Home » کالم » بلوچستان بے پناہ وسائل سے مالامال

بلوچستان بے پناہ وسائل سے مالامال

بلوچستان پاکستان کاسب سے بڑا اور اہم صوبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان بے پناہ وسائل اور بلوچ نوجوانوں کو صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ افواج پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ ملکر ہمیشہ کوشش ہے کہ معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ بلوچستان کی ترقی اصل میں پاکستان کی ترقی ہے اور پاک فوج اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔بلوچستان میں پاک فوج کے مثبت اقدامات سے نہ صرف بلوچ عوام فائدہ اٹھا رہے ہیں بلکہ باغی بلوچی بھی یہ سوچنے پر مجبو ر ہوگئے ہیں کہ ہمارا مستقبل پاکستان ہی سے وابستہ ہے۔ پاک فوج میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی شمولیت بلوچستان کی غیور عوام کی دفاع پاکستان سے گہری وابستگی کا مظہر ہے۔ افواج پاکستان نے قوانین میں نرمی کرکے بلوچستان کے نوجوانوں کو پاک میں بھرتی کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے۔ یہ امر ہمارے لئے حوصلہ افزا ہے کہ 2010 سے لے کر اب تک 20 ہزار کے قریب بلوچ نوجوانوں نے پاک فوج میں شمولیت جب کہ 2 ہزار نوجوانوں نے پاک فوج کی سرپرستی میں آئی ایس ایس بی کی تربیت بھی حاصل کی۔ پاک فوج کی جانب سے بلوچستان میں تعلیمی ترقی اور پسماند گی کو دور کرنے کیلئے مختلف منصوبوں پر بڑی تیزی سے کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں ملٹری کالج سوئی، بلوچستان پبلک سکول سوئی کوئٹہ، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، گوادر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، چاما لنگ بینیفشر ایجوکیشن پروگرام، بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، آرمی انسٹیٹوٹ ان مینرولوجی، اسسٹنس ٹو منسٹری آف ایجوکیشن، بلوچ یوتھ انوائرمنٹ ان آرمی، ڈیرہ بگٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کوہلو اینڈ ناصر آباد ڈویژن اور پاکستان آرمی اسٹنس ان ڈویلپمنٹ آف روڈ نیٹ ورک جس میں اسٹنس ٹو منسٹری آف ایجوکیشن بلوچستان، گیس اور پانی کی مفت فراہمی ، سوئی میں پچاس بیڈوں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر، چامالانگ کول مائین، کھجور کی کاشتکاری، آرمی کی جانب سے امداد اور بحالی کی کوششوں اور اسی طرح کے دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے جاری و ساری ہے۔ گوادر ڈیپ سی پورٹ اور چین کے تعاون سے اقتصادی راہداری کے عظیم منصوبے بھارت کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔ مقام تشکر ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتیں اور قوتیں جو ہمیشہ ملک و قوم کے مفاد کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور افادہ رساں منصوبوں پر حکومتوں کیساتھ اختلاف رکھنے کے باوجود پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ کی تکمیل کیلئے سنجیدگی سے حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی ہر صورت اور ہر قیمت پر حفاظت کرینگے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی حفاظت کیلئے 2 ڈویژن فوج کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔ ایک ڈویژن فوج خنجراب سے راولپنڈی تک سکیورٹی فرائض سرانجام دیگی جبکہ دوسری پنڈی سے گوادر تک حفاظتی ذمہ دار یا ں ادا کریگی۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے ساتھ ساتھ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور اب سی پیک کی سکیورٹی بھی فوج کریگی۔سی پیک یا پاک چین اقتصادی راہداری کی افادیت سب پر عیاں ہے اور اسکی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ پروجیکٹ پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔بالخصوص پہلے تجارتی قافلے کی گوادر سے مشرق وسطیٰ، افریقہ روانگی نے ان کی نیند اڑا دی ہے کہ وہ رکاوٹیں ڈالنے کی سوچ رہے تھے یہاں تجارت بھی شروع ہوگئی۔ اب یہ فضا بنائی جارہی ہے کہ یہ منصوبہ پورے پاکستان کیلئے نہیں ہے حالانکہ بلوچستان میں ژوب کا روٹ ہو یا خیبر پی کے، سندھ ا ور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر سب اس سے مستفید ہوں گے۔ خصوصی اکنامک زون معاشی ترقی اور خوشحالی لائیں گے اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا توانائی کے بحران سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔پاکستان کے مخالف نہیں چاہتے کہ سی پیک مکمل اور فعال ہو کہ پاکستان کی خوشحالی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی لیکن وہ آگاہ نہیں کہ پاکستان کی مسلح ا فواج عوام اور حکومت اس معاملے پرایک پیج پر ہیں کیونکہ سی پیک خطے کی خوشحالی اوراس وژن کا عکاس ہے جو ترقی وخوشحالی کی نئی راہیں کھولے گا اور گوادر کی بندر گاہ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کامرکز بن جائے گی اور اس کے ثمرات پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کا مقدر بنیں گے۔ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نامی ایک تنظیم بلوچستان میں نفرت کے بیج بو رہی ہے۔ پاک فوج اور بلوچ عوام کے درمیان جھوٹ بول کر غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ سیاسی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے۔ اے ایچ آر سی باغی بلوچوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس تنظیم کے پاکستان دشمن ممالک سے بھی رابطے ہیں ۔ وہ بلوچستان میں ترقیاتی کاموں اور سی پیک کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اے ایچ آر سی کے مطابق پاکستان آرمی 52 ٹارچر چلا رہی ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں فوجی آپریشن کے نام پر شہری آبادیوں پر بمباری ،گھروں اور مال مویشیوں کو تباہ و مسمار کرنے میں تیزی آئی۔ بلوچوں کی سیاسی اور معاشی جبر کو حل کرنے کی بجائے ان کے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو جبری طور پر غائب کرکے اور قتل کرکے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ نواب اکبر بگٹی کی فوج کے ہاتھوں قتل نے بلوچ قوم کی کی وفاق سے نفرت کو بڑھا دیا ہے۔ ملٹری گورنمنٹ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی ہزاروں کی تعداد میں گرفتار جن میں طالب علم، سیاسی ورکرز، ڈاکٹرز، جرنلسٹ اور یہا ں تک دکاندار بھی شامل ہیں انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے گرفتار کرنا، تشدد کرنا، جبری طور پر لاپتہ کرنا اور ماورائے عدالت قتل کرنے کے حربے استعمال کررہی ہے۔سابق سربراہ پاک فوج نے بھارت کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مودی ہو یا ’’را‘‘ یا کوئی اوردشمن‘ ہم ان سب کی سازشوں اور چالوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ سب سن لیں پاک فوج ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کسی بھی حدتک جائے گی۔ فوج اور عوام ایک ہیں اور فوج جو کچھ کر رہی ہے وہ ملک و قوم کی بھلائی کیلئے کر رہی ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative