blood_pressure 20

بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے آسان طر یقے

ہنگامہ خیز اور مصروف زندگی نے بلڈ پریشرکی زیادتی یعنی ہائبر ٹینشن کو معمول بنادیا ہے جسے خاموش قاتل مرض بھی کہا جاتا ہے۔ میز پر بیٹھ کر کام کرتے رہنا، غیرمتوازن خوراک اور ورزش کی کمی سے نوجوان نسل بھی بلڈ پریشر کے امراض کی شکار ہے اس کے لیے ڈاکٹر اور غذائی ماہرین 10 حیرت انگیز تجاویز پیش کرتے ہیں جن پر عمل کرکے بلڈ پریشر بلند ہونے کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ کیفین سے دور رہیں: کیفین کے مشروبات کو کم کرکے بلڈ پریشر کے خطرات کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ کافی، سافٹ ڈرنکس، چائے اور انرجی ڈرنکس سب مشروبات میں ہی کیفین موجود ہوتی ہے اس لیےاگر 3 کپ یعنی 500 ملی گرام کیفین استعمال کی جائے تو اس سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے جب کہ صبح پی جانے والی کیفین کے اثرات رات تک برقرار رہتے ہیں۔ چقندر کا رس: حالیہ دنوں میں چقندر کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں کیونکہ اس کا رس دل کو مضبوط کرتا ہے اور بلند فشارِ خون کو کم کرتا ہے۔ اگر ا?پ روزانہ 250 ملی لیٹر چقندر کا جوس پئیں تو اس سے بلڈ پریشر میں اضافے کی شرح 7 فیصد تک کم کی جاسکتی ہے۔ چقندر میں نائٹریٹ کی وسیع مقدار موجود ہوتی ہے جو خون کی روانی کو باقاعدہ بناتی ہے۔ جاگنگ کے لیے وقت نکالیں: ہرہفتے اگر ایک گھنٹے تک جاگنگ کی جائے تو اس سے عمر بڑھتی ہے اور بلڈ پریشرکے خطرات کو ٹالا جاسکتا ہے۔ ورزش اور جاگنگ سے آکسیجن نفوز بڑھ جاتا ہے جب کہ خون کا پریشر کم ہوجاتا ہے جس سے خون کا پمپ کرنا آسان اوردل مضبوط ہوجاتا ہے۔ دہی کا استمعال: روزانہ ایک پیالہ دہی کھانے سے بلڈ پریشر کا خطرہ 3 گنا کم ہوجاتا ہے اس لیے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دہی سے قدرتی طور پر بننے والا کیلیشیم خون کی نالیوں کو نرم بنا کر تھوڑا سا پھیلا دیتا ہے جس سے خون کا پریشر کم رہتا ہے۔ کیلے کا استعمال: پوٹاشیم سے بھرپور کیلے کا استعمال اور نمک کی کمی کرکے ہر سال ہزاروں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ پوٹاشیم جسم میں خون کو متوازن رکھ کر بلڈ بریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔ نمک کھانے سے نفرت کریں: خون میں نمک کی مقدار بڑھنے سے شریانوں میں خون کا پریشر اور حجم بڑھ جاتا ہے جب کہ بھنی اور باربی کیو غذائیں 80 فیصد نمک اپنے اندر رکھتی ہیں جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ وزن کو کم کریں: تحقیق میں کہا گیا ہے کہ صرف چند کلوگرام وزن کم کرنے سے بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے کیوں کہ بڑھا ہوا وزن دل کے کام کو سخت بنا دیتا ہے جس سے اسٹرین اور بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ سگریٹ نوشی چھوڑ دیں: سگریٹ میں موجود نیکوٹین جسم کے اندراینڈرن لاین کو بڑھاتا ہے جس سے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے جو بلڈ پریشر بڑھنے کا باعث بن جاتی ہے۔ کام کم کریں: دفاتر میں ہفتہ وار 40 گھنٹے کام کرنے سے ہائیپر ٹینشن کا خطرہ 14 فیصد بڑھ جاتا ہے بالخصوص اوور ٹائم کرنے والے افراد میں یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور جو لوگ 51 گھنٹے کام کرتے ہیں ان میں بلڈ پریشر زیادہ ہونے کا خطرہ 29 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ خراٹے کم کریں: جو لوگ سونے کے دوران زیادہ خراٹے لیتے ہیں ان کی نیند زیادہ متاثر ہوتی ہے جس سے ان کا بلڈ پریشر واضح طور پر بڑھ جاتا ہے اس لیے کوشش کی جائے کہ اس کا علاج کیا جائے تاکہ بلڈ پریشر کنٹرول میں رکھا جا سکے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں