Home » کالم » بلوچستان میں’را‘ کی کارستانیاں

بلوچستان میں’را‘ کی کارستانیاں

بلوچستان میں علیحدگی کی کوئی تحریک نہیں چل رہی ہے’بلوچستان میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں ہورہی ہے، بلوچ عوام کی ایک بڑی واضع اکثریت پاکستان کی اْتنی ہی محبِ وطن ہے جتنی ملک کے دیگرصوبوں کے عوام پاکستان سے والہانہ محبت وانسیت اوربے پناہ دلی لگاؤرکھتے ہیں امریکی ومغربی مفادات کی ایما پربھارت نے پاکستان کے صوبہِ بلوچستان کو اپنی ریشہ دوانیوں کا مرکز بنا کر سوائے وقت کے ضیاع کے اور بھارتی ٹیکس دہندگان کا خزانہ کو ‘را’ کے ذریعے بے دریغ بلوچستان میں لوٹا کرکچھ حاصل نہیں کیا، بلکہ بھارتی نیوی کے حاضرسروس ایک آفسر کلبھوشن جادیونامی جاسوس جسے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ پاکستان میں جاسوسی کا بڑا نیٹ ورک چلانے کے سنگین ا لزامات ثابت ہونے پر ملٹری قانونی ضوابط کے تحت کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت سنائی گئی ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں بھارت کی بڑی بدنامی ہوئی، رسوائی ہوئی، گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں بھارت اپنی خفیہ ایجنسی’را‘ کے توسط سے بین الااقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے جہاں تک بھارت کے غیرملکی حمائتی اورجنوبی ایشیا میں’اکھنڈ بھارتی بالادستی’ کے ناقابلِ قبول ایجنڈے کا تعلق ہے’ پاکستانی عوام اب خوب سمجھنے لگے ہیں کہ ایسی تمام غیراخلاقی اور غیر مہذبانہ سیاسی و سفارتی سرگرمیوں کے پیچھے امریکا اور چند ایک صہیونیت نواز مغربی طاقتیں بھارت کو مستقبل کا قربانی کا بکرا بنائے اْسے ہلا شیری دینے میں عالمی سفارتی آداب ولحاظ کی دھجیاں بکھیرنے میں لگی ہوئی ہیں ،بھارت نے تو ویسے ہی کبھی ہمارا مخلصانہ مشورہ نہیں مانا، پڑوسی ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل دراندازی کرنا بھارت کا پرانا وطیرہ رہا ہے، گوادر پورٹ کی تعمیر اورپاکستان چین اقتصادی راہداری کے میگا منصوبے نے بھارت کی ویسے ہی نیندیں اْڑائی ہوئی ہیں، امریکا سے سوئٹزرلینڈ تک عالمی صہیونیت کے پھیلائے ہوئے نفرتوں کے ز ہریلے اورمتعصبانہ پروپیگنڈے کی تمام ترلگامیں اْن ہی انسانیت کش عالمی اثرورسوخ رکھنے والی مسلم دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں ہیں جوکسی خودمختاراسلامی ملک کو اورجرات مند خوددار مسلمان قوم کوکسی صورت برداشت نہیں کرسکتیں اْن خود مختار مسلم ممالک کے اندرونی وبیرونی استحکام کے خلاف کل بھی بھارت ‘امریکا اور اسرائیل ایک تھے آج بھی اْن کے مذموم مقاصد کا نقد حاصل ایک ہی ہے ابتداء میں جیسے گزارش کی گئی ہے بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جوپاکستان کی معاشی واقتصادی ترقی کے ‘فوکل پوائنٹ’ کی ایک واضح اور نمایاں صورت اختیار کر چکا ہے’بلوچستان کی ترقی عام بلوچوں اور اْن کی آئندہ نسلوں کی بہترین بقاء اور تحفظ کیلئے کتنی اہمیت اختیارکرچکی ہے اِس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے ہاں! یہ بات کوئی اور نہیں کہہ رہا بلکہ بلوچستان کے وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اوربلوچستان کے دردمند دانشور طبقات اپنی محفلوں میں کرنے لگے ہیں جو کل تک آج کے تبدیل ہونے والے زمینی حقائق تسلیم کرنے میں مختلف سیاسی وسماجی اور ثقافتی وجوہات کی بناء پراپنے کچھ تحفظات رکھتے تھے، جن میں روس میں مقیم ناموراورمعتبر بائیں بازو کے بلوچ لیڈر میر جمعہ خان بلوچ جیسی بڑی محترم قدآورشخصیات شامل رہیں اب وہ خطہ میں حیرت انگیز ترقی یافتہ رول ماڈل کی حیثیت سے پاکستان کے ابھرتے ہوئے نئے تاریخ ساز اقتصادی امیج سے متاثر ہوئے بغیر رہ نہ سکے ‘رواں برس2018 مئی کے ابتدائی ایام میں میرجمعہ خان نے روس میں خود ساختہ جلاوطنی کوخیرباد کرکے اپنی فکری ونظری سیاسی تصورات کو جدید سائنسی تبدیلی کے ساتھ تسلیم کرلیا پاکستان اور بلوچ عوام کیلئے یہ اُن کا یہ قدم ایک نہایت ہی خوش اقدام اعلان مانا گیا ہے پاکستانی قوم میرجمعہ خان بلوچ کو اپنے دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتی ہے جنہوں نے اپنی ترقی یافتہ فکری بصیرت کے دوررس نتائج کی بناء پرگوادر پورٹ اور پاکستان چین اقتصادی راہداری کے فوائدعام بلوچیوں تک پہنچنے اوراْن کی ملکیت کے حق کو سچ کے آئینے میں جانچا اوراْنہیں پتہ چل گیاکہ اب بلوچستان کی ترقی کے یقینی ‘ٹیک آف’ کودنیا کی کوئی طاقت روکنے کی پوزیش میں نہیں رہی’میر جمعہ خان بلوچ اپنے سینکڑوں رفقاء کے ساتھ پاکستان کی قومی سیاست میں بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے گذشتہ دِنوں ڈیرہ بگتی کے اپنے آبائی علاقہ کوہلو جب پہنچے تواْن کے شاندار استقبال نے ثابت کردیا کہ اب کوئی غیر ملکی آلہِ کار بلوچستان کے نام پر پاکستان کا بال تک بیکانہیں کرسکتے ،سی پیک پاکستان کے مجموعی عوام اور خصوصی اعتبار سے بلوچستان کے عوام کی بنیادی ترقی کا پہلا زینہ ہے اب بلوچی عوام سی پیک اور پاکستان چین اقتصادی کوریڈور کی حفاظت کا فریضہ اداکریں گے یقیناًپاکستان کے دشمنوں پراب یہ عقدہ مزید کھلے گا بلوچی عوام کے حقوق کا سودا کرنے والی بھارتی خفیہ ایجنسی ‘ را’ کو رتی برابر کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا ، آپ نے دیکھا! سچائی کتنی مشکل زدہ پیچ در پیچ پیچیدہ ہوتی ہے اْن کیلئے اپنی پیٹھوں جو پرجھوٹ کے بورے لادھے ہوئے دنیا بھرمیں جھوٹ ہی جھوٹ بیچتے دھکے کھارہے ہیں، مزاحمت’ جدوجہد’آزادی اور محکومیت کی زنجیروں کو توڑنے کیلئے سروں سے کفن باندھ کر سنگین بردا رسفاک اور ظالم غیرمسلم فوج کے سامنے دوبدو آ کر فلسطین میں اورمقبوضہ کشمیر میں حقیقتاًجنگ جاری ہے جہاں کوئی ایسا دن نہیں گزرتاجب دن دھاڑے وہاں کشمیری مسلمانوں کی لاشیں نہ گرتی ہوں، سوشل میڈیا کے ایپس پر پْرتعیش مقامات سے گمنام من گھڑت پیغامات وائرل کرنے کا نام مزاحمت یا جدوجہد نہیں کہلاتا جنابِ والہ! جس کا اظہار حقیقی بائیں بازو کے حقیقت پسند بلوچ رہنما میرجمعہ خان بلوچ کی جرات مندانہ پاکستان آمد پر ملکی وغیرملکی میڈیا نے دیکھا ہے میر جمعہ خان بلوچ ایک نظریاتی بلوچ لیڈر ہیں دنیا اْنہیں پہچانتی ہے اْنہوں نے بلوچی عوام کے دلی جذبات کی ترجمانی کا حق بروقت ادا کیاہےِ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ روس کے دارلحکومت ماسکو سے عالمی شہرتِ یافتہ بلوچ رہنما ڈاکٹرجمعہ خان نے پاکستان کی قومی سیاست میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کی وجوہات پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی اور اُنہوں نے یہ اہم انکشاف کرکے بلوچستان کی سیاسی زندگی میں ارتعاش اور ایک ہلچل سی پیدا کردی ہے کہ گوادر پورٹ اور چین پاکستان اقتصادی کوریڈور کے خوشگوار ترقی کے ثمرات بلوچ عوام کی اب تک طبقاتی محرومیوں میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دیں گے اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ امریکا اور مغربی ایماء پر بھارتی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کیلئے’’ چارہ ‘‘بننے والے چند بگڑے ہوئے بلوچ سرداروں کے گمراہ لڑکوں کو اپنی ازلی بلوچ دشمنی اور اپنی پاکستانی دشمنیوں کو فی الفور خیرباد کہنا پڑے گا ‘ میرجمعہ خان بلوچ سمیت اْن کے سینکڑوں متحرک بلوچ سیاسی کیڈرز کی فکری ونظری سوچوں میں پیدا ہونے والی خوش آئند تبدیلی نے اْن غیرملکی آلہِ کارعناصرکو شرمناک حدتک بے نقاب کردیا ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، جن کا مطمعِ نظر ہمیشہ یہی رہا ہے کہ بلوچیوں میں اْن کے سیاسی وسماجی شعورکی بیداری کسی صورت نمو پذیرنہ ہوسکے برسہا برس سے قائم بلکہ صدیوں پر محیط بلوچی سرداروں کی فکری غلامی اگر اپنی موت آپ مرگئی تو اِس کا مطلب یہی ہوگا کہ بلوچی عوام شعوری ادراک سے اور فہم وانش سے بہرورہو جائیں گے تو ظلم وبربریت پر مبنی سرداری نظام کی پہرہ داری کا کیا بنے گا؟ کسی کو علم ہے کہ سی پیک کی تکمیل کے بعد اور پاکستان چین اقتصادی کوریڈور بارآور ہونے کے بعد کے ثمرات سے پاکستان میں سب پہلے بلوچستان کے عوام ہی مستفید اور فیضیاب ہونگے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative