Home » کالم » بڑی طاقتوں کی مسلم کش پالیسیاں
khalid-khan

بڑی طاقتوں کی مسلم کش پالیسیاں

khalid-khan

مقبوضہ جموں وکشمیر میں اکہتر سالوں سے ریاستی دہشت گردی جاری ہے اور آئے روز معصوم اور نہتاتے کشمیروں کا قتل عام جاری ہے لیکن امریکہ اور اقوام متحدہ نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔اسی طرح فلسطین میں گزشتہ ستر سالوں سے قتل عام جاری ہے لیکن امریکہ اور اقوام متحدہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ ہمیشہ اسرائیل کی سرعام اور خفیہ مدد جای رکھی۔فلسطینوں کی سرزمین پر اسرائیل کو بسا نا عالمی دہشت گردی اور عظیم زیادتی وستم ہے۔بر ما میں مسلمانوں کو بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن امریکہ اور اقوام متحدہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ افغانستان میں معصوم بچوں اور عام شہریوں کو امریکی بمباری سے ماراجارہا ہے لیکن امریکہ ، اقوام متحدہ یاکسی اور ملک نے اس کے خلاف صدا بلند نہیں کی۔عراق میں صدام حسین کی حکومت گرا کر عام شہریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس ستم گیری پر سب نے چپ کا روزہ رکھا ۔ درج بالا تمام مسلم ممالک میں ظلم و ستم اور بربریت کے اس کھیل میں بڑی طاقتوں کا بڑا عمل دخل ہے اور اس پر مجرمانہ خاموشی ثابت کررہی ہے کہ ایک مخصوص منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کے خلاف سب کچھ ہورہا ہے اور پلاننگ سے مسلم کش پالیسی جاری ہے ۔اقوام متحدہ نے اب تک مسلمانوں کا ایک مسئلہ بھی حل نہیں کیا بلکہ اقوام متحدہ کے کندھے پر بندوق رکھ کر مسلمانوں کے بچوں اور معصوم شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔جب اقوام متحدہ مسلم ممالک کے مسائل قطعی حل نہیں کررہی ہے تو پھر اقوام متحدہ کی تنظیم میں مسلمان ممالک کارہنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔اقوام متحدہ کوغیر جانب دار تنظیم ثابت کرنے کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ مثلاًاقوام متحدہ میں وٹو طاقت ختم ہونا چاہیے اور مسلمانوں کے بڑے مسائل کے حل کیلئے ایک مدت مقرر کرنی چاہیے۔ ان مسائل کے حل کیلئے زیادہ سے زیادہ دوسال کا عرصہ مقرر کرنا چاہیے۔ مسلم دنیا کے بڑے اہم مسائل میں مسئلہ کشمیر ، مسئلہ فلسطین، افغانستان میں امن اور مہاجرین کی واپسی، برما کے مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں کا مسلم ممالک کے معاملات میں ظاہری اور خفیہ مداخلت بند ہونی چاہیے۔امریکہ اور بھارت کو سوچنا چاہیے کہ ان کی وجہ سے دنیا میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ان کو مسلم کش ودشمن پالیسیاں ترک کرنی چاہئیں کیونکہ ان کی وجہ سے دنیا کا امن تباہ و برباد ہوچکا ہے۔امریکہ اور بھارت کو چاہیے کہ اپنی دولت اور توانائی مسلم ممالک میں شر انگیزیاں پھیلانے پر صرف کرنے کی بجائے اپنے شہریوں کی بہتری پر صرف کرنی چاہیے۔ امریکہ کاعراق، افغانستان ، پاکستان اور ایران کے بعد اب سعودی عرب کی طرف رخ کرنا معنی خیز ہے۔مسلمان ممالک کو چاہیے کہ آپس کے اختلافات ترک کریں اور متحد ہوں۔ مسلم ممالک کے مسائل خود حل کریں۔مسلم ممالک کو امریکہ ،اقوام متحدہ یا کسی اور ملک کی ضرورت ہی نہیں ہے۔امریکہ ،اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کو مسلم ممالک کی ضرورت ہے۔مسلم ممالک کے پاس وسائل ،ا فرادی قوت سمیت سب کچھ ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک مسلم ممالک سے بھیک مانگیں گے۔ ان سب کیلئے ضروری ہے کہ مسلمان ممالک دل وجان سے متحد ہوں۔کسی سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ موت و حیات اللہ رب العزت کے پاس ہے۔ ایک لمحہ بھی کوئی زیادہ یا کم نہیں کرسکتا ہے۔ تمام مسلم ممالک کو یکجا ہوکر اپنے مسائل اور مفادات پر غور کرنا چاہیے اور ان کے حل کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔واضح ہوکہ غیر مسلم ممالک کے ساتھ بھی رستوار تعلقات رکھنے چاہئیں کیونکہ اسلام امن اور محبت کا درس دیتا ہے۔صرف ان ممالک کو دن کو تارے دکھانے چاہئیں جو مسلم ممالک اور ان کی شہریوں کو بلاوجہ تنگ کرتے ہیں اور گذند پہنچتے ہیں۔ ان بدمعاش ممالک کو اپنی اوقات دکھانی چاہیے اور ان کو اپنے حد میں رکھنا چاہیے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔ اسلام نے ہر انسان اور ہر چیز کے حقوق متعین کیے ہیں۔قارئین کرام!بڑی طاقتوں کو غریب اور پسماندہ ممالک کی ترقی و خوشحالی کیلئے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔جنگ و جدل اور دہشت گردی اچھی چیزیں نہیں ہیں۔مسلم اور دیگر ممالک کو مل کر غربت ، افلاس اور بیماریوں کے خلاف جہاد کرنا چاہیے۔ دنیا کے انسانوں کو قریب تر لانا چاہیے اور ایک دوسرے کو معاون بناناچاہیے۔یہ دنیا خوبصورت ہے اور اس کی خوبصورتیوں میں اضافے کا بہترین طریقہ انسانیت سے محبت ہے۔اس لئے انسانوں سے محبت کریں اور انسانوں کے فلاح و بہبود کیلئے کام کریں۔

*****

About Admin

Google Analytics Alternative