورٹ لینے آیا تو پی ٹی آئی منتخب تنظیم کے عہدیداروں نے سپیکر کو اس تقریب میں جانے سے روک دیا اور اسی کھینچاتانی میں ائیرپورٹ پر دونوں گروہوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی اور سپیکر قومی اسمبلی کو دھکے بھی لگے اور سوشل میڈیا پر گھتم گھتا کارکنوں کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی اور یہ سارا معاملہ ائیرپورٹ پر پیش آیا جو افسوس ناک ہے دراصل اس کہانی کے مرکزی کرداروں کے درمیان پہلے سے ہی اختلافات چلے آرہے ہیں جو ذاتی تشہیر کیلئے سرگرم رہتے ہیں اور جماعت کیلئے کام کرنے کی بجائے کسی ایسے راستے کے متلاشی رہتے ہیں جو انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دے میرے کہنے کا مطلب جو عاجزی و انکساری کا لبادہ اوڑھ کر میڈیا کو رام کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور جب کبھی بدمعاشی دکھانی ہو تو اس سے بھی گریزاں نہیں کرتے اسکی تازہ ترین مثال مانچسٹر ائیرپورٹ پر آنے والا واقعہ ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ ان حالات میں جب وزیراعظم اور حکومت مشکل میں ہے اور عمران خان اوورسیزز پاکستانیوں کو اہمیت دے رہے ہیں چونکہ عمران خان اور تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے میں اوورسیز پاکستانیوں کو بڑا رول ہے ایسی ہی لڑائیاں مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں بھی ہوتی تھی تحریک انصاف جو پڑھے لکھے لوگوں کی جماعت ہونے کی دعویدار ہے اس میں اور پھر مسلم لیگ ن میں کیا فرق ہوا ۔ مانچسٹر میں اس واقعہ کے بعد سابق انفارمیشن سیکرٹری شہناز صدیقی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی قیادت پر شدید الزامات لگائے ہیں جس کے تحریک انصاف یوکے کے صدر نے ان الزامات کی تردید کی اور جواب میں شہناز صدیقی چودھری محمد عمران اور دیگر کی بنیادی رکنیت ہی معطل کردی برطانیہ میں تحریک انصاف کے کل 12 ریجن ہیں اور یہاں تقریبا چار ہزار کے لگ بھگ ممبر ہیں جو پہلے 36 پاؤنڈز سالانہ دے کر ممبر بنتے تھے اب یہ فیس سالانہ 20 پاؤنڈز ہے پارٹی باقاعدہ اپنے انٹراپارٹی الیکشن کرواتی ہے پہلے اس کے صدر عاصم خان پھر دو دفعہ ریاض الحسن منتخب ہوئے اس پارٹی میں اکثریت کشمیری نژاد کارکنوں کی ہے پہلے پاکستانی اور کشمیری کا کوئی فرق نہیں تھا آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے نہایت متحرک انفارمیشن سیکرٹری کامران بٹ اور جنرل سیکرٹری زاہد پرویز کا حوالہ دینا برملا ہوگا لیکن 2015،16 میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے پی ٹی آئی میں شرکت کے بعد پی ٹی آئی یوکے آزاد کشمیر اور پاکستان علیحدہ ہوگئی جس سے منتخب اور غیر منتخب کی اصطلاح ایجاد ہوگئی بیرسٹر سلطان محمود نے تو آزادکشمیر پی ٹی آئی کی ممبرشپ بھی 20 پاؤنڈز کردی تھی اور اپنی جماعت کے علیحدہ عہدیدار بنا دئیے ہیں ۔میں نے ذاتی طور پر مسلم لیگ ن یوکے آزاد کشمیر چیپٹر اور مسلم لیگ ن یوکے پاکستان چیپٹر کی جس طرح مخالفت کی تھی ویسے ہی پی ٹی آئی آزادکشمیر چیپٹر کی مخالفت کی ہے چونکہ یہاں برطانیہ میں ہمیں اپنے معاملات اتحاد اور اتفاق سے کرنے کی ضرورت ہے مانچسٹر کا واقعہ تو تازہ ہے ایسے کئی واقعات ہوچکے ہیں جس میں نہ صرف کارکن آپس میں لڑے ہیں پیپلزپارٹی میں بھی اسی طرح کی گروپنگ ہے یہ رویہ شرمناک ہے یہاں انڈین رہتے ہیں ان کی جماعتوں کے یہاں کوئی ایسے ونگ نہیں بنے ہوئے ہیں کبھی کسی نے کیا ائیرپورٹ پر ان کے لیڈروں کو آتے ہوئے دیکھا ہے جس طرح کا جاہلانہ رویہ ہم ائیرپورٹ پر روا رکھتے ہیں تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو اپنی اپنی جماعتوں کے کارکنوں پر فوری پابندی عائد کر دینی چاہئے کہ وہ ائیرپورٹ پر نہ آئیں ہماری بے ہودہ حرکتوں اور بدنظمی سے پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔ مانچسٹر کے واقعہ کی تحریک انصاف کی پارٹی قیادت کو تحقیقات کرنی چاہیئے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ یاد رہے کہ میں تو لیڈروں کے آگے ائیرپورٹ پر جاکر ٹی وی کے لوگو اور میڈیا سے گفتگو کے بھی خلاف ہوں میرا لوگو اوپر کردو نیچے کردو آگے سے ہٹو ایسی دھکم پیل اور طوفان بدتمیزی ہوتا ہے کہ انگریز ہمیں واقعی تھرڈ ورلڈ اور پتھر کے زمانے کے لوگ سمجھتے ہیں ۔ برطانیہ جیسے ایک ترقی یافتہ جمہوری ملک میں نصف صدی سے بھی زائد عرصہ مستقل سکونت اختیار کرتے ہوئے بھی ہماری سوچ ان پڑھ جاہلوں کی سی رہے تو ایسے میں اپنے ملک پاکستان میں ترقی کے خواب دیکھنا کسی افسانے سے کم نہیں ۔کاش کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات

About Admin

Google Analytics Alternative