تازہ ترین
Home » کالم » سوچ بچار » بھارت میں ہندو انتہا پسندی کا جن بے قابو

بھارت میں ہندو انتہا پسندی کا جن بے قابو

بھارت میں مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی میں بھارت دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف پائی جانے والی انتہا پسندی برسوں سے حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ پورے ملک میں بدامنی اور بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ہندو انتہا پسندی کی انتہا تویہ ہے کہ اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے راج میں ان کی کرسی اور صوفہ کا رنگ پہلے بھگوا ہوا، پھر سرکاری عمارتوں میں یہی رنگ چڑھا اور اب بھگوا رنگ بریلی کے ایک کالج تک پہنچ گیا ہے۔ بھگوا بیگ کالج میں آتے ہی اس کی مخالفت بھی شروع ہو گئی ہے۔ بریلی کالج میں سیلف فنانس کورس کے طلبا کو تقسیم کرنے کے لیے بھگوا رنگ کا بیگ تیار کیا گیا ہے۔ بیگوں کا رنگ دیکھ کر طلبا کے ایک گروپ نے ہنگامہ آرائی کی اور بیگوں کو نذرِ آتش کرنے کی دھمکی بھی د ی۔ بریلی کالج میں اتوار کو طلبا کے دو گروپ پہنچے اور دونوں نے خوب ہنگامہ کیا۔ دونوں گروپ نے پرنسپل کا محاصرہ بھی کیا۔ ’سماجوادی چھاتر سبھا‘ نے بھگوا رنگ کے بیگ تقسیم کیے جانے کی مخالفت کی جب کہ اے بی وی پی نے بھگوا بیگ تقسیم کیے جانے کی حمایت میں آواز اٹھائی۔ ہنگامہ بڑھتا ہوا دیکھ کر کالج میں پولیس کو بلانا پڑ گیا لیکن پولیس کے پہنچتے ہی طلبا کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ سماجوادی چھاتر سبھا کا مطالبہ ہے کہ بیگ کا رنگ بدلا جائے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ سبھی بیگوں کو آگ کی نذر کر دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر بار نیلے رنگ کا بیگ طلبا کو دیا جاتا تھا، لیکن اس بار بھگوا رنگ کا بیگ دیا جا رہا ہے۔ بریلی کالج کے بی بی اے، بی سی اے، ایم لب، بی لب اور ڈپلوما کورس سمیت سبھی سیلف فنانس کورس کے طلبا کو ہر سال کالج کی طرف سے بیگ دیا جاتا ہے۔ سرکاری فرمان کی تعمیل کرنے کو مجبور پرنسپل اجے شرما کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ ’’ہر سال بچوں کو بیگ دیے جاتے ہیں، اس بار بھی بیگ دینے کے لیے منگائے گئے ہیں۔ اس میں کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ احتجاج کیا جائے۔‘‘ہندو انتہا پسندی کی ایک اور مثال تاج محل میں توڑ پھوڑ ہے۔ بھارتی انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشدکے ایک گروہ کی جانب سے مغل حکمران شاہجہاں کے تعمیر کردہ شاہکار تاج محل کا مغربی دروازہ تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انتہا پسندوں کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ آرکیالوجیکل سروے انڈیا (اے ایس ائی) کی جانب سے تاج محل کے لیے کی جانے والی ایک تعمیر سے 400 سال پرانے شیو مندر کا راستہ بند ہورہا ہے۔ وی ایچ پی کے کارکنوں نے ہتھوڑے اور لوہے کی سلاخیں ہاتھوں میں لیے تاج محل کی مغربی داخلی راستے پر موجود بسائی گیٹ پر توڑ پھوڑ کی۔مشتعل افراد نے اے ایس آئی کی جانب سے نصب کردہ گھومنے والا دروازہ اکھاڑ پھینکا اس دوران وہ شدید نعرے بازی بھی کرتے رہے، جبکہ پولیس نے انہیں آگاہ بھی کیا کہ بسائی گیٹ سے سدہیشور مہادیو مندر جانے کے لیے متبادل راستہ موجود ہے، لیکن مشتعل افراد اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئے۔ اے ایس آئی نے توڑ پھوڑ کرنے والے وشوا ہندو پریشد کے 5 افراد سمیت معاونت فراہم کرنے والے 20 سے 25 افراد کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا، جس کے مطابق مشتعل افراد نے سرکاری اہلکاروں کو ان کے فرائض کی انجام دہی سے روکنے اور پبلک پراپرٹی کونقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہیں تاج محل کی حفاظتی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی اور مشتعل افراد کو مزید توڑ پھوڑ کرنے سے روک دیا۔ ملزمان نے کہا کہ اے ایس آئی تاج محل کے اطراف سے ہندو ثقافت سے منسلک تمام چیزیں ختم کررہی ہے جس کے باعث ہم نے یہ قدم اٹھایا۔ان کا کہنا تھا کہ آج سے 15 سال قبل مغربی دروازے پرساتسنگ ہوا کرتا تھا جسے روک دیا گیا، جبکہ تاج محل کے قرب و جوار میں دسہرے کی تقریبات سے بھی منع کردیا گیا، جبکہ پہلے لوگ تاج محل کے قریب موجود آملہ کے درخت پر آملہ نوامی کی رسم ادا کرتے لیکن اے ایس آئی نے اس درخت کو بھی کاٹ دیا۔ملزمان کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ علاقے میں آج سے 14، 15 سال قبل بہت سی چیزیں ہوتی تھیں، لیکن سماج وادی پارٹی، اور بہوجن سماج پارٹی کی حکومت میں سب ختم کردیا گیا، لیکن ہم مزید ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اے ایس آئی دعوی کررہی ہے کہ مندر جانے کا متبادل راستہ موجود ہے، جبکہ وہ انتہائی تنگ پگڈنڈی ہے جس پر پیدل سفر بھی دشوار ہے، اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور اے ایس آئی میں بات چیت جاری ہے ہمیں امید ہے کہ کوئی حل نکل آئے گا۔یہ حقیقت ہے کہ ہندو انتہا پسندوں کا ہدف صرف مسلمان اور سکھ نہیں نچلی زات کے ہندو اور مسیحی بھی نشانے پر ہیں۔ مدھیہ پردیش، کیرالہ، کرناٹکہ، اوڑیسہ، گجرات میں مسیحیوں پر زندگی تنگ کی جارہی ہے۔ وشواہندو پریشد کے غنڈے مسیحی آبادیوں پر حملے کر رہے ہیں اور چرچ اور مسیحیوں کی املاک کو تباہ کر رہے ہیں مگر ان کو روکنے والا کوئی نہیں۔ 2014 میں عین کرسمس کے دن کھرگون، کھنڈوا اور ہرہانپور کے مسیحیوں پر منظم حملے کئے گئے۔ کشمیری مسلمانوں کا قتل عام ساری دنیا دیکھ رہی ہے مگر پوری دنیا کے ممالک نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ بھارت اس وقت مکمل انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں جا چکا ہے اور بھارت کا سیکولرازم کا چہرہ مسخ ہو چکا ہے۔ حیرت ہے کہ پوری دنیا کو پرامن بنانے کی جدو جہد کا دعوی کرنے والا ملک امریکہ جس نے کل تک تو نریندر مودی کو اس کی انتہا پسندی کی بنا پر امریکہ کا ویزا دینے سے انکار کیا تھا آج وہی امریکہ بھارت کے کہنے پر کشمیر میں آزادی کی جدو جہد کرنے والے فریڈم فائٹر سید صلاح الدین کو دہشت قرار دیتا ہے۔ دنیا کا امن اسی صورت قائم رہ سکتا ہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندی کے جن کو بوتل میں بند کیا جائے۔ مذہبی اقلیتوں پر تشدد، ان سے ناروا سلوک زبردستی مذہب کی تبدیلی اور ان کو خوف وہراس کا نشانہ بنانا کوئی نئی بات نہیں۔ اس حقیقت کو آشکار کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے کہ اس کا ذمہ دار بھارت کا غیر مستعد عدالتی نظا م ہے جہاں ان قوانین کو عمل پیرا نہ کروانے میں حکومتی سرکار ملوث ہے۔ اسکے باوجود بھارت دنیا کے سامنے سیکولر ملک ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ بھارت کی سیاسی جماعتیں اور میڈیا دنیا کے سامنے اقلیتوں کو ان کے حقوق کی فراہمی کا پرچار کرتی ہیں جبکہ پاکستان کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہاں اقلیتوں کو انکے بنیادی حقوق فراہم نہیں کیے جا رہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی اور مذہبی اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔تنظیم کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ورلڈ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں حکومت کے ناقد سول سوسائٹی کے گروپوں کو نہ صرف فنڈنگ کی بندش بلکہ بڑھتی ہوئی پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے تنقید کو دبانے کی کوشش ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی کی قدیم روایت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ بھارت میں حکمران جماعت کے کچھ رہنماؤں کی جانب سے مسلم مخالف بیانات کا چلن تشویش ناک ہے اور اس سے مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔جب بھارت میں چار مسلمانوں کو گائے مارنے کے شبہ میں ہلاک کیا گیا تو اس کے خلاف مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے آواز اٹھائی لیکن بی جے پی کے کچھ رہنماؤں نے اس پر مشتعل ہو کر جو بیان دیے اس سے آواز اٹھانے والے افراد کو بھی دھمکی آمیز پیغامات ملنے لگے۔رپورٹ میں گرین پیس انڈیا کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے مذکورہ تنظیم کے علاوہ فورڈ فاؤنڈیشن سمیت کئی دیگر تنظیموں کو نشانہ بنایا ہے اور ان کی غیر ملکی امداد روک دی گئی ہے۔

 

About Admin

Google Analytics Alternative