Home » کالم » سوچ بچار » بھارت ، خواتین کیلئے غیر محفوظ ملک قرار

بھارت ، خواتین کیلئے غیر محفوظ ملک قرار

دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریہ بھارت میں خواتین کا جینا دوبھر ہوگیا۔ بھارت کو دنیا میں خواتین کیلئے سب سیزیادہ غیرمحفوظ ملک قرار دے دیا گیا۔خواتین پرتشدد اور حراساں کیے جانے والے ممالک کی فہرست میں بھارت پہلے نمبرپرہے جہاں خواتین کا استحصال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ جہاں خواتین کو ذہنی ، جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کم عمر بچیوں کے استحصال میں بھی بھارت سب سے آگے ہے جبکہ مذہبی جنونیت میں مبتلا انتہا پسند دیگرمذاہب کی خواتین کو نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے۔غیر ملکی میڈیا کو موصول پولیس ڈیٹا کے مطابق دہلی میں ہر 2 گھنٹے کے اندر ایک خاتون کو اغوا کیا جاتا ہے۔ رواں سال جون 15 تک شہر بھر میں 1ہزار 802 اغوا کے کیسز رجسٹرڈ کئے گئے۔حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 2007 سے 2016 کے دوران بھارت میں خواتین سے جنسی واقعات میں 83 فیصد اضافہ ہوا ہے، جہاں ہر گھنٹے میں جنسی زیادتی کے 4 کیسز ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں بھارت میں ہونے والے جنسی زیادتی کے واقعات 2012 میں طالبہ کے ساتھ ہونے والے گینگ ریپ کے بعد سب سے بڑے واقعے ہیں۔بھارتی خواتین اب دارالامان میں بھی غیر محفوظ ہوگئیں۔ ہوا یوں کہ ریاست بہار میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور گمشدگی کی اطلاعات کے بعد پولیس نے 2دارالامان بند کرادیئے۔ بھارت کی مشرقی ریاست بہارکے شہر پٹنا میں پولیس نے بے گھر خواتین کیلئے قائم دارالامان کو 11 خواتین کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات کے بعد بند کردیا۔اسی خیراتی ادارے کی جانب سے چلایا جانے والا ایک اور دارالامان نوجوان لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات پر جون میں بند کیا جاچکا ہے۔ خیراتی ادارے کے ڈائریکٹر اور9ملازمین کو زیادتی کے الزامات پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ریاستی اور وفاقی حکومتیں خیراتی ادارے کو خواتین اور لڑکیوں کیلئے دارالامان چلانے کیلئے سالانہ ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالرز فراہم کرتی ہیں۔خیراتی ادارہ چلانے والے راجیش ٹھاکر 1987 سے اس ادارے کوچلارہے ہیں اور انہیں اس سال جون کے آغاز ہی میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ممبئی میں قائم ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کو خیراتی ادارے کے آڈٹ کے دوران کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی جس کے بعد ریاستی تفتیش کاروں نے دارالامان کی لڑکیوں کا انٹرویو کیا اور ان میں سے زیادہ تر لڑکیوں نے جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا۔ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں خواتین سے متعلق سنسنی خیز انکشافات ہوا کہ 48ارکان اسمبلی خواتین سے زیادتی، زبردستی شادی، اور اسمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث نکلے اور اس میں سب سے آگے ہندو انتہا پسند ہیں۔ 12ارکان کا تعلق حکمران جماعت بی جے پی سے ہے جبکہ 7ارکان کا تعلق انتہا پسند شیو سینا سے ہے۔ بھارت میں خواتین کے خلاف زیادتیوں پر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی ڈائریکٹرکرسٹین لیگارڈ بھی پھٹ پڑیں اور واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نریندر مودی سے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر دیا۔ بھارت میں بے گھر بچیوں کے ایک شیلٹر ہاؤس میں تیس سے زائد لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اب بھارتی وزیر برائے اطفال نے بچوں کے ایسے شیلٹر ہاوسز میں مدد کیلئے فون اور آگاہی پوسٹر لگانے کا اعلان کیا ہے۔بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے وکیل آننت کمار کا کہنا تھا، ’’فون اور ہیلپ لائنز اس مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ یہ ایک واضح مثال ہے کہ موجودہ نظام کس قدر کمزور ہے۔صرف پوسٹر اور ٹیلی فون نمبر دے دینا ناکافی ہے۔ بچوں کو مسلسل یہ خوف رہے گا کہ وہ جونہی کال کریں گے تو شیلٹر ہاوس انتظامیہ کا پتا چل جائے گا۔ہمیں اس طرح کے بچوں کو لاحق خطرات کو تسلیم کرنا ہوگا۔‘‘ اس طرح کے چائلڈ کئیر سینٹرز میں بچوں کو بند کر دیا جاتا ہے اور ان کی مدد کے لیے کوئی ادارہ موجود نہیں ہوتا۔ نہ تو ایسے بچوں کو اپنی مرضی کے مطابق کچھ کرنے دیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی مناسب حفاظت کی جاتی ہے۔ بھارت کے حفاظتی مراکز میں جنسی اور جسمانی تشدد عام ہے۔ اس ملک کے چائلڈ کئیر ہاؤسز میں لاوارث یا پھر انتہائی غریب والدین کے بچوں کو لایا جاتا ہے۔بہار کے شیلٹر ہاؤس کو جون میں بند کر دیا گیا تھا۔ مقامی پولیس نے شیلٹر ہاؤس کے مالک سمیت دس افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ پولیس کے مطابق جن لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ان میں سے ایک کی عمر صرف سات برس ہے۔ عدالت میں پیش ہونے والی لڑکیوں کے مطابق انہیں باقاعدگی سے مارا پیٹا جاتا تھا اور نشہ دینے کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ایک لڑکی کے مطابق جب اس نے انکار کیا تو اسے بھوکا پیاسا رکھا جاتا تھا جبکہ دیگر لڑکیوں کو کھانے کے بدلے کسی ایک شخص کے ساتھ برہنہ سونے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ خوف اور سزا کی وجہ سے متاثرہ لڑکیاں کسی کو شکایت کرنے سے باز رہیں۔اس سلسلے میں بھارتی حکومت نے ایک نیا قانون متعارف کروایا تھا جس کے تحت بارہ برس سے کم عمر لڑکی سے جنسی زیادتی کرنے والے کو سزائے موت دی جا سکے گی۔2016 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں روزانہ ایک سو سے زائد خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں جنسی زیادتی کی شکار خواتین میں بچوں کی تعداد چالیس فیصد ہے۔ خواتین کے غیر محفوظ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2016 میں ریپ کے 40 ہزار کیسز درج کیے گئے اور مودی کے دور حکومت میں ریپ کے واقعات میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا۔ 2012 میں دارالحکومت نئی دہلی میں ایک طالبہ کو چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، بعدازاں طالبہ دوران علاج دم توڑ گئی تھی۔اجتماعی جنسی زیادتی کا ہدف بننے والی میڈیکل کی طالبہ پر چلتی بس پر چھ افراد نے اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ دسمبر 2012 میں اپنے ایک مرد دوست کے ساتھ بس میں سفر کر رہی تھی۔وہ بعد ازاں اس حملے کے دوران نازک اعضا پر لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئی تھی۔ بھارت میں مسئلہ صر ف یہ نہیں ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کو جنسی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان واقعات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔دہلی میں قائم جرائم کے اعدادوشمار کے قومی ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2016 میں جنسی زیادتی کے 1996 مقدمات درج کرائے گئے۔ یہ تعداد ایک سال پہلے کی تعداد 1893 کے مقابلے میں زیادہ ہے۔خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب اس ملک میں خواتین کی آزادی اور ان کے تحفظ کیلئے اٹھے والی آوازیں زیادہ بلند ہو گئی ہیں جہاں جنسی جرائم سے متعلق بات بدنامی کے خوف سے نہیں کی جاتی تھی۔ بھارتی حکومت نے شہروں کو محفوظ بنانے کی غرض سے خفیہ نگرانی کے کیمرے نصب کیے ہیں اور فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن کے مراکز قائم کر دیے ہیں لیکن سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور خواتین ، لڑکیوں اور حتی کہ بچیوں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

 

 

About Admin

Google Analytics Alternative