2

بھارتی سیاہ کاریوں کی طویل فہرست !

ایک جانب بھارتی حکمرانوں نے اپنی روایتی سیاہ کاریوں کا ثبوت دیتے مقبوضہ کشمیر میں 110 روز گزرنے کے باوجود نہتے کشمیریوں پر جینا حرام کر رکھا ہے، اب بھارتی اخبار ’’ یوروشین ٹائمز‘‘ کے مطابق مقبوضہ وادی میں قابض بھارتی فوج پر پتھر پھینکنے والے کشمیریوں نوجوانوں پر مسلح ربوٹوں کے ذریعے قابو پانے کی سعی کی جائے گی ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ جولائی 2016 کے بعد سے بھارتی فوج نے پیلٹ گنز کے بے دریغ استعمال کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے اور ہزاروں کشمیریوں سے ان کی بینائی جزوی یا مکمل طور پر چھینی جا چکی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا جیسا دروغ گو اور بد زبان میڈیا شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے کونے میں ملے، ہندوستانی ذراءع ابلاغ کی اس مکروہ روش پر عالمی برادری بھی چپ سادھے بیٹھی ہے اور اسی وجہ سے بھارتی میڈیا مزید دیدہ دلیری کے ساتھ پراپیگنڈے کے اپنے سلسلے کو مزید ہوا دیتا جا رہا ہے ۔ پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر بھی سازشوں کے جال بننے میں تیزی آتی جا رہی ہے، بھارتی خبر رساں ایجنسی ;657873; کے مطابق انسانی حقوق کے نام نہاد گروپ برلن میں بلوچستان کے مسئلہ پر مشترکہ کانفرنس کرنے جا رہے ہیں ، حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جو صورتحال ہے، اس سے ان گروہوں نے اپنے سطحی اور وقتی مفادات کی خاطر صرف نظر کیا ہوا ہے اور ایک مخصوص ایجنڈے کے مطابق وطن عزیز کے خلاف ریشہ دوانیوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے میں مصروف ہیں ۔ حالانکہ خود دہلی میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا یہ عالم ہے کہ ایک روز قبل 37 سالہ دلت شخص کو بھارتی پنجاب میں پلر سے باندھ کر بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے زبردستی غلاظت کھانے پر مجبور کیا گیا ۔ بھارتی اخبار دکن کرانیکلز کے مطابق چنگائی والا کا رہائشی دلت شخص غلطی سے اونچی ذات کے ہندوءوں کےلئے بنائی گئی جگہ پر بیٹھ گیا جس کے نتیجے میں جنونی ہندوءوں کے گروپ نے اسے پکڑ کر اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا جس کا محض تصور کر کے روح کانپ اٹھتی ہے ۔ دوسری جانب سری لنکا میں گوٹا پایا راج پکسے کی زیر قیادت نئی سرکار قائم ہو چکی ہے، گزشتہ سری لنکن حکومت کو بھارت نواز تصور کیا جاتا تھا کیونکہ معتبر ذراءع کے مطابق سری سینا کی جیت میں ;826587; کے کردار کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ موجودہ سری لنکن صدر گوٹا بایا راج پکشے نے اپنے بھائی مہندر راج پکشے کے ساتھ مل کر دہلی سرکار کی سری لنکا میں بھڑکائی ہوئی ;76848469; کی آگ پر قابو پایا تھا اور تامل ٹائیگرز کے پیچھے چھپے بھارتی حکمرانوں کے چہرے کو بے نقاب کیا تھا ۔ اب سری لنکا میں دوبارہ اسی خاندان کی حکومت آنے سے دہلی سرکار تشویش میں مبتلا ہے اور بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی سرکار کی کولمبو کے سیاسی افق پر گہری نگاہ ہے اگرچہ اپنی سفارتی عیاریوں کا ثبوت دیتے مودی نے نئے لنکن صدر کو رواں مہینے کے آخری ہفتے میں دو روزے دورے پر مدعو کر رکھا ہے ۔ علاوہ ازیں اسے ایک ستم ظریفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن (ر) امریندر سنگھ نے اپنے دہلی کے آقاءوں کو خوش کرنے کیلئے زہر اگلتے کہا ہے کہ پاک سلامتی کے ادارے سکھوں کے 2020 کے ریفرنڈم کی پشت پناہی کر رہے ہیں ۔ مبصرین کے مطابق ان بھارتی یاوا گوئیوں پر کوئی عقل کا اندھا ہی یقین کر سکتا ہے کیونکہ کسے معلوم نہیں کہ پاکستان کی سبھی حکومتوں نے ہمیشہ سے یہ کوشش کی ہے کہ بھارت کے ساتھ بقائے باہمی کے اصولوں پر تعلقات استوار رکھے جائیں ، یہ ایک الگ موضوع ہے کہ بھارت کی جانب سے مثبت انداز میں کبھی جواب نہیں ملا ۔ عمران خان کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو انھوں نے باقاعدہ عنانِ اقتدار سنبھالنے سے بھی پہلے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارت ایک قدم چلے گا تو ہم دو قدم چلےں گے ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ اس ضمن میں بوجوہ تاحال ہونے والی پیش رفت کوئی ٹھوس شکل اختیار نہیں کر سکی ۔ اس کے باوجود وطن عزیز کی جانب سے یہ معاملات آگے بڑھے اور پاکستان نے کرتار پور راہداری کا باقاعدہ طور پر سنگ بنیاد رکھ کر اسے مکمل بھی کر دیا ہے اور یوں سکھ قوم کے ایک دیرینہ خواب کو عملی تعبیر سے ہمکنار کیا ہے ۔ دوسری جانب بھارتی سکھوں میں بھی خاصی حد تک ;828383;اور بھارتی ایجنسیوں کی اسسازش کا ادراک ہو چکا ہے ۔ تبھی تو 2004 میں ’’اکال تخت‘‘ کے اس وقت کے جتھے دار ’’جوگندر سنگھ ودیانتی‘‘ نے ;828383; کی تنظیم راشٹریہ سکھ سنگت کو ’’سکھ دشمن‘‘‘ قرار دے دیا تھا ۔ 2009 میں ایک سکھ تنظیم ’’ببر خالصہ‘‘ نے اس وقت کے راشٹریہ سکھ سنگت کے سربراہ رُلدا سنگھ کو پٹیالہ میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔ اکتوبر 2017 میں اکال تخت کے جتھے دار گیانی گربچن سنگھ نے کہا تھا کہ ’’ ;828383; راشٹریہ سکھ سنگت کو استعمال کرتے ہوئے سکھ دھرم کو ہندو ازم میں ضم کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ، بھارت کے لئے نمایاں کارنامے انجام دینے والے سکھ بھی جب پنجاب سے باہر جاتے ہیں تو انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، سکھ دھرم ہندو مذہب سے بالکل علیحدہ ہے اور سکھ ایک علیحدہ قوم ہے ، اگر ;828383; اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی تو اس کے نتاءج خوش آئند نہیں نکلیں گے‘‘ ۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ثقافتی روابط بعض اوقات مذہبی روابط سے بھی زیادہ مضبوط ثابت ہوتے ہیں ۔ ایسے میں آگے چل کر پورے جنوبی ایشیاء میں معاشی ترقی ،خوشحالی و رواداری کے دروازے کھلنے میں معاونت مل سکتی ہے، یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ پاکستان کی حکومت، عوام اور پاکستان کی سول سوساءٹی پہلے ہی سے اس ضمن میں مقدور بھر مثبت کردار ادا کر رہی ہے ۔ ایسے میں عالمی برادری بھی اس حوالے سے اگر اپنا انسانی فریضہ نبھائے تو پورا جنوبی ایشیائی خطہ بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہو سکتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں