Home » کالم » بھارت افغانستان میں امن کا مخالف

بھارت افغانستان میں امن کا مخالف

بھارت پاکستان کو شدید نقصان پہنچانے اور عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جاتا رہا ہے ۔ پاکستان سے دشمنی اسکی رگ رگ اور روئیں روئیں میں بھری ہے ۔ اسکی پاکستان کے حوالے سے عیاری و مکاری کسی تعاوف کی محتاج نہیں ۔ کل تک وہ روس کے قدموں میں لپٹا تھا تو آج اپنے مذموم مقاصد کی بجا آوری کیلئے امریکہ کے تلوے چاٹ رہا ہے ۔ آج کل صورتحال یہ ہے کہ بھارت نے جو کہہ دیا امریکہ اسی پر یقین اور حقائق کو نظرانداز کرکے پاکستان پر الزامات اور دھمکیوں کی بھرمار کردیتا ہے ۔ جہاں تک افغانستان میں امن کا تعلق ہے تو پاکستان سے زیادہ کون اس کا حمایتی ہوگا ۔ افغانستان میں تعینات پاکستان کے سفیر نے واضح طورپر کہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی کوئی مدد نہیں کر رہا بلکہ ہم تو طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار پاکستان ہے ۔ پاکستان کے خلاف بد گمانیوں کے باوجود افغانستان کو برادر اسلامی ملک سمجھتے ہیں ۔ جھگڑا افغانستان حکومت اور طالبان کا اپنا ہے ۔ پاکستان کا کردار صرف سہولت کار کا ہے ۔ پاکستان افغان طالبان سے براہ راست یا چار فریقی گروپ کے ذریعے امن مذاکرات میں معاونت کے لیے تیار ہے ۔ اس چار فریقی گروپ میں امریکہ، چین، پاکستان اور افغانستان شامل ہیں ۔ اگر طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ مذاکرات دو سیاسی قوتوں کے درمیان ہوں گے ۔ پاکستان امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا ۔ اْنھوں نے کہا کہ پرامن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے ۔ بھارت ایسا ہمسایہ ہے جسے امن پسند نہیں ۔ امریکہ پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کی تلقین ضرور کرے لیکن اس سے پہلے جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی پالیسی میں توازن پیدا کرے ۔ پہلے امریکہ خود غیر جانبدار بنے کیونکہ اس کا جھکاوَ بھارت کی طرف ہے ۔ امریکی عہدیداروں کی گفتگو سے یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ بھارت افغانستان کا غیر فوجی حل نہیں چاہتا اور اسے اس کے امن عمل سے کوئی سروکار نہیں ۔ چین;39; روس;39; ایران اور پاکستان امن عمل میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن قائم کرنے کے خواہاں ہیں تاہم اس ضمن میں امریکہ کو بھی سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ طاقت کا استعمال مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ امریکہ اور نیٹو نے برسہا برس تک بھرپور طاقت استعمال کرکے دیکھ لیا اربوں ڈالر خرچ کرنے کا کیا نتیجہ نکلا ۔ صورتحال یہ ہے کہ اب بھی بعض علاقوں پر افغان حکومت کا کنٹرول نہیں ہے ۔ افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ اور بھارتی خفیہ ایجنسی ;3939;را;3939; کی سرگرمیوں اور افغان ایجنسی این ڈی ایس کے ساتھ اس کے اشتراک میں اضافہ کشیدگی میں اضافے کا باعث ہے ۔ اگرچہ بھارت اس کے ذریعے پاکستان کے خلاف پراکسی وار شروع کئے ہوئے ہے لیکن دوسری طرف وہ افغانستان میں امن عمل کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے ۔ علاقائی ممالک کا اس امر پر اتفاق کہ مذاکرات کے ذریعے ہی افعانستان میں امن قائم کیا جاسکتا ہے یقینا حقیقی راستہ یہی ہے ۔ امریکہ کو ان ممالک کی کوششوں میں روڑے اٹکانے کی بجائے انہیں نتیجہ خیز بنانے کی کوششیں کرنی چاہئیں اور یہ کوششیں نظر آنی چاہئیں ۔ امریکہ کے پاس افغانستان کا کوئی ٹھوس حل موجود نہیں جس کی بنیادی وجہ افغانستان کے معروضی حالات سے لا علمی اور امریکی پالیسی ساز اداروں میں تقسیم اور عدم تعاون ہے ۔ اس بات سے قطع نظر کہ افغانستان میں امریکی ناکامی کی اصل وجوہات کیا ہیں ، یہ بات تو گزشتہ سترہ سال کی جنگی حکمت عملی کے تناظر میں ایک حقیقت کے طور پر سامنے آچکی ہے کہ مزید فوجی کاروائی کے ذریعے افغانستان میں امن قائم ہونے کا کوئی امکان نہیں ۔ پاکستان میں عمومی تاثر یہی ہے کہ امریکہ کی افغان پالیسی میں بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں ۔ مثلاً امریکی ایوانوں میں یہ تاثر کہ افغان طالبان کی باگیں پاکستان کے ہاتھ میں ہیں ، درست نہیں ۔ مزید براں یہ سوچ کہ فوجی قوت میں اضافے کی مدد سے افغانستان میں حالات درست کیے جا سکتے ہیں ، ناکام ثابت ہو چکی ہے ۔ پاکستان دیگرعلاقائی ممالک مثلاً، روس اور چین، کی مدد سے افغانستان میں بات چیت کے ذریعے وسع البنیاد حکومت کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے ۔ البتہ یہ سوچ کہ پاکستان افغان طالبان کی پالیسی یا حکمت عملی کو تبدیل کر سکتا ہے، پاکستانی حکومتی نمائدوں کے مطابق مبالغہ آمیز اور حقائق کے منافی سوچ ہے ۔ اس کے علا وہ بہت سے امریکی نمائندہ گان کا یہ مفروضہ کہ پاکستان افغانستان میں عکسریت پسند کاروائیوں کی حمایت کرتا ہے،پاکستان کے پالیسی ساز حلقوں کے مطابق، بالکل بے بنیاد اور حالات میں بہتری کے لیے نہایت ناسازگار ہے ۔ امریکہ، پاکستان اور افغانستان کی ایک دوسرے پر الزام تراشی سے نہ صرف باہمی کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ پاکستان پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی وجہ سے بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھا چکا ہے اور بہت تگ و دو کے بعد شورش زدہ علا قوں میں امن بحال کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے ۔ اس تناظر میں دیکھتے ہوئے پاکستان کا عسکریت پسندی کی حمایت کا جواز بعیدالقیاس ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative