8

بھارت اورنیپال کی نئی چپقلش

نیپال اور بھا رت کے درمیا ن نیپا لی علاقے پر طویل عرصہ سے ایک جنگ جاری ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان جھگڑے کی بنیادی وجہ ہے کالا پانی جو سطح سمند ر سے 20,276فٹ بلندی پر واقع پہاڑی ہے جس کے بارے میں بھارت کا خیال ہے کہ یہ چین کی فوج کی پیش قدمی روکنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرے گی ۔ ٹیکنیکل کمیٹی کے ایک اجلاس میں نیپال نے یہ تجویز دی کہ کالا پانی کے جھگڑے کو 1850ء سے 1856ء کے نقشے کے مطابق حل کیا جائے لیکن بھارت اس کا حل 1879ء کے نقشے کے مطابق چاہتا ہے ۔ نیپال نے بھارت کی تجویز کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا ہے ۔ یہ امر انتہائی دلچسپ ہے کہ کالا پانی کو نیپال اور بھارت نے نقشوں میں اپنی اپنی ملکیت ظاہر کی ہے ۔ کالا پانی نیپال کے مغربی سرے پر واقع ہے ۔ نیپال کی طرف سے دستاویز میں ;75;aleeکالی کے دریا کو اس کی سرحد کے طور پر دکھایا گیا ہے جبکہ بھارت کے نقشے میں ان حقائق کو جھٹلایا گیا ہے اور اس دریا کو ;75;utiyanghکے نام سے دکھایا گیا ہے ۔ بھارت کی طرف سے دریا کا نام تبدیل کئے جانے کے باعث دونوں ممالک کے مابین لڑائی تاحال جاری و ساری ہے ۔ ابھی گزشتہ ہفتے نیپالی وزیر اعظم کے پی اولی نے بھارت کو تنبیہ کی ہے کہ کالا پانی نیپال،بھارت اور تبت کے مابین ایک سہہ فریقی مسئلہ ہے اور بھارت کو فوری طور پر وہاں سے اپنی فوج ہٹا لینی چاہیے ۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کالا پانی نیپال کا حصہ ہے ۔ یہ پہلا موقع ہے جب نیپالی وزیر اعظم نے بھارت کے نئے سرکاری نقشے سے پیدا ہونے والے تنازعے پر عوامی طور پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ۔ بھارت نے نئے نقشے میں کالا پانی کو اپنے علاقے کے طور پر پیش کیا ہے ۔ کے پی اولی نے کمیونسٹ پارٹی کے نیپال یوتھ ونگ ’نیپال یوا سنگم‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ہم اپنی ایک انچ زمین بھی کسی کے قبضے میں نہیں رہنے دیں گے ۔ بھارت یہاں سے فوری طور پر نکلے ۔ اگر بھارت ہماری سرزمین سے فوج واپس ہٹا لے گا تو ہم اس کے بارے میں بات کریں گے ۔ اپنی زمین کا ایک انچ بھی کسی کو نہیں لینے دیں گے ۔ وزیر اعظم کے پی اولی کے بیان پر فوری طور پر بھارت سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ نیپال کی سرحد پربھارت کے نئے نقشے میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے ۔ بھارتی نقشے میں کالا پانی کو شامل کیے جانے پر نیپال میں ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں ۔ اس معاملے پر حکمران جماعت اور حزب اختلاف دونوں متحد ہیں ۔ نیپال کی وزارت خارجہ نے اسی ماہ کے آغاز میں ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ کالا پانی نیپال کا حصہ ہے ۔ نیپالی کانگریس کے ترجمان وشو پرکاش شرما نے ٹوءٹر پر لکھا کہ پارٹی کے سربراہ شیر بہادر دیوبا نے آل پارٹی میٹنگ میں کہا ہے کہ جس نیپالی سرزمین پر بھارتی فوجی ہیں انھیں وہاں سے جانے کے لیے کہا جائے ۔ سماج وادی پارٹی نیپال کے رہنما اور سابق وزیر اعظم بابو رام بھٹارئی کا بھی یہ کہنا ہے کہ وزیر اعظم اولی انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے کالا پانی کے علاقے کے بارے میں بات کریں ۔ اپوزیشن کے مطالبے پر نیپالی وزیر اعظم اولی نے کہا حکومت اس سرحدی تنازعہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرے گی ۔ غیر ملکی فوجیں ہماری سرزمین سے واپس جائیں ۔ اپنی زمین کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے ۔ اگر ہم کسی اور کی زمین نہیں چاہتے تو ہمارے ہمسایہ ممالک کو بھی اپنی سرزمین سے فوجیوں کو واپس بلانا چاہیے ۔ ہم میں سے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ نقشے کو درست کرنا چاہیے ۔ یہ تو ہم ابھی کر سکتے ہیں ۔ یہیں پر کرسکتے ہیں ۔ یہ نقشے کی بات نہیں ہے ۔ معاملہ اپنی زمین واپس لینے کا ہے ۔ ہماری حکومت زمین واپس لے گی ۔ نقشہ تو پریس میں پرنٹ ہو جائے گا ۔ لیکن یہ معاملہ نقشہ چھاپنے کا نہیں ہے ۔ نیپال اپنی سرزمین واپس لینے کا اہل ہے ۔ ہم نے ساتھ مل کر یہ مسئلہ اٹھایا ہے اور یہ ساتھ بہت اہم ہے ۔ اس سے قبل نیپالی حکومت نے اس مسئلے کو اس طرح سے طے نہیں کیا جس طرح سے اس کو کیا جانا چاہیے تھا ۔ فارن افیئرز کی کمیٹی نے ایک بیان جاری کیا ہے کہ سستا اور کالا پانی کے علاوہ باقی تمام بارڈرز کے مسائل حل ہوچکے ہیں لیکن ایسی بہت سی جگہیں ہیں جن پر بھارت نے قبضہ کیا ہے ۔ اگرچہ دیر سے ہی سہی‘ نیپالی حکومت اور پارلیمنٹ معاملے کی سنگینی سے ;200;گاہ ہوتے جارہے ہیں ۔ جس کا اندازہ ارکا ن پار لیمنٹ کے سستا کے علاقے کے حالیہ دورے سے لگایا جاسکتا ہے جبکہ غیرملکی تعلقاتی کمیٹی بھی اس امر پر گہری نگاہ مرتکز کئے ہوئے ہے ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر نیپالی وزیراعظم اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ مسئلہ حل نہ ہو ۔ نیپال اور بھا رت کے درمیا ن نیپا لی علاقے پر طویل عرصہ سے ایک جنگ جاری ہے ۔ نیپال اور بھارت کے درمیان سرحد1,808 کلو میٹر طو یل ہے اور نیپال کے 26اضلاع انڈین سرحد سے ملتے ہیں ۔ درحقیقت بھارت کی بڑھتی ہوئی ;200;بادی کے پیش نظر لوگوں نے نیپال کے علاقے میں قائم جنگلات کا صفایا کرکے وہاں پر رہائش اختیار کرلی اور تاحا ل یہ جنگ جاری ہے ۔ اگر نیپال نے گریٹر نیپال کے نقطہ نظر کو درست ثابت کرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ نیپال کی ;200;نے والی نسلیں اپنے کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ واپس حاصل کریں جو کل نیپال کا ایک چوتھائی حصہ ہیں ۔ بالکل اسی طرح جس طرح چائنا نے ہانگ کانگ برطانیہ سے حاصل کیا ہے ۔ نیپال کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر بھارتی عناصر کی مذموم سرگرمیوں کی روک تھام کرے کیونکہ بھارت نیپال اور دوسرے مسلم ملکوں کی زمینوں پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے اور ان سے تعلقات خراب کرنے پر تلا بیٹھا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں