adaria 72

بھارت خام خیالی میں نہ رہے ، دندان شکن جواب دیا جائے گا

بھارت جنگی جنون میں دیوانہ ہوچکا ہے اور اسے اس وقت کچھ بھی نظر نہیں آرہا، کنٹرول لائن پر آئے دن بلا اشتعال فائرنگ معمول کا حصہ بن چکی ہے ۔ جس میں معصوم شہری شہید ہورہے ہیں ، پھر مقبوضہ کشمیر میں انتہا کررکھی ہے، متنازع قانون شہریت کی وجہ سے بھی بنیادی انسانی حقوق کی حد درجہ خلاف ورزی جاری ہے، اب رہی سہی کسر بھارت ایسا ایکٹ لے کر آیا ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو بلا وارنٹ گرفتار کیا جاسکتاہے اس کو حراست میں رکھا جائے گا، نہ وہ وکیل کرسکتا ہے، نہ ہی کسی سے ملاقات کرسکتا ہے ، پھر حراستی مراکز میں نوجوانوں کو رکھنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جہاں پر ان پر ظلم و ستم ڈھایا جائے گا، یہ حراستی کیمپ ہٹلر سے متاثر ہوکر مودی بنارہا ہے جیسا کہ نازی دور میں ہوتا تھا ۔ جس دن سے مودی کی حکومت آئی ہے اسی دن سے خطے کا امن تہہ و بالا ہے ۔ خصوصی طورپر پاکستان کیخلاف تو بھارت ہر وقت کسی نہ کسی الزام تراشی میں مصروف رہتا ہے اور اب وہ فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی کررہا ہے اسی وجہ سے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اسے دو ٹوک انداز میں بتا دیا ہے کہ اگر اسی طرح حملے جاری رہے تو پاکستان کا خاموش رہنا مشکل ہو جائے گا ۔ بھارت یہ جان لے کہ پاک مسلح افواج ہر طرح سے تیار ہیں اور اگر مودی نے کوئی بھی مذموم حرکت کی تو اسے دندان شکن جواب دیا جائے گا ۔ 1965 کی جنگ بھارت یاد کرلے اور اگر مودی ماضی بھلا بیٹھا ہے تو ابھی نندن کا واقعہ بالکل تازہ ہے اس سے بھی زیادہ بھارت کو ہولناک جواب دیا جائے گا جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں اس وقت پورا بھارت پاکستان کے ٹارگٹ پر ہے ۔ عمران خان نے بین الاقوامی برادری کو بھی آگاہی کرا دی ہے ایسے میں دنیا کی سپرپاورز کا فرض بنتا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر مودی کو اس کے مذموم عزائم سے روکنے کیلئے خاطر خواہ کردارادا کرے ورنہ پورا خطہ آگ میں بھسم ہو جائے گا ۔ بھارت کسی خام خیالی میں نہ رہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب ساءٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ میں بھارت کے ساتھ ساتھ عالمی برادری پر بھی واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر بھارت جنگ بندی لکیر کے اس پار عسکری حملوں میں نہتے شہریوں کے بہیمانہ قتل عام کا سلسلہ دراز کرتا ہے تو پاکستان کیلئے خاموش تماشائی بنکر بیٹھے رہنا مشکل ہو جائے گاسیاسی مافیا نے ملائیشیاکو دیوالیہ ، مقروض اور ریاستی اداروں کو تباہ کر دیا میں بھی بڑی سیاسی مافیاز جیسی مشکلات کا مقابلہ کر رہاہوں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کنٹرول لائن پر کچھ ہوا تو خاموش نہیں رہیں گے ،جنگ بندی لکیرکے اس پار نہتے شہریوں پر مقبوضہ بھارتی افواج کے شدت پکڑتے اور معمول بنتے حملوں کے پیش نظر لازم ہے کہ سلامتی کونسل عسکری مبصر مشن کی مقبوضہ کشمیر میں فی الفور واپسی کیلئے بھارت پر دباوڈالے ۔ ہ میں بھارت کی جانب سے ایک خودساختہ;47;جعلی حملے کا سخت اندیشہ ہے ۔ ایک اور بیان میں انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیاکے سب سے تجربہ کار اور کامیاب سیاستدان ڈاکٹر مہاتیر کا بھی بالکل اسی قسم کے مسائل سے سابقہ رہا جن کاسامنا آج میری حکومت کو ہے ۔ ان کی راہ میں بھی وہی سیاسی مافیا حائل ہوا جس نے اداروں کی تباہی کے ذریعے ملائیشیا کوقرض کی دلدل میں دھنسایا اور اسکا دیوالیہ نکال دیا ۔ دوسری جانب شہریت کے منتازع قانون کے خلاف احتجاج سے خوفزدہ بھارتی حکومت نے دارالحکومت نئی دہلی میں بھی نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) نافذ کردیا ۔ نئی دہلی میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ احتجاج کر رہے ہیں جس میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں ۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے بل پیش کیا گیا جس کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں ۔ متنازع شہریت بل بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد باقاعدہ قانون کا حصہ بن گیا ہے ۔ اُدھر مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 169ویں روز بھی فوجی محاصرے اور انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموں خطے کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو شدید مشکلات سامنا رہا ۔ دریں اثنا قابض حکام نے بھارتی وزرا کے ایک گروپ کے دورے کے موقع پر سیکیورٹی کے نام پرمقبوضہ کشمیر میں پابندیاں مزید سخت کردی ہیں ۔

آٹا بحران کے اصل مضمرات تلاش کرنے کی ضرورت

پہلے ہی ملک میں مہنگائی جیسا بحران موجود تھا اوپر سے آٹے کی قلت نے سونے پہ سہاگہ کردیا، حکومت کو آٹا بحران کی اصل وجوہات تلاش کرنا ہوں گی کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے یہ مسئلہ سرپر آن کھڑا ہوا ہے گوکہ وفاقی وزیر خسروبختیار نے کہہ دیا ہے کہ تین دن میں اس مسئلے پر قابو پالیں گے ۔ جہانگیر ترین بھی اس حوالے سے متحرک ہیں ۔ مگر ہم پھر حکومت کو یاد دلاتے ہیں کہ کسی بھی بحران کے آنے سے قبل جب تک منصوبہ بندی نہیں کی جائے گی اسی طرح کے گھمبیر حالات پیدا ہوتے رہیں گے ۔ ملک بھر میں آٹے کا بحران شدید ہوگیا، مختلف شہروں میں ایک ہی روز میں فی کلو آٹے کی قیمت میں دس روپے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، لاہور میں چکی مالکان 70 روپے فی کلو آٹا فروخت کرنے پر اڑ گئے ہیں ، اسلام آباد میں 15کلو فائن آٹا 750 سے بڑھا کر 880 روپے کا کردیا گیا ، پشاور میں 20 کلو فائن آٹے کا تھیلا 100 روپے اضافے کے بعد 1250 روپے میں فروخت ، کوءٹہ میں 20 کلو آٹے کی بوری 1120 روپے کی ہو گئی ۔ کراچی میں آٹے کی قیمت ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے ریکارڈ بنا رہی ہے ۔ صرف پانچ ماہ میں دس کلو آٹے کی قیمت میں دو سو سے ڈھائی سو روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ فائن ہو یا چکی دس کلو آٹے کی قیمت 700 روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران سندھ میں گندم کی 100 کلو والی بوری کی قیمت 1300 روپے اضافے سے 5 ہزار 300 روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ چند ماہ قبل وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے آگے گندم کے ممکنہ بحران کے حوالے سے متعدد مرتبہ خطرے کی گھنٹیاں بجانے کے باوجود حکومت بنیادی ضرورت کی اس چیز کی قلت اور اس کی بڑھتی قیمتوں کو روکنے میں ناکام رہی ۔ اگرچہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے گندم کے وافر ذخائر دستیاب ہیں لیکن خدشات ہیں کہ اسٹریٹجک سطح پر ذخائر کو 2 لاکھ ٹن پر برقرار رکھنا ہوگا اسلئے حکومت نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری سے اب شاید وسط ایشیائی ممالک یا آسٹریلیا یا پھر دنیا کے کسی بھی ملک سے 2 سے 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کو گزشتہ سال ستمبر اور اکتوبر میں ہونے والے باضابطہ اجلاسوں میں آگاہ کیا گیاتھا کہ ملک میں ممکنہ طور پر گندم اور آٹے کا بحران ا ٓسکتا ہے اور جنوری 2020 میں ش دید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں لیکن حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کیلئے کچھ نہیں کیا، بحران سندھ سے پیدا ہوا لیکن اب پورے ملک میں پھیل چکا ہے جس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں ۔

جیلوں کی حالت زار توجہ طلب

جیل میں قیدیوں کو بھیجنے کا مقصد ان کی اصلاح ہوتا ہے لیکن اگر وہاں پر بنیادی سہولیات ہی ناپید ہوں تو پھر جرائم کی بیخ کنی نہیں بلکہ ان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ہماری جیلوں کی حالت زار یہ ہے کہ وہاں پر قابل ذکر سہولیات میسر نہیں ہیں ، قیدیوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں کا جیسا سلوک رکھا جاتا ہے ، جیلوں کے پاس کوئی ایمبولینس سروس نہیں ، دیگر سہولیات بھی خال خال ہی نظر آتی ہیں ۔ میڈیا میں شاءع شدہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی طبی حالت کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آگئیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی حکومتی رپورٹ میں جیلوں میں طبی سہولیات کی کمی کی بھی نشاندہی ۔ رپورٹ کے مطابق 245 جیل قیدیوں کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواستیں محکمہ داخلہ میں زیر التوا،سندھ کی 232،پنجاب کے قیدیوں کی 12 ضمانت کی درخواستیں زیر التوا ہیں ،طبی سہولیات نہ ملنے کچھ قیدی جسمانی طور پر معذور ہوجاتے ہیں ، جیل ہسپتالوں میں الٹرا ساونڈ،آکسیجن سلنڈرز،ای سی جی مشینز،لیبارٹریز کی کمی،پنجاب کی 10 فیصد جیلوں میں ایمبولینس کی سہولت میسر ہی نہیں ،رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی جیلوں کے لیے صرف چار ایمبولینسز موجود، ملک بھر کی جیلوں میں سے صرف خیبر پختونخوا میں دو دانتوں کے ڈاکٹر موجود،ملک کی 96 جیلوں میں قید 73 ہزار سے زائد قیدیوں کے لیے صرف 193 میڈیکل آفیسرز،جیلوں میں 107 میڈیکل آفیسرز کی آسامیاں خالی ہیں ،ملک بھر کی جیلوں میں 65 فیصد سے زیادہ قیدی سزا یافتہ ہی نہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں