Home » کالم » بھارت کو سفارتی سطح پر ایک اور شکست کا سامنا
adaria

بھارت کو سفارتی سطح پر ایک اور شکست کا سامنا

بھارت کو بین الاقوامی سطح پرمسئلہ کشمیر کے حوالے سے پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا، مالدیپ میں ہونے والی چوتھی جنوبی ایشیائی اسپیکر کانفرنس میں بھارتی موقف کو قطعی طورپر مسترد کرتے ہوئے اسے ناک آءوٹ کردیا، جب پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آواز اٹھائی تو بھارتی وفد نے شوروغوغا مچاتے ہوئے اس کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا لیکن کانفرنس میں بھارتی موقف تسلیم نہیں کیا گیا ۔ ان تمام کے باوجود بھارت پھر بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو28روز گزرچکے ہیں لیکن کشمیری بھی اپنے موقف پر مکمل طورپر ڈٹ چکے ہیں کہ انہیں آزادی کے سوا کچھ بھی قبول نہیں ۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے اسلامی سوساءٹی آف نارتھ امریکہ کے کنونشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نازیوں نے ثابت کیا تھا چھوٹا مگر منظم نظریاتی گروہ ملک پر کیسے قبضہ کرسکتا ہے اور ایسا ہی کچھ بھارت میں بھی ہورہا ہے ۔ شدت پسندانہ نظریات نے بھارت پر قبضہ کرلیا ہے ۔ بی جے پی حکومت کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرکے اسے مسلم اکثریتی صوبے اقلیتی صوبہ بنانا چاہتی ہے جو چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کی خلاف ورزی ہے کسی بھی مقبوضہ زمین کی ڈیموگرافی تبدیل نہیں کرسکتے ، مقبوضہ کشمیر میں آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کی نسل کشی کررہے ہیں بھارت عالمی توجہ ہٹانے کیلئے فروری کی طرح آزاد کشمیر میں کارروائی کرسکتا ہے ۔ ہندو قوم پرست جماعت آر ایس ایس کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ حکمران جماعت بی جے پی کی سرپرستی کرنے والی جماعت ہے ، میں اپنی پوری کوشش کررہا ہوں لیکن آپ کو بھی اس پلیٹ فارم سے کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ لوگوں کو بی جے پی کے فلسفے کے حوالے سے آگاہ کیا جاسکے، مغربی ریاستوں کو آر ایس ایس کے بارے میں سمجھانا ہوگا ۔ یہ جماعت ہندونسل پرستی اور بھارت سے اس کی تخلیق کے بارے میں حقائق جانے، بی جے پی انتخابات جیت کر مزید قوت کے ساتھ واپس آئی ہے ۔ ہم اربوں لوگوں کے ملک کی بات کررہے ہیں جہاں جوہری ہتھیار انتہا پسند سوچ کے ہاتھوں میں ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست کہا کیونکہ مودی جس نازی نظریے پر کارفرما ہے دنیا ان کا ماضی دیکھ لے کہ انہوں نے کس طرح زندہ لوگوں کو گیس چیمبر میں نذر آتش کردیا تھا ۔ دنیا کو اس کا نوٹس لینا ہوگا گو کہ سفارتی سطح پر بھارت کو ناکامیوں پر ناکامیاں ہورہی ہیں ۔ مالدیپ میں ہونے والی چوتھی ایشین اسپیکرز کانفرنس کے دوران پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر اٹھائے جانے پر بھارتی لوک سبھا کے اسپیکر آپے سے باہر ہو گئے،پاکستان نے بھارت کو مکمل ناک آوٹ کردیا، پاکستانی وفد نے بھارتی وفد کو آئینہ دکھادیا،وفود میں تلخ کلامی ، گرما گرمی ، مالدیپ کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد نشید صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ، کھانے کا وقفہ کردیا ، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی تقریر کے دوران کشمیر سے اظہارِ یکجہتی پر بھارتی وفد نے ہنگامہ کھڑا کر دیا اور بھارتی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اپنے وفد کے ہمراہ شور شرابا شروع کر دیا، تاہم کانفرنس نے بھارتی اعتراض مسترد کردیا ،پوائنٹ آف آرڈر پر پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر قرا العین مری نے کہا کہ ایس ڈی جی خواتین، نوجوان، فوڈ سیکورٹی سمیت دیگر تمام معاملات کے حوالے سے ہے اور انسانی حقوق کے بغیر کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ سینیٹر نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ زیادہ لوگوں کو ایس ڈی جی کے مقاصد میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو آپ پرعمل کس کے لیے جارہا ہے صرف زمین کے لیے، کشمیر میں خواتین پر ہونے والے مظالم بھی براہ راست ایس ڈی جی سے منسلک ہیں اس لیے پاکستانی اسپیکر کو اپنی تقریر مکمل کرنے دی جائے، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بھارتی وفد کے شور کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کا پردہ فاش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور کشمیریوں کے لیے بھرپور آواز اٹھائی،انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نا انصافی کوئی بھی ہو وہ ہر جگہ انصاف کے لیے بڑاخطرہ ہے، اگر اقوام میں امتیاز موجود ہو تو دنیا ایک محفوظ جگہ نہیں بن سکتی ۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اگر جمہوریت پسے ہوئے طبقے بالخصوص خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے تو وہ اپنے عوام کی صحیح نمائندگی کا دعوی نہیں کرسکتی ۔ قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ اگر ہم پرامن اور جمہوری ایشیا کی تعمیر چاہتے ہیں تو فلسطینیوں ، روہنگیا کے مسلمانوں اور ظلم وستم کا شکار کشمیریوں کی حالت زار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم و ستم کا شکار کشمیریوں کی حالت زار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، بین الاقوامی برادری کو ظلم وستم کا شکار ان نظر انداز افراد کے خلاف نا انصافیوں کا ازالہ کرنا ہوگا ۔ قاسم خان سوری نے اپنی تقریر مکمل کی تاہم دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ڈپٹی چیئرمین ہرویناش ناریان سنگھ نے کہا کہ بھارت کے اندرونی معاملے کو اس سطح پر اٹھانے کی مذمت کرتے ہیں جس کا سمٹ سے کوئی تعلق نہیں ، ناریان سنگھ کے جواب میں پاکستانی سینیٹر قر العین نے کہا کہ انسانی حقوق کی بحالی کے بغیر ڈویلپمنٹ نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر یوں کو سفاکیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بھارتی حکومت کی جانب سے 5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370ختم کیے جانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی بین الاقوامی فورم پر پاکستان اور بھارت کے حکومتی وفود آمنے سامنے آئے ۔ پاکستان کے ارکین پارلیمنٹ نے دنیا سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ۔ ذراءع کا بتانا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی تقریر کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی عزائم پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیے اور اپنی نشست پر واپس آکر بھی بھارتی وفد پر خود برسے ۔

کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دیناخوش آئند

پاکستان نے جاسوسی، دہشت گردی کے الزامات کے تحت سزا پانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان کرکے بھارت پر ایک مرتبہ پھر اپنی سفارتی برتری ثابت کردی ہے ۔ جنیوا کنونشن کے تحت پاکستان یہ کرنے کا پابند ہے لیکن بھارت کی جانب سے ایسے کوئی اقدام سامنے نظر نہیں آرہے حتیٰ کہ انڈیا نے یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کو بھی ان سے ملنے کی تاحال اجازت نہیں دی ہے ۔ تمام قومی و بین الاقوامی قوانین کو وہ لگاتار روند رہا ہے لیکن اس کو روکنے والا کوئی نہیں ۔ بھارت پورے خطے کو اس دہانے پر لے آیا ہے جہاں پر اتنی خطرناک تباہی پھیل سکتی ہے جس سے ساری دنیا متاثر ہوگی ۔ پاکستان ہر ممکن کوشش کررہا ہے کسی نہ کسی طرح دنیا بھارت کو اس کے مذموم عزائم سے روکے لیکن دنیا شاید اپنی مارکیٹ کی جانب توجہ دے رہی ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مارکیٹ پر توجہ ضرور دی جائے لیکن اگر خدانخواستہ دنیا میں اتنے وسیع پیمانے پر تباہی ہوتی ہے تو پھر کونسی مارکیٹ اور کیسی توجہ ۔ یہ ساری چیزیں تو اس وقت تک بھلی لگتی ہیں جب تک دنیا میں امن و امان قائم ہے لیکن بھارت نے صرف اس خطے کا نہیں پوری دنیا کا امن تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative