Home » کالم » اداریہ » بزنس کمیونٹی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی حکومتی یقین دہانی
adaria

بزنس کمیونٹی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی حکومتی یقین دہانی

adaria

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں بزنس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں آج پاکستان سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کی صورت میں جو رونقیں نظر آرہی ہے یہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کی مثبت پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ سینٹ انتخابات میں کچھ سیاسی جماعتوں کی وجہ سے پارلیمنٹ کا وقار مجروح ہوا ہے۔کچھ سیاسی جماعتوں کا یہ طرز عمل ملک میں جمہوریت کے لئے درست ثابت نہیں ہوگا۔ 2013 سے پہلے لوگ کراچی سے باہر منتقل ہونے کا سوچ رہے تھے لیکن آج یہاں رونقیں بحال ہوء ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں پالیسیوں کا تسلسل جاری رہنا چاہئے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے۔ ہمارے وسائل محدود ہیں۔بعض اوقات مشکل فیصلے بھی کرنے ہوتے ہیں لیکن ہماری کوشش رہی ہے کہ ایسے فیصلے کئے جائیں جس سے معاشی نمو کو یقینی بنایا جاسکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جب جی ڈی پی کی ترقی نہیں ہوتی اور افراط زربڑھ جاتا ہے تو ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ بزنس کمیونٹی کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہوتا ہے اور اس حوالے سے ان کی رہنمائی بھی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ حکومت نے توانائی کے بحران پر قابوں پایا ہے ، ملک کے انفراسٹرکچر کو بہتر کیا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری بھی درست سمت میں گامزن ہے اور اس کے بھی ملک پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ہماری یہ بھی کوشش ہے کہ 6 فیصد ترقی کے ہدف کو حاصل کیا جائے۔ دھرنے اور پاناما کی وجہ سے ملک کی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے بزنس کمیونٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپ لوگ اپنے اپ کو سیاست کے اثرات سے دور نہیں کرسکتے۔ معیشت مضبوط ہوگی تو ملک بھی مضبوط ہوگا اور سیاست بھی مضبوط ہوگی۔ ملکی ایکسپورٹ بڑھانے اور صنعتوں کو فروغ دینے میں بزنس کمیونٹی کا اہم کردار ہے۔ بزنس کمیونٹی اس حوالے سے مزید متحرک کردار ادا کریں۔اس موقع پر بزنس کمیونٹی نے اپنے مسائل سے آگاہ کیا اور وزیراعظم نے بزنس کمیونٹی کویقین دہانی کراء کہ ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت ترجیحی بنیادوں پراقدامات لے رہی ہے ۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا ، حکومت کا یہ فرض قرارپاتا ہے کہ وہ ملک میں امن قائم کرے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائے، عوام کا معیار زندگی بلند کرنا اور ان کو مصائب اور مسائل کے گرداب سے نکالنا بھی حکومت کی ذمہ داری قرارپاتی ہے۔ کراچی امن بحالی میں صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ تمام ایجنسیز اور پاک فوج کا کردار لائق تحسین ہے، شہر قائد کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے حکومت کے اقدامات لائق تحسین ہیں ، اس وقت ملک کو کئی مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو، حکومت کو چاہیے کہ وہ برداشت کے جمہوری کلچر کو اپناتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو اپنے ساتھ لیکر چلے اور ان کے تحفظات دور کرے تاکہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی کیفیت ختم ہو اور استحکام پیدا ہو جس ملک میں سیاسی استحکام نہ ہو وہ ترقی اور خوشحالی کے راستے پرگامزن نہیں ہوسکتا، شاہد خاقان عباسی کی بزنس کمیونٹی سے گفتگو دوررس نتائج کی حامل قرار دی جاسکتی ہے لیکن ابھی حکومت کو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔اندرونی و بیرونی سازشوں پر بھی کڑی نظر رکھنی ہے اور فیصلے تدبر، بصیرت کے ساتھ کرنے ہیں، حکومت کو جو مشکلا ت درپیش آرہی ہیں ان سے خوش اسلوبی سے نمٹنا ضروری ہے، سیاست میں رواداری کا ہونا ضروری ہوا کرتا ہے۔

پی ایس ایل فائنل، اسلام آباد یونائیٹڈ فاتح
کراچی اسٹیڈیم میں منعقدہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کا پرامن انعقاد اس امر کا عکاس ہے کہ شہر قائد میں امن کی فضاء قائم ہے اور اس روشنیاں دوبارہ لوٹنا شروع ہوچکی ہیں،پاکستان سپر لیگ تھری کے فائنل میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے دلچسپ مقابلے کے بعد پشاور زلمی کو 3وکٹوں سے شکست دے کر فتح حاصل کرلی ۔پشاور زلمی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کیلئے 149 رنز کا ہدف دیا تھا جواب میں اسلام آباد نے 16.5اورز میں 7وکٹوں کے نقصان پر مقررہ ہدف پورا کرلیا۔ پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور سیکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخی دن ہے، کراچی میں 9 سال بعد کرکٹ واپس آرہی ہے جس کیلئے کراچی والو کو مبارک ہو جب کہ پی ایس ایل کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پاکستانیوں کا ٹورنامنٹ ہے۔لاہور کے بعد شہر قائد کو بھی دلہن کی طرح سجادیا گیا ، اسٹیڈیم میں 9 سال بعد کرکٹ کے عالمی ستارے جگمگائے ۔ فائنل میں آمنے سامنے آنے والی اسلام آباد یونائیٹڈ اورپشاورزلمی نے نیشنل اسٹیڈیم میں پنجہ آزمائی کے لئے بھر پور پریکٹس کی۔ نیشنل اسٹیڈیم میں 34 ہزار 850 شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ ملک اور بیرون ملک سے شائقین کرکٹ کراچی آئے، ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسز کے کرایوں میں 20 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا جب کہ فائنلسٹ ٹیموں کی شرٹس ہاتھوں ہاتھ بکیں۔پی ایس ایل کے بڑے ٹاکرے کیلئے سیکیورٹی کی بھی بڑی تیاریاں کی گئی، ساڑھے 8 ہزار پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ رینجرز اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ڈیوٹی پر تھے اور پاک فوج کے جوان کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر اسٹینڈ بائی ر ہے ۔صدر ،وزیراعظم ،آرمی چیف ،وزیراعلیٰ پنجاب ودیگر نے بھی اسلام آباد یونائیٹڈ کو پی ایس ایل تھری کا ٹائٹل جیتنے پر مبارکباد دی ۔ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کھیلوں کے فروغ کیلئے نیک شگون قرار پائے گی، دشمن کا تمام پروپیگنڈا بے معنی اور ناکام قرار پایا، پی ایس ایل کا کامیاب انعقاد اس امر کا عکاس ہے کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے اور اس میں کھیلوں کے فروغ کیلئے حالات سازگار ہیں۔
سائلین کیلئے شکایات سیل قائم
چیف جسٹس آف پاکستان میا ں ثاقب نثار نے انسانی حقوق ا وراقلیتوں کی شکایات کیلئے لاہور رجسٹری میں سیل بنانے کا حکم د یتے ہوئے کہا ہے کہ صغری بی بی کی شکایت سننے کیلئے گاڑی سے اترالیکن سکیورٹی نے منع کیا ،سکیورٹی کے منع کرنے پر اس طرح رکنا ٹھیک نہیں لگا۔ انسانی حقوق کے سیل کا قیام ایک مستحسن اقدام ہے اس سے انسانی حقوق کی پامالی کی روک تھام ممکن ہو پائے گی اور لوگ سڑکوں پر بیٹھنے کی بجائے سیل میں شکایت بھیجیں گے۔ عدلیہ عوامی حقوق کیلئے جو اقدامات اٹھا رہی ہے ان کے مثبت اور دوررس نتائج برآمد ہورہے ہیں، عوام کی نگاہیں عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں لوگ اس وقت طرح طرح کے مسائل کا جہاں شکار ہیں وہاں ناانصافی، ظلم و ستم اور چیرہ دستیوں کا بھی شکار ہیں، جب ان کو انصاف نہیں ملتا تو وہ اپنی امیدیں عدالت عظمیٰ سے لگا بیٹھتے ہیں، چیف جسٹس نے خاتون کی جس طرح داد رسی کی یہ اپنی مثال آپ ہے اس طرح کی شکایت کیلئے انسانی حقوق سیل قائم کرنے کا اقدام وقت کی ضرورت تھی اس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔اس وقت بھی عدالتوں میں ہزاروں کیس زیرالتواء ہیں جن کو نمٹانے کیلئے شکایت سیل کاقیام ممدومعاون ثابت ہوگا اورسائلین کواپنی شکایات کیلئے آسانی رہے گی۔انصاف اورداد رسی میں بھی ان کو کوئی مشکل پیش نہیں آئیگی۔

About Admin

Google Analytics Alternative