Home » کالم » بلوچستان میں بھارتی ایجنٹ سرگرم

بلوچستان میں بھارتی ایجنٹ سرگرم

بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جو معدنیات سے بھرپور ہے ۔ پاکستان دشمنوں کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اس صوبے کو پاکستان سے الگ تھلگ کر دیا جائے ۔ اسی لیے امریکہ کے ورلڈ آرڈر میں عظیم تر بلوچستان پاکستان سے الگ ایک خود مختیار مملکت دکھایا گیا ہے ۔ امریکی خفیہ ایجنسیاں ، را اور موساد کے تعاون سے بلوچستان میں وفاق اور پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلا کر اس صوبے میں مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا کرنا چاہتی ہیں تاکہ کوئی شورش پیدا ہو ۔ پاکستان نے اپنے ایٹمی تجربات بھی بلوچستان کے پہاڑوں میں کئے تھے ۔ اسی وقت سے را اور سی آئی اے کے ایجنٹ بلوچستان میں سرگرم ہوگئے کہ وہ بلوچستان میں جوہری اثاثوں کا سراغ لگانا چاہتے تھے ۔ اصل میں ایٹمی پاکستان کا وجود امریکہ ، بھارت اور اسرائیل تینوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے ۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ بعض عناصر پاکستان میں رہتے ہیں ، پاکستان کا دیا ہوا کھاتے ہیں اور وطن عزیز کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ وہ بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ وطن عزیز کی سالمیت کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں ۔ پاکستان کے منحرف شدہ بلوچ لیڈر بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے رابطے میں ہیں اور پاکستان میں قومیتوں کے نام پر چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنانے کے عزائم رکھتے ہیں ۔ انتہا پسند ہندو تنظی میں اور بھارتی ادارے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں تخریب کاری کو ہوا دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ قندھار کے گورنر نے یہ اعتراف کیا کہ قندھار میں بلوچ قوم پرست باغی موجود ہیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے ان کا مسلسل رابطہ ہے ۔ یہ صورتحال بالکل ویسی ہی ہے جیسے مشرقی پاکستان میں تھی ۔ وہاں بھی کچھ مقامی لیڈروں اور لوگوں کو بہکا کر اور خرید کر بھارت نے پاک فوج اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلائی تھی ، اب یہی کھیل بلوچستان میں کھیلا جا رہا ہے ۔ بدنام زمانہ بلیک واٹر نے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کےلئے بلوچستان میں اپنے ایجنٹ داخل کر دیئے ہیں ۔ بلوچستان بارے سی آئی اے اور بلیک واٹر کے عزائم بہت خطرناک ہیں ۔ بلوچستان میں بیٹھ کر وسطی پنجاب اور شمالی علاقہ جات میں خود کش حملے اور بم دھماکے کرائے جائیں ۔ یوں دنیا کو باور کرایا جا سکے کہ پاکستان جو ایٹمی طاقت بھی ہے ،بدنظمی کا شکار ہے ۔ اس پروپیگنڈہ کے بعد پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنا ان کا مقصد ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان نے کئی مرتبہ اپنے بھارتی ہم منصب کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت فراہم کئے ہیں اور ان سے اس سلسلے میں پر زور احتجاج بھی کیا ہے مگر بھارت کو امریکہ کی شہ حاصل ہے ۔ بھارت تو ویسے بھی ہمارا دیرینہ دشمن ہے ۔ اسی دشمنی کے تحت سازش کے ذریعے اس نے ہمارے ایک حصے کو الگ کیا اور اب وہ اسی ڈگر پر چلتے ہوئے دوسرے حصے کو بھی علیحدہ کرنے کے درپے ہے ۔ جب ملک میں سندھی ، پنجابی ، پختون ،بلوچی اور بنگالی کی تفریق پیدا ہوئی تو ملک دو لخت ہوا ۔ اب باقی ماندہ ملک اور خصوصاً بلوچستان کو بچانے کےلئے ہ میں لسانیت سے باہر نکل کر خود کو دوبارہ ایک قوم کے قالب میں ڈھالنا ہوگا ۔ پاکستان برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے افغان حکومت کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا مگر افغان حکومت جو کہ امریکی و اتحادی افواج کےلئے کٹھ پتلی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی پاکستان کی قومی سلامتی اور داخلی استحکام کےلئے شدید ترین مسائل پیدا کررہی ہے ۔ جس میں سب سے زیادہ اہم افغانستان میں بھارتی سفارتخانہ اور متعدد قونصل خانے ہیں جہاں دہشت گردوں اور تخریب کاروں کو تربیت دےکر پاکستان بھیجا جاتا ہے ۔ بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان اسے افغانستان کےلئے تجارتی راستہ دے اور افغانستان میں تعمیر نو کے نام پر افغان منڈی اور وسائل پر قبضہ کرنے کا موقع فراہم کرے ۔ بھارت کو یہ علم ہے کہ سینٹرل ایشیا کے وسائل تک رسائی افغانستان کے زمینی راستے کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ بھارت کی سرتوڑ کوشش رہی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ مزید بڑھائے ۔ اسی خیال کے پیش نظراس نے افغان انتظامیہ کے ساتھ بڑھ چڑھ کر تعاون کیا ۔ اب جبکہ بھارت افغانستان میں اپنے قدم جما چکا ہے تو اس کےلئے پاکستان میں تخریب کاری کرنا آسان ہوگیا ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ افغانستان پر بھارت کا اثرو رسوخ زیادہ ہے ۔ پاکستان اگر سوویت افواج کے خلاف کھڑا نہ ہوتا تو آج افغانستان سوویت روس کی ایک ذیلی اور کٹھ پتلی ریاست بن چکا ہوتا اور اس ملک کا اسلامی تشخص، اس کی ثقافتی روایات اور اس کا تاریخی ورثہ سب کچھ تہس نہس ہو چکا ہوتا ۔ پاکستان کے اس عظیم الشان کردار کی وجہ سے ہی افغانستان سوویت یونین کے چنگل میں آنے سے بچ گیا لیکن خود پاکستان نے ان گنت مصائب مول لے لئے ۔ تخریب کاری اور دہشت گردی کی لہر نے پاکستان کا امن غارت کر کے رکھ دیا ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغان حکومت نے ہمیشہ پاکستان دشمن قوتوں کا ساتھ دیا ۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے ، تخریب کاری اور دہشت گردی کےلئے افرادی قوت، اسلحہ ، گولہ بارود افغانستان کے راستے ہی پاکستان میں داخل کیا جاتا ہے اور افغان حکومت کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے گھر میں سے گزر کر کسی اور گھر میں گھس جائے ۔ اب حالات بہت بگڑ چکے ہیں اور افغان حکومت کی دیدہ دلیری ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے صوبہ پختونخواہ اور بلوچستان کے غیور عوام غم و غصے میں مبتلا ہیں اور یہ غم و غصہ کسی وقت بھی قابوسے باہر ہو سکتا ہے ۔ ہ میں افغان حکومت کو اپنی حدود میں رہنے کی تلقین کرنی چاہیے بلکہ افغان پالیسی پر نظر ثانی میں بھی مزید تاخیر نہیں کرنی چاہے ۔ اگر ہم نے خصوصاً بلوچستان میں مداخلت پر اب بھی خاموشی اختیار کی تو بھارت کے حوصلے بڑھ جائیں گے ۔ افغان حکومت کے منافقانہ رویے کی وجہ سے پاکستان کی طرف سے افغانستان کےلئے خیر سگالی اور تعاون کے تمام اقدامات بے نتیجہ ثابت ہو رہے ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative